بھارت میں زہریلی شراب پینے سے 92 افراد ہلاک

اپ ڈیٹ 09 فروری 2019

ای میل

متاثرین نے دو سماجی تقریبات کے دوران زہریلی شراب پی تھی، سینئر پولیس افسر — فائل فوٹو/دی ٹیلی گراف
متاثرین نے دو سماجی تقریبات کے دوران زہریلی شراب پی تھی، سینئر پولیس افسر — فائل فوٹو/دی ٹیلی گراف

شمالی بھارت کے مختلف دیہاتوں میں جعلی زہریلی شراب پینے سے 92 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ کئی افراد کی حالت غیر ہوگئی۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی 'اے پی' کے مطابق سینئر پولیس افسر اشوک کمار نے کہا کہ ریاست اتر پردیش میں زہریلی شراب پینے کے دو مختلف واقعات میں 26 افراد ہلاک ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ 13 ہلاکتیں ریاست اترکھنڈ میں ہوئیں جن میں سے بیشتر افراد بالپور کے گاؤں میں ہلاک ہوئے۔

اشوک کمار کا کہنا تھا کہ متاثرین نے دو سماجی تقریبات کے دوران زہریلی شراب پی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: ’زہریلی شراب سے ہلاک ہونے والوں میں تیار کرنے والے بھی شامل‘

ان کا کہنا تھا کہ پوسٹ مارٹم اور ابتدائی فرانزک رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تقریبات میں جن مشروبات کا استعمال کیا گیا ان میں الکوحل شامل تھی۔

واقعات کے بعد پولیس نے شراب کا غیر قانونی کاروبار کرنے والے 8 مشتبہ افراد کو گرفتار کرلیا، جبکہ ریاستی حکومت نے 12 پولیس سمیت 35 عہدیداروں کو معطل کر دیا۔

واضح رہے کہ بھارت میں زہریلی شراب پینے سے ہلاکتیں کوئی نئی بات نہیں۔

بھارت میں غیر قانونی طور پر فروخت ہونے والی شراب سستی ہوتی ہے جبکہ اثر بڑھانے کے لیے اکثر ان میں کیڑے مار دواؤں سمیت دیگر کیمیکلز ملائے جاتے ہیں۔

شراب کا غیر قانونی کاروبار بھارت میں انتہائی منافع بخش کاروبار ہے جہاں یہ کاروبار کرنے والے کوئی ٹیکس ادا نہیں کرتے اور غریبوں کو کم قیمت پر بھاری مقدار میں شراب فروخت کرتے ہیں۔