حکومت نے کالعدم تنظیموں کے اثاثے منجمد کرنے کیلئے حکم جاری کردیا

اپ ڈیٹ 05 مارچ 2019

ای میل

دفتر خارجہ کے مطابق کالعدم تنظمیوں کے اکاؤنٹس منجمد کرلیے گئے ہیں — فائل / فوٹو: رائٹرز
دفتر خارجہ کے مطابق کالعدم تنظمیوں کے اکاؤنٹس منجمد کرلیے گئے ہیں — فائل / فوٹو: رائٹرز

وفاقی حکومت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے پابندی کے شکار افراد اور تنظیموں کو کنٹرول میں لے کر ان کے اکاؤنٹ منجمد کرنے کے لیے سلامتی کونسل آرڈر 2019 جاری کر دیا۔

ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یو این سیکیورٹی کونسل ایکٹ 1948کی روشنی میں سلامتی کونسل آرڈر 2019 جاری کر دیا گیا ہے۔

اپنے بیان میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ‘آرڈر جاری کرنے کا مقصد افراد اور اداروں پر سلامتی کونسل کی عائد پابندیوں پر عمل درآمد کا طریقہ کار طے کرنا ہے’۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ تمام کالعدم تنظیموں کو حکومتی کنٹرول میں لے لیا گیا ہے اور ان تنظیموں کے ہر قسم کے اثاثہ جات اور جائیدادیں حکومتی کنٹرول میں ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ اب کالعدم تنظیموں کے فلاحی ادارے اور ایمبولینسز بھی حکومتی تحویل میں ہوں گی۔

مزید پڑھیں: حکومت کا عسکری تنظیموں کے خلاف حتمی کارروائی کا فیصلہ

سلامتی کونسل آرڈر کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ان پابندیوں کے تحت حکومتوں کو افراد یا اداروں کے اثاثے منجمد کرنا ہوتے ہیں اور سلامتی کونسل آرڈر 2019 کو سلامتی کونسل اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے معیار کے مطابق تیار کیا گیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سلامتی کونسل احکامات پر عمل درآمد سلامتی کونسل ایکٹ 1948 کے تحت کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کے احکامات کا مقصد پابندی کی شکار تنظیموں اور افراد کو کنٹرول میں لینا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جماعت الدعوۃ، فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کالعدم قرار

نیشنل ایکشن پلان پر اعلیٰ سطح کا اجلاس

بعد ازاں ترجمان وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ وزارت داخلہ میں نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے حوالے سے اعلیٰ سطح کا ایک اجلاس ہوا جس میں تمام صوبائی حکومتوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ اجلاس میں وزارت داخلہ نے تمام صوبائی حکومتوں کو کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کے احکامات جاری کر دیئے۔

قبل ازیں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے ملک میں شدت پسند اور عسکری تنظیموں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کے آغاز کا فیصلہ کیا تھا۔

صحافیوں کو دی جانی والی ایک خصوصی بریفنگ میں کہا گیا تھا کہ جیسے ہی اس سلسلے میں پیش رفت ہوگی اس کے اثرات خود بخود ظاہر ہوجائیں گے۔

ڈان نیوز کے پروگرام میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا تھا کہ حکومت نے سیاسی اتفاق رائے سے نیشنل ایکشن پلان (این اے پی) کے تحت تمام عسکری تنظیموں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کرلیا ہے۔

واضح رہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کے 21 فروری کو ہونے والے اجلاس میں ’کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا‘، اس کے ساتھ جماعت الدعوۃ اور فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن پر دوبارہ پابندی لگانے کا بھی حکم دیا گیا تھا۔

اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے معاشرے سے انتہا پسندی اور عسکریت پسندی کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’ریاست کو شدت پسندوں کے ہاتھوں یرغمال نہیں ہونے دیں گے‘۔