کم جونگ کے بھائی کے قتل کے الزام سے خاتون بری

اپ ڈیٹ 11 مارچ 2019

ای میل

اکتوبر 2017 میں شروع ہونے والے ٹرائل کا کئی ماہ کے وقفے کے بعد آج ایک مرتبہ پر پھر آغاز ہوا—فوٹو: اےپی
اکتوبر 2017 میں شروع ہونے والے ٹرائل کا کئی ماہ کے وقفے کے بعد آج ایک مرتبہ پر پھر آغاز ہوا—فوٹو: اےپی

شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کم جونگ اُن کے سوتیلے بھائی کم جونگ نیم کے قتل کے الزام میں گرفتار 2 خواتین میں سے ایک خاتون کو ڈیڑھ سال بعد ملائیشیا کی عدالت نے رہا کردیا۔

فرانسیسی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق دونوں خواتین شروع سے ہی قتل کے الزام سے انکار کررہی تھیں، ان کے مطابق انہیں شمالی کوریا کے ایجنٹوں نے گمراہ کیا جسے وہ ریئلٹی ٹی وی شو کے مذاق کا حصہ سمجھیں تھیں۔

اکتوبر 2017 میں شروع ہونے والے ٹرائل کا کئی ماہ کے وقفے کے بعد آج ایک مرتبہ پر پھر آغاز ہوا جس میں پراسیکیوٹر محمد اسکندر نے درخواست کی آسیہ کے خلاف قتل کی دفعات خارج کردی جائیں جس پر عدالت نے ان کے خلاف چارج خارج کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: کم جونگ نیم قتل: مذاق کرنے کے 90 ڈالر ملے، مشتبہ خاتون

سماعت کے دوران عدالت کے سامنے کلوز سرکٹ کمیروں کی فوٹیج بھی پیش کی گئی جس میں ملزمان کو قتل کے بعد تیزی سے واش روم کی طرف جاتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

لیکن ان کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ شمالی کوریا کے 4 باشندے اس قتل کے ماسٹر مائنڈ تھے جنہوں نے ملائیشیا سے فرار ہونے سے ایک روز قبل زہر فراہم کیا تھا۔

گزشتہ برس اگست میں جج نے حکم دیا کہ ملزمان کے خلاف کافی شواہد موجود ہیں، جنوبی کوریا نے مذکورہ قتل کے پیچھے شمالی کوریا کے ملوث ہونے کا دعویٰ کیا تھا جسے پیانگ یانگ سے مسترد کردیا تھا۔

مزید پڑھیں: شمالی کورین ڈکٹیٹر کے بھائی کا قتل، پہلا کوریائی باشندہ گرفتار

واضح رہے کہ ملائیشیا ایک زمانے میں شمالی کوریا کے چند اتحادیوں میں شامل تھا لیکن اس قتل کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات بری طرح متاثر ہوئے اور دونوں نے اپنے اپنے سفیروں کو واپس بلایا تھا۔

یاد رہے کہ کوالالمپور ایئرپورٹ پر کم جونگ نیم کو زہریلا کیمیکل لگانے کا یہ واقعہ 13 فروری 2017 کو پیش آیا تھا جب وہ کوالالمپور میں ذاتی کاروبار کے سلسلے میں موجود تھے اور مکاؤ کی پرواز میں سوار ہونے جا رہے تھے۔

واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ 2 خواتین کم جونگ نیم کے چہرے پر کچھ لگا رہی ہیں اور اس کے بعد وہ ایئرپورٹ اسٹاف سے مدد طلب کرتے دکھائی دیئے تھے تاہم کم جونگ نیم اس حملے کے چند ہی گھنٹوں میں ہلاک ہوگئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: شمالی کورین ڈکٹیٹر کے بھائی کا قتل، ملائیشیا میں مزید گرفتاریاں

بعد ازاں 15 فروری کو ملائیشین پولیس نے کوالالمپور ایئرپورٹ کے ٹرمینل سے ایک مشتبہ خاتون کو حراست میں لیا تھا، جن کے پاس ویتنام کی سفری دستاویزات موجود تھیں جبکہ بعد ازاں رائل ملائیشیا پولیس کے انسپکٹر جنرل سری خالد بن ابوبکر نے قتل میں ملوث انڈونیشئن پاسپورٹ کی حامل ایک اور خاتون کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اندونیشین پاسورٹ رکھنے والی 25 سالہ آسیہ نے کہا تھا کہ اسے دھوکے سے اس قتل کا حصہ بنایا گیا تاہم ملائیشین پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں مشتبہ خاتون قتل کے منصوبے سے آگاہ تھیں۔

ماہرین کا بتانا تھا کہ ایئرپورٹ پر کم جونگ نیم کے قتل میں ’وی ایکس' نامی کیمیکل استعمال کیا گیا تھا، جس کی صرف ایک بوند چند منٹ میں انسان کی جان لینے کے لیے کافی ہوتی ہے۔

خیال رہے کہ اس کیمیکل کو اقوام متحدہ کی جانب سے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والا ہتھیار قرار دیا جاچکا ہے۔