جعلی اکاؤنٹس کیس: نیب کی دوسری پیش رفت رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع

اپ ڈیٹ 11 مارچ 2019

ای میل

سپریم کورٹ نے نیب کو 2 ماہ میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم دیا تھا—فائل فوٹو: اے ایف پی
سپریم کورٹ نے نیب کو 2 ماہ میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم دیا تھا—فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں جاری تحقیقات پر اپنی دوسری پیش رفت رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروا دی۔

خیال رہے کہ رواں سال کے پہلے ماہ جنوری میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد سپریم کورٹ نے جعلی اکاؤنٹس کیس کی تحقیقات نیب کے حوالے کی تھی، جے آئی ٹی رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا تھا کہ کم از کم ایسے 29 بینک اکاؤنٹس کی نشاندہی ہوئی جو 42 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کے لیے استعمال ہوئے، اس کے ساتھ ساتھ اس رپورٹ میں سابق صدر آصف علی زرداری، ان کی بہن فریال تالپور، معروف بینکار حسین لوائی، اومنی گروپ کے انور مجید اور دیگر کئی معروف بینکرز اور کاروباری افراد کے نام سامنے آئے تھے۔

بعد ازاں عدالت عظمیٰ نے اس کیس کی تحقیقات نیب کے سپرد کرتے ہوئے 2 مہینوں میں اپنی تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت کی تھی، ساتھ ہی یہ بھی حکم دیا تھا کہ ہر 15 روز میں پیش رفت رپورٹ جمع کروائی جائے۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ: جعلی اکاؤنٹس کیس پر نیب کی پہلی پیش رفت رپورٹ جمع

جس پر 8 فروری کو نیب کی جانب سے پہلی پیش رفت رپورٹ جمع کروائی گئی تھی جبکہ آج احتساب کے ادارے نے دوسری پیش رفت رپورٹ جمع کروائی۔

نیب کی جانب سے عدالت عظمیٰ میں سربمہر لفافے میں رپورٹ جمع کروائی گئی، جس میں تحقیقات میں ہونے والی پیش رفت کا ذکر کیا گیا۔

احتساب کے ادارے کی اس رپورٹ میں حالیہ گرفتاریوں اور ریکارڈ کیے گئے بیانات کو بھی حصہ بنایا گیا ہے۔

مقدمہ کراچی سے اسلام آباد منتقل کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

ادھر کراچی کی بینکنگ عدالت نے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کیس کی کراچی سے اسلام آباد منتقلی نیب کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

شہر قائد کی بینکنگ عدالت میں جعلی اکاؤنٹس کیس کی سماعت ہوئی، جہاں کیس کے ملزمان حسین لوائی، عبدالغنی مجید، نمر مجید، مصطفیٰ ذوالقرنین مجید، زین ملک اور دیگر کو پیش کیا گیا جبکہ فریال تالپور تالپور عدالت میں پیش ہوئیں لیکن آصف علی زرداری عدالت نہیں آئے۔

اس موقع پر قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے مقدمے کو کراچی سے اسلام آباد منتقل کرنے کی درخواست پر آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے اعتراض دائر کیا۔

فاروق ایچ نائیک نے دلائل دیے کہ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں مقدمہ منتقل کرنے کی ہدایت نہیں کی، مقدمہ اسلام آباد منتقل کرنے کا کوئی جواز نہیں، اس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق چیئرمین نیب نے مقدمہ نیب کورٹ اسلام آباد منتقل کرنے کی منظوری دی ہے۔

اس پر آصف زرداری کی جانب سے وکیل فاروق ایچ نائیک کی جانب سے جمع کرائے گئے اعتراض پر کہا گیا کہ یہ مقدمہ اسلام آباد منتقل نہیں کیا جاسکتا کیونکہ جے آئی ٹی نے بھی اپنی رپورٹ میں کہیں نہیں کہا کہ کیس کو نیب عدالت منتقل کریں، لہٰذا اس کیس کو منتقل کرنے کی نیب کی درخواست مسترد کیا جائے۔

فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ اس طرح کی درخواست سے بینکنگ عدالت پر دباؤ کی کوشش کی جارہی ہے، جس پر پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ سپریم کورٹ نے نیب کو تحقیقات کرکے ریفرنس دائر کرنے کا بھی حکم دیا تھا۔

نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے 2004 کے فیصلے کے مطابق ملزمان کو شو کاز نوٹس دینے کی بھی ضرورت نہیں، اس پر فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ نیب آرڈیننس کے سیکشن 16 اے کا جائزہ لینا ضروری ہے، نیب نے یہ دعویٰ غلط کیا ہے کہ سپریم کورٹ نے مقدمہ کرنے کا حکم دیا ہے۔

آصف زرداری کے وکیل کا کہنا تھا کہ تمام ہدایات جے آئی ٹی رپورٹ کے حوالے سے دی گئی ہیں، جے آئی ٹی رپورٹ میں ایف آئی اے کے مقدمہ 04/2018 کا ذکر نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بلاول، مراد علی شاہ کے نام 'ای سی ایل' سے نکال دیئے جائیں، سپریم کورٹ

دوران سماعت انہوں نے دلائل دیتے ہوئے مزید کہا کہ سپریم کورٹ نے نیب کو مزید تحقیقات کا حکم دیا ہے، نیب کو تفتیش آگے بڑھانے اور مزید تحقیقات کے لیے 2 ماہ کا وقت دیا جو ختم ہوچکا ہے، سپریم کورٹ کے حکم کی آڑ میں بینکنگ عدالت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

آصف زرداری کے وکیل کا کہنا تھا کہ یہ کیس کرپشن اور کرپٹ پریکٹیسنگ کا نہیں ہے، یہ عوام سے فراڈ کا نہیں ہے، یہ نیب کا کیس بنتا ہی نہیں ہے جبکہ اس عدالت کو کیس اسلام آباد منتقل کرنے کا حکم دینے کا اختیار نہیں ہے۔

سماعت کے دوران حسین لوائی اور طحہٰ رضا کے وکیل شوکت حیات ایڈووکیٹ نے دلائل دیے اور کہا کہ کیس صوبے سے دوسرے صوبے منتقلی کا اختیار صرف سپریم کورٹ کو ہے۔

وکیل حسین لوائی کا کہنا تھا کہ کیس کا چالان دھوکہ دہی کے الزامات کے تحت جمع کرادیا گیا ہے، کیس منتقلی کی درخواست بدنیتی پر مبنی ہے، اگر اب اس عدالت کو سماعت کا اختیار نہیں ہے تو ایف آئی اے کیس واپس لے لے۔

اس پر نیب پرایسکیوٹر نے کہا کہ یہ وفاقی عدالت ہے صوبائی عدالت نہیں، سپریم کورٹ کے حکم پر ہی 16 ریفرنس بنائے جارہے ہیں، لہذا کیس منتقل کرنے کا حکم دیا جائے۔

نیب پراسیکیوٹر نے دلائل دیے کہ درخواست منتقل ہونی چاہیے کیونکہ وفاق اور پراسیکیوٹر کا مقدمات منتقل ہونے پر ایک ہی موقف ہے، موجودہ دائر درخواستوں کی سماعت اسلام آباد نیب عدالت میں ہونی چاہئے، موجودہ درخواستیں جو دائر کی جارہی ہیں وہ حقائق کے برعکس ہے، ملزمان کے وکلاء عدالت کو غلط سمت کی جانب لے جارہے ہیں، جتنی درخواستیں ملزمان کی آئی ہیں ان پر جرمانہ عائد کرنے کے ساتھ مسترد کی جائے۔

بعد ازاں ملزمان اور نیب کے وکلا کی جانب سے دلائل مکمل ہونے کے بعد بینکن عدالت نے کیس کو کراچی سے اسلام آباد منتقل کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا، جسے 15 مارچ کو سنایا جائے گا، ساتھ ہی عدالت نے سابق صدر آصف زرداری اور فریال تالپور کی ضمانت میں بھی توسیع کردی۔

کیس کا پس منظر

خیال رہے کہ 2015 کے جعلی اکاؤنٹس اور فرضی لین دین کے مقدمے کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری، ان کی بہن فریال تالپور اور ان کے کاروباری شراکت داروں سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔

یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ، سندھ بینک اور سمٹ بینک میں موجود ان 29 بے نامی اکاؤنٹس میں موجود رقم کی لاگت ابتدائی طور پر 35ارب روہے بتائی گئی تھی۔

اس سلسلے میں ایف آئی اے نے معروف بینکر حسین لوائی کو گرفتار کیا تھا، جس کے بعد ماہ اگست میں جعلی اکاؤنٹس کیس میں ہی اومنی گروپ کے چیئرمین انور مجید اور ان کے بیٹے عبدالغنی مجید کو بھی گرفتار کر لیا گیا تھا۔

7 ستمبر کو سپریم کورٹ نے سابق صدر مملکت اور ان کی بہن بہن کی جانب سے مبینہ طور پر جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کیے جانے کے مقدمے کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی تھی۔

مزید پڑھیں: چیف جسٹس کا سیاستدانوں کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کے فیصلے پر نظرثانی کا حکم

اس جے آئی ٹی نے سابق صدر آصف علی زرداری، ان کی بہت فریال تالپور سے پوچھ گچھ کی تھی جبکہ چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو سے بھی معلومات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

آصف علی زرداری نے جے آئی ٹی کو بتایا تھا کہ 2008 سے وہ کسی کاروباری سرگرمی میں ملوث نہیں رہے اور صدر مملکت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے خود کو تمام کاروبار اور تجارتی سرگرمیوں سے الگ کرلیا تھا۔

علاوہ ازیں 3 رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اڈیالہ جیل میں حسین لوائی اور عبدالغنی مجید سے سے ڈیڑھ گھنٹے سے زائد تفتیش کی تھی۔

بعد ازاں اس کیس کی جے آئی ٹی نے عدالت عظمیٰ کو رپورٹ پیش کی تھی، جس میں 172 افراد کا نام سامنے آیا تھا، جس پر وفاقی حکومت نے ان تمام افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کردیے تھے۔

تاہم 172 افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کرنے پر سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے برہمی کا اظہار کیا تھا اور معاملے پر نظرثانی کی ہدایت کی تھی، جس کے بعد عدالت نے اپنے ایک فیصلے میں بلاول بھٹو اور مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے دیا تھا۔