چائلڈ پورنوگرافی کا الزام، بھارتی پائلٹ امریکا سے ملک بدر

اپ ڈیٹ 09 مارچ 2019

ای میل

رپورٹس کے مطابق ایف بی آئی 2 ماہ سے بھارتی پائلٹ کی نگرانی کر رہی تھی — فوٹو: شٹر اسٹاک
رپورٹس کے مطابق ایف بی آئی 2 ماہ سے بھارتی پائلٹ کی نگرانی کر رہی تھی — فوٹو: شٹر اسٹاک

ممبئی: امریکا میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے چائلڈ پورنوگرافی ویڈیو ڈاؤن لوڈ کرنے کے الزام میں بھارتی پائلٹ کو ملک بدر کردیا۔

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق نئی دہلی سے سین فرانسسکو پہنچنے والی فلائٹ کے بھارتی پائلٹ کو پہلے تمام مسافروں کے سامنے ہتھکڑی لگائی گئی اور پھر اس کے بعد انہیں واپس بھارت بھیج دیا گیا۔

ممبئی سے تعلق رکھنے والے 55 سالہ پائلٹ بھارتی فضائی کمپنی میں فرسٹ افسر ہے اور وہ اکثر امریکا کے لیے پروازوں کو آپریٹ کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: بھارت: کم عمر لڑکیوں کو 'زبردستی پورن ویڈیوز' دِکھانے والا گرفتار

تاہم حالیہ قوانین کے مطابق امریکا کے لیے پروازیں چلانے والی فضائی کمپنیوں کو امریکی بیورو آف کسٹمرز اور سرحدی تحفظ کے لیے مسافر اور کریو کی تفصیلات فراہم کرنا ضروری ہیں اور اس میں پرواز کی روانگی کے بعد 15 منٹ سے زائد کی تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ ’ایف بی آئی ایجنٹس کو پائلٹ کے دوبارہ امریکا میں داخلے کا انتظار تھا اور جب وہ پہنچا تو اسے گرفتار کیا گیا، پاسپورٹ ضبط کیا گیا، امریکی ویزا ختم کیا گیا اور پھر دہلی کے لیے پرواز میں بٹھا کر امریکا سے ملک بدر کردیا گیا‘ جبکہ اب پائلٹ دوبارہ امریکا نہیں آسکے گے۔

ادھر ایک اور ذرائع نے بتایا کہ ’بعد میں یہ بات سامنے آئی کہ چائلڈ پورنوگرافی تک رسائی اور ویڈیوز ڈاؤن لوڈ کرنے پر بھارتی پائلٹ گزشتہ 2 ماہ سے ایف بی آئی کی نگرانی میں تھا اور ثبوت جمع کرنے کے لیے امریکا میں مختصر ٹھہراؤ کے دوران ہوٹل میں پائلٹ کے انٹرنیٹ استعمال کی نگرانی کی‘۔

ذرائع نے بتایا کہ ایف بی آئی کی جانب سے بھارتی حکام کو ثبوتوں کے ساتھ ایک سربمہر ڈوزیئر بھی ارسال کردیا گیا۔

دوسری جانب ایئر لائن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پائلٹ کو ویزا کے معاملے پر ملک بدر کیا گیا لیکن کم از کم ایئر لائن کے 3 آزاد ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی کہ ویزا کے معاملات چائلڈ پورنوگرافی کے الزامات سے متعلق تھا۔

امریکا میں چائلڈ پورنو گرافی کے قانون کی وضاحت کچھ یوں کی جاتی ہے کہ ’نابالغ کے کسی بھی جنسی عمل میں شامل ہونے کی تصویر کشی کرنا چائلڈ پورنوں گرافی ہے‘۔

امریکی قانون میں ’امریکا کے باہر کسی بھی شخص کا جان بوجھ کر چائلڈ پورنوگرافی کی ویڈیوز کو بنانا، موصول کرنا، ٹرانسپورٹ، ترسیل یا پھیلانا اس مقصد کے ساتھ کہ اسے امریکا میں برآمد یا منتقل کیا جائے‘ یہ ممنوع ہے۔

واضح رہے کہ 2014 میں ایک تحقیقات کے دوران ایف بی آئی کی جانب سے ایک ویب سائٹ کا پتہ چلایا گیا تھا جو چائلڈ پورنوگرافی ویڈیوز بناتی تھی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایجنسی نے سرچ وارنٹ حاصل کیے اور ویب سائٹ بند کرنے کے بجائے سائٹ چلانے والے سرور قبضے میں لے لیے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت: پورن ویڈیوز کے عادی 14 سالہ لڑکے کا بڑی بہن کے ساتھ ریپ

بعد ازاں ایف بی آئی کی جانب سے تقریباً 2 ہفتوں کے لیے چائلڈ پورن ویب سائٹ کو چلایا گیا اور اس عرصے میں انہوں نے ایک وارنٹ حاصل کیا اور ویب سائٹ کے ہزاروں وزرٹرز کو ایک میلویئر بھیجا۔

ایف بی آئی کے اس میلویئر کے ذریعے صارفین کے کمپیوٹرز سے معلومات کو حاصل کیا گیا، اس معلومات سے ایف بی آئی نے دنیا بھر میں موجود ہزاروں کمپیوٹرز کا پتہ چلایا۔

جس کے بعد اس تفتیش کے نتیجے میں ملک بھر میں سیکڑوں افراد پر مقدمہ چلایا گیا جبکہ بعد ازاں امریکی حکومت نے اس بات کو تسلیم کیا کہ اس میلویئر سے دنیا بھر میں ہزار سے زائد کمپیوٹر متاثر کیے گئے۔