یروشلم میں امریکی قونصل خانہ بند، فلسطینی مشن کا درجہ کم کردیا گیا

اپ ڈیٹ 04 مارچ 2019

ای میل

امریکا نے گزشتہ سال یروشلم میں اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کر لیا تھا — فائل فوٹو: اے پی
امریکا نے گزشتہ سال یروشلم میں اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کر لیا تھا — فائل فوٹو: اے پی

امریکا نے یروشلم میں اپنا قونصل خانہ باضابطہ طور پر بند کردیا اور سفارتخانہ اسرائیل منتقل کر کے فلسطینیوں کے لیے اپنے مرکزی سفارتی مشن کا درجہ کم کردیا۔

کئی دہائیوں سے امریکی قونصل خانہ فلسطینیوں کے لیے سفارتخانے کے طور پر کام کر رہا تھا تاہم اب یہ کام امریکی سفارتخانے کے لیے زیر انتظام فلسطینی امور کے یونٹ کو دے دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ کامقبوضہ بیت المقدس کواسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان

امریکی خبر رساں ایجنسی ایسویی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق اس اقدام سے مغربی کنارے میں آباد کاری کے پرانے حامی اور فلسطینی قیادت کے ناقد امریکی سفیر ڈیوڈ فریڈمین کو غزہ اور مغربی کنارے میں امریکا کے سفارتی رابطہ کاروں پر فوقیت مل جائے گی۔

یہ اعلان امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے پیر کو کیا گیا جس کا اطلاق فوری طور پر ہو گا۔

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان روبرٹ پلاڈینو نے اپنے بیان میں کہا کہ اس فیصلے کا مقصد ہمارے سفارتی رابطوں اور آپریشنز کو موثر بنانے کی کوششوں کو بہتر بنانا ہے، اس کا مقصد یہ نہیں کہ امریکا کی یروشلم، مغربی کنارے یا غزہ کی پٹی کے حوالے سے پالیسی تبدیل ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یروشلم کے معاملے پر سعودی عرب کا 'حقیقی مؤقف' کیا ہے؟

جب امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے گزشتہ سال اکتوبر میں پہلی مرتبہ اس اقدام کا اعلان کیا تھا تو فلسطینی عوام نے اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کا خدشہ ظاہر کیا تھا کہ امریکا، مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے پر اسرائیل کے کنٹرول کو تسلیم کرنے جا رہا ہے جہاں فلسطین مذکورہ علاقوں میں مستقبل میں اپنی علیحدہ ریاست بنانے کا عزم رکھتا ہے۔

فلسطینی عہدیدار سائب ایراکیت نے امن عمل کے لیے امریکی کردار کے سلسلے میں اس اقدام کو ’تابوت میں آخری کیل‘ قرار دیا۔

امریکا کی جانب سے سفارتی مشن کا درجہ کم کرنا ٹرمپ انتظامیہ کے تقسیم کے فیصلوں کی کڑی ہے جہاں اس نے اسرائیل کی حمایت کی اور فلسطین سے علیحدہ رویہ روا رکھا جس پر فلسطینی حکام کا کہنا تھا کہ وہ امن عمل کے دوران امریکا کے ثالث کے کردار کی حیثیت سے ان کا اس پر اعتبار ختم ہو چکا ہے۔

مزید پڑھیں: یروشلم میں سفارتخانہ، فلسطین کا امریکا کے خلاف عالمی عدالت میں مقدمہ

گزشتہ سال امریکا نے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے اپنا سفارتخانہ وہاں منتقل کردیا تھا جس کے ساتھ ہی اسرائیل فلسطینی تنازع میں امریکی پالیسی نے ایک مرتبہ پھر متنازع موڑ لیا تھا اور اس اقدام کے بعد فلسطین نے امریکی انتظامیہ سے اپنے تعلقات ختم کر لیے تھے۔

اس کے جواب میں امریکی انتظامیہ نے فلسطینیوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی جانے والی سیکڑوں ملین ڈالر کی امداد بند کرتے ہوئے ہسپتالوں و دیگر اہم کاموں کے لیے بھی امداد بند کردی تھی۔