الیمینیٹر-2: دفاعی چیمپیئن آؤٹ، زلمی کی تیسری مرتبہ پی ایس ایل فائنل تک رسائی

اپ ڈیٹ 15 مارچ 2019

ای میل

پشاور زلمی کا فائنل میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز سے مقابلہ ہوگا۔ — فائل فوٹو: پی ایس ایل
پشاور زلمی کا فائنل میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز سے مقابلہ ہوگا۔ — فائل فوٹو: پی ایس ایل

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے الیمینیٹر - 2 میں پشاور زلمی نے یکطرفہ مقابلے کے بعد دفاعی چیمپیئن اسلام آباد یونائیٹڈ کو 48 رنز سے شکست دے کر مسلسل تیسری مرتبہ فائنل کے لیے کوالیفائی کرلیا۔

کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے جانے والے اس میچ میں اسلام آباد یونائیٹڈ کے کپتان محمد سمیع نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

یہ فیصلہ محمد سمیع کے لیے بہتر ثابت نہیں ہوسکا اور پشاور زلمی کے کھلاڑی دفاعی چیمپیئن اسلام آباد یونائیٹڈ پر قہر بن کر برسکے۔

وکٹ کی دونوں جانب موجود پشاور زلمی کے اوپنرز کامران اکمل اور امام الحق کے بلے چھکے چوکے اگلتے رہے اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے باؤلرز بے بسی کی تصویر بنے رہے۔

بڑے میچ کے بڑے کھلاڑی کامران اکمل نے نوجوان امام الحق کے ہمراہ مل شاندار آغاز فراہم کیا اور ٹیم کو 13ویں اوور میں 135 رنز تک پہنچا دیا۔

یہاں کیمرون ڈیلپورٹ کے اوور میں یکے بعد دیگرے دونوں اوپنرز کیچ آؤٹ ہوگئے۔

کامران اکمل نے 3 چھکوں اور 10 چوکوں کی مدد سے 74 رنز کی اننگز کھیلی جبکہ امام الحق 2 چھکوں اور 7 چوکوں کی مدد سے 58 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

گزشتہ میچ کی طرح اس میچ میں بھی کیرون پولارڈ اور ڈیرن سیمی نے ذمہ دارانہ اننگز کھیلتے ہوئے بالترتیب 21 گیندوں پر 37 اور 15 گیندوں پر 30 رنز کی اننگز کھیلی۔

پشاور زلمی کی ٹیم مقررہ 20 اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 214 رنز بناسکی۔

اسلام آباد یونائیٹڈ کی جانب سے پارٹ ٹائمر کیمرون ڈیلپورٹ نے 2 جبکہ محمد موسیٰ نے ایک وکٹ حاصل کی۔

ہدف کے تعاقب میں اسلام آباد یونائیٹڈ کی بیٹنگ لائن اپنی صلاحیت کے مطابق پرفارمنس نہیں دے سکی اور ٹائل کے دفاع سے صرف ایک میچ قبل ہی ایونٹ سے باہر ہوگئی۔

اننگز کا آغاز کرنے کے لیے کیمرون ڈیلپورٹ اور خطرناک لیوک رونکی وکٹ پر آئے لیکن اس مرتبہ پہاڑ جیتے ہدف کے تعاقب میں ان کے بلے خاموش تماشائی بنے رہے۔

یونائیٹڈ کی اننگز 24 رنز پر ہی پہنچی تھی کہ ان کے اہم ترین کھلاڑی لیوک رونکی 17 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوگئے۔

نئے آنے والے ایلکس ہیلز کی جانب سے کوئی مزاحمت نہیں دکھائی گئی اور وہ بس ایک رن بنانے کے بعد 26 کے مجموعے پر پویلین لوٹ گئے۔

یہاں ٹیم کو چڈوک والٹن اور کیمرون ڈیلپورٹ سے امیدیں تھیں جو 89 کے مجموعے پر اس وقت ٹوٹ گئیں جب بائیں ہاتھ کے ڈیلپورٹ 28 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوگئے۔

ہارڈ ہٹر آصف علی نے ایک مرتبہ پھر بڑے میچ میں ناکام ہوگئے اور بغیر کوئی رن بنائے کیرون پولارڈ کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوگئے۔

ٹیم کا اسکور 105 تک پہنچا تو چڈوک والٹن بھی تھک گئے اور 48 رنز بنانے کے بعد ٹائمل ملز کا شکار ہوئے۔

دیگر کھلاڑیوں میں حسین طلعت نے 19 اور فہیم اشرف نے 31 رنز بنا کر ٹیم کی پہاڑ جیسے ہدف کے تعاقب کرنے میں ناکام کوشش کی دونوں کھلاڑی بھی بھاری بھرکم رن اوسط کے دباؤ میں آکر پویلین لوٹ گئے۔

اسلام آباد یونائیٹڈ کی ٹیم مقررہ 20 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 166 رنز ہی بناسکی اور اس طرح یہ میچ 48 رنز سے پشاور زلمی کے نام رہا۔

اس جیت کے ساتھ ہی پشاور زلمی مسلسل تیسری مرتبہ پی ایس ایل کا فائنل کھیلنے میں کامیاب ہوئی جبکہ دفاعی چیمپیئنز اسلام آباد یونائیٹڈ کا سفر تمام ہوا۔

پشاور زلمی کے کامران اکمل کو شاندار بیٹنگ پر مین آف دی میچ کا ایوارڈ دیا گیا۔

واضح رہے کہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم پہلے ہی فائنل کے لیے کوالیفائی کر چکی ہے جہاں اب ٹائٹل کے لیے اس کا مقابلہ 17 مارچ کو کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں ہوگا۔

دونوں رویتی حریف اس سے قبل پی ایس ایل 2017 میں بھی فائنل میں پہنچے تھے، جہاں پشاور زلمی نے میدان مار کر ٹائٹل اپنے نام کرلیا تھا۔

ٹاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے پشاور زلمی کے کپتان ڈیرن سیمی کا کہنا تھا کہ ہماری ٹیم میں میچ ونرز موجود ہیں، ہم بھی ٹاس جیت جاتے تو پہلے باؤلنگ کرتے۔

اسلام آباد یونائیٹڈ کے کپتان محمد سمیع نے کہا کہ ٹیم کے تمام کھلاڑیوں کو حوصلہ دیا ہے اور انہیں کہا ہے کہ وہ اس میچ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کریں۔

اسلام آباد یونائیٹڈ کی ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی جبکہ پشاور زلمی کی ٹیم میں 3 تبدیلیاں کی گئیں۔