غیر ملکی کھلاڑیوں کی پی ایس ایل سے وابستہ خوشگوار یادیں

اپ ڈیٹ 08 فروری 2019

ای میل

گزشتہ 3 برسوں کے دوران  77 غیر ملکی کھلاڑیوں نے پی ایس ایل میں حصہ لیا—فوٹو: سوشل میڈیا
گزشتہ 3 برسوں کے دوران 77 غیر ملکی کھلاڑیوں نے پی ایس ایل میں حصہ لیا—فوٹو: سوشل میڈیا

پاکستان سپر لیگ( پی ایس ایل) دنیا کی بہترین کرکٹ لیگز میں سے ایک ہے جس میں گزشتہ 3 برس کے دوران 77 غیر مکی کھلاڑی حصہ لے چکے ہیں جو اس بیان کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

اس میں سب سے زیادہ انگلینڈ کے 24 کھلاڑی شریک ہوئے ا س کے بعد ویسٹ انڈیز کے 17، جنوبی افریقہ کے 9، بنگلہ دیش کے 7، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے 6،6 سری لنکا کے 4 زمبابوے کے 2 اور افغانستان اور نیدر لینڈ کے ایک ، ایک کھلاڑی نے حصہ لیا۔

ایک جانب جہاں پرستار ان کھلاڑیوں کی خدمات کو داد تحسین پیش کرتے ہیں، وہیں ان کھلاڑیوں نے اس کی تعریف میں کبھی کنجوسی نہیں برتی، جو پاکستانی کرکٹ کے پرستاروں اور غیر ملکی کھلاڑیوں کے درمیان منفرد رشتے کو ظاہر کرتا ہے اور وہ وقت کے ساتھ مضبوط ہورہا ہے۔

ذیل میں کچھ غیر ملکی کھلاڑیوں سے پی ایس ایل کے حوالے سے اپنے خوشگوار تجربات سے آگاہ کیا۔

لیوک رونکی(اسلام آباد یونائیٹڈ)

نیوزی لینڈ کے وکٹ کیپر اوپننگ بلے باز ہیں جو گزشتہ سیزن میں 182.00 اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ 435 رنز بنا کر پہلے نمبر پر رہے تھے۔

انہوں نے اسلام آباد یونائیٹڈ کی کامیابی میں بھی نمایاں کردار ادا کیا تھا اور 11 اننگز میں 5 نصف سنچریاں اسکور کی تھیں۔

لیوک رونکی کا کہنا تھا کہ ’جب گزشتہ برس ہم پی ایس ایل کا فائنل کھیلنے کے لیے کراچی میں اترے تو ہر طرف جوش و خروش دیکھنے کو ملا، اس شہر کی رونقیں دیکھ کر ایسا محسوس ہوا جیسے ہم کسی فیسٹول کا حصہ ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل سے بین الاقوامی اسٹارز بننے والے کھلاڑی

کراچی میں اسلام آباد یونائیٹڈ کے لیے پی ایس ایل کی ٹرافی جیتنا طویل عرصے تک میرے لیے انتہائی خوشگوار یاد رہے گی۔

ڈیرن سیمی (پشاور زلمی)

پی ایس ایل کے سب سےمقبول کھلاڑی ڈیرن سیمی نے دوسرے سیزن میں پشاور زلمی کی قیادت سنبھالی اور لاہور میں ہونے والے فائنل میں اپنی ٹیم کو ٹائٹل جتوایا۔

ان کا پاکستان سے بے پناہ لگاؤ کے اظہار اور مسلسل 4 سال سے پشاور زلمی سے وابستگی کی وجہ سے پرستار انہیں بہت پسند کرتے ہیں۔

ڈیرن سیمی کا پی ایس ایل کے بارے میں کہنا تھا کہ ’میرا پاکستان کے ساتھ بہت خوبصورت رشتہ ہے، ہر مرتبہ جب میں پاکستانی پرستاروں سے ملتا ہوں یا ان کے سامنے کھیلتا ہوں تو میرا دل خوشی سے بھر جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: ڈیرن سیمی کی آرمی پبلک اسکول آمد، شہدا کو خراج عقیدت پیش

انہوں نے کہا کہ 2017 میں جب ہم نے فائنل کے لیے لاہور میں قدم رکھا تو ہمیں معلوم تھا کہ ہم کرکٹ کھیلنے سے زیادہ اہم کام کررہے ہیں اس کے بعد سے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ آہستہ آہستہ واپس آرہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسٹیڈیم میں نوجوانوں کو کھیل سے لطف اندوز ہوتے ہوئے دیکھ کر امید ہوتی ہے وہ ہم کرکٹر سے ایک دو چیزیں سکھیں گے اور کرکٹ کی اگلی نسل کا بنیں گے۔

ڈیرن سیمی نے کہا کہ مجھے خوشی ہے ان سب میں میرا بھی مختصر لیکن بامعنی کردار ہے۔

روی بوپارہ(کراچی کنگز)

انگلینڈ کے معروف آل راؤنڈر روی بوپارہ پہلے سیزن کے دوران سب کی توجہ کا خاص مرکز تھے اور اس ٹورنامنٹ میں انہوں نے نہ صرف 329 رنز اسکور کیے بلکہ 11 وکٹیں بھی اڑائیں، جس میں سب سے نمایاں کارکردگی 43 بالز پر 71 رنز اور 16 رنز کے عوض 6 وکٹوں کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل 2019: گریم اسمتھ، میتھیو ہیڈن کمنٹری پینل کا حصہ بن گئے

اس کے ساتھ گزشتہ برس پشاور زلمی کے خلاف بھی انہوں نے 3 وکٹیں حاصل کی تھیں۔

پی ایس ایل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس لاہور کا جوش و جذبہ دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا ،میں بھلا نہیں سکتا کہ کس طرح ہمارا کھلے بازوؤں کے ساتھ استقبال کیا گیا، کیا بچے کیا بوڑھے سبھی کرکٹ کے لیے پر جوش تھے۔

مجھے یاد ہے کہ ہمارے زلمی کے ساتھ ہونے والے میچ سے قبل شدید بارش ہوئی اور منتظمین کو میدان تیار کرنے کے لیے ہیلی کاپٹر لانا پڑا، اس سے اندازہ لگائیے کہ یہ ان کے لیے کیا اہمیت رکھتا ہے۔

لیام ڈوسن(پشاور زلمی)

2018 میں شارجہ کے میدان پر پشاور زلمی کے لیے لاہور قلندر کے خلاف کھیلتے ہوئے اپنے پہلے ہی میچ میں انگلینڈ آل راؤنڈرلیام ڈوسن نے صرف 20 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں جو کسی بھی غیر ملکی کھلاڑی کا ٹورنامنٹ کا بہترین ڈیبیو اسکور تھا۔

ان کا بہترین اسکور کراچی کنگز کے خلاف میچ میں 17 رنز کے عوض 3 وکٹیں حاصل کرنا تھا۔

مزید پڑھیں: پی ایس ایل کے چوتھے ایڈیشن کا آفیشل ترانہ جاری

ڈوسن کا پی ایس ایل کے بارے میں کہنا تھا کہ پاکستان میں 3 میچ کھیلنا میرے لیے ایک بہت خوشگوار تجربہ تھا اور پاکستانی شائقین کا جوش وخروش قابلِ دید تھا جو چاہتے ہیں کہ بین الاقوامی کرکٹ ان کے ملک میں لوٹ آئے۔

مجھے یاد ہے کہ لاہور میں پلے آف میچ کھیلنے کے بعد میرے پاس دبئی واپس جانے کا آپشن موجود تھا لیکن میں کراچی کے فائنل میں شریک ہوا، اور جب میں وہاں گیا تو انتظامات دیکھ کر مجھے تحفظ کا احساس ہوا، مجھے خوشی ہے کہ میں نے یہ موقع نہیں گنوایا۔