عالمی اداروں نے ’بھارتی جارحیت‘ کے دعوے پر سوالات اٹھا دیے

اپ ڈیٹ 08 مارچ 2019

ای میل

ماہرین نے پاکستان میں کارروائی کے بھارتی دعوے کو سیاسی حربہ قرار دیا— فائل فوٹو: آئی ایس پی آر
ماہرین نے پاکستان میں کارروائی کے بھارتی دعوے کو سیاسی حربہ قرار دیا— فائل فوٹو: آئی ایس پی آر

واشنگٹن: امریکا کے سب سے معتبر دفاعی میڈیا ادارے جینز انفارمیشن گروپ نے بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول کے قریب دہشت گرد گروپ کے مبینہ کیمپ پر حملے اور 350 سے زائد افراد کو مارنے کے دعوے پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

لندن کے ادارے کے تجزیہ کار راہُل بیدی نے نیویارک ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مارنے کے حوالے سے جو کچھ بھی دعویٰ کیا گیا ہے وہ اب تک صرف افواہ ہے، انہوں نے ایک دہشت گرد گروپ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے لیکن خفیہ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان میں موجود ان کیمپوں کو کچھ عرصہ قبل ہی ختم کردیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: بھارتی ایئر فورس کی دراندازی کی کوشش، پاک فضائیہ کا بروقت ردِ عمل

انہوں نے کہا کہ یہ کسی بھی چیز سے زیادہ ایک سیاسی حربہ لگتا ہے، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو انتخابات سے قبل بھارت کی جانب سے کچھ قابل ذکر کارروائیوں کا نمونہ دکھانا تھا۔

بیدی نے خبردار کیا کہ پاکستان، کسی شدت پسند گروپ کی طرح نہیں بلکہ روایتی طور پر اس کا جواب دینے کا حق رکھتا ہے، وہ کب اور کہاں جواب دیں گے یہ صرف پاکستان جانتا ہے، یہ ایک خطرناک صورتحال ہے، خطرناک کام میں آگے رہنے کی پالیسی تیزی سے پروان چڑھ رہی ہے۔

نیویارک ٹائمز نے نئی دہلی میں بھارتی ماہرین اور سفارت کاروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کے فضائی حملے میں اہداف غیر واضح تھے کیونکہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے کشمیر حملے کا جواب دینے کے اعلان کے بعد اگر سرحد پر کچھ دہشت گرد گروپ کام کر بھی رہے ہوتے تو حالیہ دنوں میں انہیں ختم کردیا گیا ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں: مناسب وقت اور جگہ پر بھارتی مہم جوئی کا جواب دیں گے، پاکستان

ایک اور اہم عالمی نشریاتی ادارے بی بی سی نے بالاکوٹ کے علاقے جبا کے مقامی افراد سے انٹرویو کیے جن کے مطابق انہوں نے رات گئے پانچ دھماکے سنے، ان کا کہنا تھا کہ کچھ جھونپڑیوں کو نشانہ بنایا گیا اور درخت بھی جڑ سے اکھڑ گئے لیکن حملے میں کوئی بھی مارا نہیں گیا۔

لندن کے ادارے گارجین نے کہا کہ یہ بات واضح نہیں کہ جیٹ طیاروں کے حملے میں کسی خاص چیز کو نشانہ بنایا گیا یا نہیں یا پھر یہ آپریشن اس احتیاط سے انجام دیا گیا کہ پاکستانی جوابی کارروائی کا خطرہ مول لیے بغیر 14فروری کے خود کش حملے کے بعد جنم لینے والے غم و غصے کو کم کیا جا سکے۔

برطانوی اخبار نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ بالا کوٹ لائن آف کنٹرول سے 80 کلو میٹر دور خیبر پختونخوا میں اور پاکستان کی تسلیم شدہ حدود کے کافی اندر واقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت اب ہمارے جواب کا انتظار کرے، پاک فوج

اس بارے میں مزید کہا گیا کہ وہاں پر حملہ پچھلی بھارتی جوابی کارروائیوں میں تیزی کی نمائندگی کرے گا۔

معروف امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے نشاندہی کی کہ وزیر اعظم عمران خان نے وعدہ کیا تھا کہ پلوامہ میں دہشت گرد حملے کے بعد اگر بھارت نے کسی بھی قسم کی جارحیت کی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔