پلوامہ حملہ: بھارتی سپریم کورٹ کا کشمیریوں کا تحفظ یقینی بنانے کا حکم

اپ ڈیٹ 22 فروری 2019

ای میل

بھارت کے مختلف حصوں میں کشمیریوں پر تشدد اور ہراساں کرنے کے واقعات سامنے آئے تھے—فوٹو: ہندوستان ٹائمز
بھارت کے مختلف حصوں میں کشمیریوں پر تشدد اور ہراساں کرنے کے واقعات سامنے آئے تھے—فوٹو: ہندوستان ٹائمز

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ کشمیر میں پلوامہ حملے کے بعد کشمیریوں پر حملے سے متعلق درخواست پر مرکزی حکومت اور 11 ریاستوں کو نوٹس جاری کردیا۔

نوٹس میں کشمیری طلبہ پر حملوں کو روکنے میں ان کی مداخلت کے لیے دائر درخواست پر جواب مانگا گیا ہے۔

بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق یہ نوٹس جموں اینڈ کمشیر، مہاراشٹرا، پنجاب، اترکھنڈ، بہار، اتر پردیش، ہریانہ، میگھا لایا، چھتیس گڑھ، مغربی بنگال، دہلی اور نیشنل کیپیٹل ریجن (این سی آر) کی ریاستوں کو جاری کیا گیا۔

مزید پڑھیں: کشمیر میں ریموٹ کنٹرول دھماکا، 44 بھارتی فوجی ہلاک

عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ مرکزی وزارت داخلہ تمام ریاستی حکومتوں کو یہ انتباہ جاری کرے کہ وہ اپنی متعلقہ ریاستوں میں کشمیریوں کا تحفظ یقینی بنائیں، ساتھ ہی ریاستی پولیس کے سربراہان کو کشمیریوں کی حفاظت یقینی بنانے کا کہا گیا ہے۔

خیال رہے کہ 14 فروری کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں خودکش حملے میں 44 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد بھارت کے مختلف حصوں میں کشمیریوں پر تشدد اور انہیں ہراساں کرنے کے واقعات سامنے آئے تھے۔

اس کے علاوہ بھارت میں مختلف الزامات میں متعدد کشمیری طلبہ کو حراست میں لیا گیا تھا اور انہیں کالجز سے معطل کردیا گیا تھا، یہاں تک کہ کچھ کشمیری طلبہ کو ہراساں کرکے ان کے مالک مکان نے جگہ خالی کرنے کا کہا تھا۔

پلوامہ حملہ

14 فروری کو مقبوضہ کشمیر میں کار بم دھماکے کے نتیجے میں 44 بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد نئی دہلی نے کسی بھی طرح کی تحقیقات کیے بغیر اس کا الزام پاکستان پر عائد کردیا تھا جسے اسلام آباد نے مسترد کردیا۔

بھارت نے الزام لگایا تھا کہ یہ حملہ کالعدم جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کی جانب سے کروایا گیا، ساتھ ہی انہوں نے اس حملے کے ماسٹر مائنڈ کی ہلاکت کا دعویٰ بھی کیا تھا۔

تاہم بغیر کسی ثبوت کے بھارت نے اس معاملے کو پاکستان سے جوڑدیا تھا اور پاکستان سے پسندیدہ ترین ملک کا درجہ واپس لے لیا تھا جبکہ پاکستان سپرلیگ کی نشریات پر بھی پابندی عائد کردی تھی۔

اس کے علاوہ بھارتی درآمدکنندگان نے پاکستانی سیمنٹ کی درآمد روک دی تھی جس کے نتیجے میں پاکستان کی سیمنٹ فیکٹریوں کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔

بھارت میں اور مقبوضہ کشمیر کے کئی علاقوں میں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے مسلمان شہریوں کے گھروں اور املاک کو نشانہ بنایا گیا تھا جس کے نتیجے میں درجنوں مسلمان خاندان محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہونے پر مجبور ہوگئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: پلوامہ حملہ: بھارت معلومات دے پاکستان تعاون کرنے کو تیار ہے، عمران خان

دوسری جانب وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارتی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے جواب دیا تھا کہ پاکستان پر الزام لگانا ایک منٹ کی بات ہے، بھارت اپنا ملبہ پاکستان پر پھینک رہا ہے اور اب دنیا اس سے قائل نہیں ہوگی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ دنیا نے پلوامہ میں ہونے والے حملے کی مذمت کی ہے اور کرنی بھی چاہیے تھی کیونکہ اس میں انسانی جانوں کا ضیاع ہوا ہے۔

تاہم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت سے آوازیں آرہی ہیں، جیسا کے جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے کہا کہ پاکستان پر الزام لگانا ’آسان راستہ‘ ہے لیکن بھارتی انتظامیہ یہ بھی تو دیکھے کے مقبوضہ کشمیر میں کیا ہو رہا ہے۔