سعودی ولی عہد کی زندگی کے چند گمنام گوشے

اپ ڈیٹ 16 فروری 2019

ای میل

شہزادہ محمد بن سلمان — اے پی فائل فوٹو
شہزادہ محمد بن سلمان — اے پی فائل فوٹو

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا نام بہت کم عرصے میں سعودی عرب اور دنیا کے چند طاقتور ترین افراد میں شمار کیا جانے لگا ہے۔

33 سالہ شہزادے کو سعودی عرب کی فوج، خارجہ پالیسی، معیشت اور روز مرہ کی مذہبی اور ثقافتی زندگی پر اثر و رسوخ حاصل ہوچکا ہے، سعودی ولی عہد کو ہی اسلامی مملکت میں 2017 میں کرپشن کے خلاف شروع کی جانے والی مہم کا روح رواں سمجھا جاتا ہے جس کے دوران خزانے میں 100 ارب ڈالرز سے زائد جمع ہوئے۔

تو اس طاقتور شہزادے کی زندگی کے چند ایسے دلچسپ گوشے جانیں، جو 17 فروری کو پاکستان کے دورے پر آرہے ہیں، جسے ملکی معیشت کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جارہا ہے۔

سعودی ولی عہد کی ابتدائی زندگی کے بارے میں زیادہ تفصیلات سامنے نہیں آسکیں، بس یہ معلوم ہوا کہ وہ خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی تیسری اہلیہ کے سب سے بڑے بیٹے ہیں اور انہوں نے زندگی کا زیادہ وقت والد کے زیر سایہ گزارا ہے۔

امریکی اخبار 'نیویارک ٹائمز' 2015 کے ایک مضمون میں شہزادہ محمد بن سلمان کی زندگی کے بارے میں تفصیلات دی گئی تھیں۔

سعودی ولی عہد کے پاس قانون کی ڈگری ہے جو انہوں نے ریاض کی کنگ سعود یونیورسٹی سے حاصل کی جبکہ وہ اپنے والد کے لیے کئی طرح کے مشیروں کے کردار ادا کرچکے ہیں۔

انہیں واٹر اسپورٹس جیسے 'واٹر اسکینگ' پسند ہیں جبکہ آئی فونز اور ایپل کی دیگر ڈیوائسز کو استعمال کرتے ہیں، اسی طرح جاپان ان کا پسندیدہ ملک ہے جہاں وہ اپنے ہنی مون پر بھی گئے۔

نیویارک ٹائمز کو سعودی شاہی خاندان کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا 'محمد بن سلمان کو ہمیشہ اپنے عوامی کردار کے بارے میں فکر رہتی ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تمباکو نوشی اور رات گئے باہر گھومنے سے گریز کرتے ہیں'۔

تاہم انہیں مہنگی اشیا کی خریداری کرنا پسند ہے اور برطانوی روزنامے 'انڈپینڈنٹ' کی 2016 کی ایک رپورٹ کے مطابق انہوں نے جنوبی فرانس میں تعطیلات مناتے ہوئے ایک روسی تاجر کی کشتی کو پسند کر لیا اور پھر اسے 50 کروڑ یورو (اب کے 78 ارب پاکستانی روپے سے زائد) میں خرید بھی لیا۔

سعودی ولی عہد کی زیر ملکیت کشتی — فوٹو: بشکریہ وکی پیڈیا
سعودی ولی عہد کی زیر ملکیت کشتی — فوٹو: بشکریہ وکی پیڈیا

انہیں یہ کشتی ساحل پر ڈولتے ہوئے پسند آئی اور اس کی خریداری کا معاہدہ چند گھنٹوں میں طے پاگیا تھا۔

اسی طرح نومبر 2017 میں معروف مصور لیونارڈو ڈاونچی کی ایک نایاب پینٹنگ کو ایک گمنام شخص نے 45 کروڑ ڈالرز (48 ارب پاکستانی روپے سے زائد) میں خریدا تھا اور اس طرح یہ فن مصوری کا سب سے مہنگا شہ پارہ قرار پایا تھا۔

اگلے ماہ یعنی دسمبر 2017 میں انکشاف ہوا کہ اس پینٹنگ کو خریدنے والا کوئی اور نہیں بلکہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان تھے۔

دنیا کی مہنگی ترین پینٹنگ— اے ایف پی فائل فوٹو
دنیا کی مہنگی ترین پینٹنگ— اے ایف پی فائل فوٹو

برطانوی روزنامے 'دی گارجین' کی رپورٹ کے مطابق یہ انکشاف اس وقت ہوا جب امریکی انٹیلی جنس نے اس خریدار کو شناخت کیا تو معلوم ہوا کہ وہ سعودی ولی عہد ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ سلواتور مونڈی نامی اس پینٹنگ کے خریدار کی شناخت شہزادہ بدر بن عبداللہ کے نام سے ہوئی، جو ایک گمنام سعودی شہزادے ہیں، جو سعودی ولی عہد کے قریبی دوست ہیں اور ایک کمیشن کے سربراہی بھی کررہے ہیں۔

اس حوالے سے امریکی انٹیلی جنس کی رپورٹ کو 'نیویارک ٹائمز' اور 'وال اسٹریٹ جرنل' نے دیکھا، جس میں سعودی عرب کے طاقتور ترین ولی عہد کو اس پینٹنگ کا اصل خریدار قرار دیا گیا ہے، جن کے لیے یہ کام شہزادہ بدر بن عبداللہ نے کیا۔

دسمبر 2017 میں ابوظبہی میں قائم میوزیم 'لوورے' نے اعلان کیا تھا کہ اس پینٹنگ کو وہاں رکھا جائے گا۔

اسی طرح دسمبر 2017 میں نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ سعودی ولی عہد نے فرانس میں موجود ایک قلعے کو 30 کروڑ ڈالر سے زائد (33 ارب پاکستانی روپے) میں خریدا۔

پیرس میں واقع دنیا کا مہنگا ترین گھر — فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا
پیرس میں واقع دنیا کا مہنگا ترین گھر — فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا

دسمبر 2015 میں یہ رپورٹ سامنے آئی تھی کہ اس گھر کو مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے ایک گمنام خریدار نے 301 ملین ڈالر سے زائد ادا کرکے خریدا تھا اور اس طرح مہنگے ترین گھر کا پرانا ریکارڈ ٹوٹ گیا جو لندن کے پینٹ ہاﺅس کے پاس تھا جسے 221 ملین ڈالر میں فروخت کیا گیا تھا۔

پیرس کے قریب واقع یہ گھر 56 ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا اور اس کا ڈیزائن 17 ویں صدی کے محلات سے متاثر ہوکر تیار کیا گیا۔

اس سے ہٹ کر سعودی ولی عہد اپنے ملک کو تیل سے ہٹ کر بھی معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتے ہیں جس کے لیے انہوں نے 2016 میں طویل المعیاد اقتصادی منصوبے ویژن 2030 کا اعلان کیا تھا جس کا مقصد سعودی عرب کی معیشت کا انحصار تیل سے ختم کرنا ہے۔

اس منصوبے کے تحت 2017 میں انہوں نے 500 ارب ڈالرز کا شہر نوم بحیرہ احمر کے کنارے تعمیر کرنے کا اعلان بھی کیا۔

وہ سعودی خواتین کو گاڑیاں چلانے کی اجازت دینے کے فیصلے کے بھی روح رواں قرار دیئے جاتے ہیں، جبکہ ایسی ہی کافی اصلاحات پر کام جاری ہے۔

اب پہلی مرتبہ وہ پاکستان کے دورے پر آرہے ہیں جس کے دوران پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان کئی معاہدوں اور مفاہمتی یاد داشتوں پر دستخط ہوں گے جس میں سرمایہ کاری، معیشت، توانائی، داخلی سیکیورٹی، میڈیا، ثقافت اور کھیلوں سمیت مختلف شعبے شامل ہیں۔