نواز شریف کو کچھ ہوا تو یہ قتل کے مترادف ہو گا، خورشید شاہ

اپ ڈیٹ 10 مارچ 2019

ای میل

ہم نے ہرے برے وقت میں قوم کو یکجا کیا—فائل فوٹو: ڈان نیوز
ہم نے ہرے برے وقت میں قوم کو یکجا کیا—فائل فوٹو: ڈان نیوز

پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی صحت ٹھیک نہیں تاہم اگر انہیں کچھ ہوا تو وہ قتل کے مترادف ہو گا اور اس کی ذمہ داری وزیراعظم عمران خان پر عائد ہوگی۔

خورشید شاہ نے نواز شریف کی صحت سے متعلق میڈیا رپورٹس پر تشویش کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیں: (ن) لیگ کو نواز شریف کی صحت پر تشویش،جیل انتظامیہ نے تندرست قرار دے دیا

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی نواز شریف سے کوٹ لکھپت جیل میں ملاقات سے متعلق خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو سیاستدان ہیں، ان کی سابق وزیراعظم سے ملاقات میں کوئی ہرج نہیں‘۔

اس موقع پر خورشید شاہ نے پیشکش کی کہ ’اگر نواز شریف کو علاج کی اجازت ملی تو ہم ان کا علاج این آئی سی وی ڈی سے کرائیں گے‘۔

سکھر میں شجرکاری مہم کی افتتاحی تقریب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم سیاستدان ہیں اور ہمارے لیے سب سے افضل ریاست ہے‘۔

پیپلزپارٹی کے رہنما نے کہا کہ ’ہماری سیاست گالم گلوچ نہیں اور ہم نے ہر برے وقت میں قوم کو یکجا کیا ہے تاہم کبھی اپنے اقتدار کی بات نہیں کی اور ہمیشہ عوام کے اقتدار کی بات کی‘۔

مزیدپڑھیں: نواز شریف اڈیالہ سے کوٹ لکھپت جیل منتقل

سید خورشید شاہ نے وزیراعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’عمران خان خود یوٹرن کے ماہر ہیں، بدقسمتی سے وہ حکومت میں ہونے کے باوجود اب تک کنٹنیر سے اترے نہیں ہیں اور اترنے کو تیار بھی نہیں ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم سیاست میں ذاتیات کو نہیں لاتے اور میں تو ذاتیات کو بیچ میں لاتا ہی نہیں‘۔

پارٹی کے سینئر رہنما نے الزام لگایا کہ ’تحریک انصاف کی حکومت قرض پر قرض لے رہی ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی والے بلاول بھٹو کی انگریزی میں تقریرکو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں لیکن قائد اعظم محمد علی جناح بھی تو انگریزی میں تقریر کرتے تھے اور قوم ان کے ہر لفظ کو سوچتی اور سمجھتی تھی‘۔

یہ بھی پڑھیں: العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کو 7 سال قید، فلیگ شپ ریفرنس میں بری

انہوں نے کہا کہ دنیا کا قانون ہے کہ جس پر الزام ہو اس کو صفائی کرنے کا موقع دیا جائے، قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے زیر حراست لوگوں کو صفائی کا موقع ملنا چاہیے۔