بھارتی انتخابات: گوگل اشتہار پر کروڑوں روپے خرچ، مودی کا دوسرا نمبر

اپ ڈیٹ 04 اپريل 2019

ای میل

تیلگودیشم پارٹی نے ایک کروڑ 48 لاکھ روپے خرچ کیے، انڈین ٹرانسپرنسی — فائل فوٹو: اے ایف پی
تیلگودیشم پارٹی نے ایک کروڑ 48 لاکھ روپے خرچ کیے، انڈین ٹرانسپرنسی — فائل فوٹو: اے ایف پی

نئی دہلی: بھارتی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے انتخابی مہم کے دوران انٹرنیٹ پر صرف گوگل اشتہارات کے لیے ایک کروڑ روپے سے زائد کی رقم کرچ کردی لیکن پھر بھی تامل ناڈو کی سیاسی جماعت سے پیچھے ہے۔

بھارتی ویب سائٹ ٹائمز آف انڈیا نے انڈین ٹرانسپرنسی کی رپورٹ حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اب تک ان سیاسی جماعتوں نے صرف گوگل اشتہارات پر 3 کروڑ 76 لاکھ بھارتی روپے سے زائد خرچ کردیئے اور اس میں بی جے پی، تیلگو دیشم پارٹی، وائی آر ایس کانگریس پارٹی نمایاں ہے۔

تاہم آندھرا پردیش کی ایک سیاسی جماعت تیلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) اور اس کے سربراہ چندرا بابو نائیڈو پر اشتہارات کی 2 علیحدہ علیحدہ کمپنیوں نے پیسہ خرچ کیا جس کے ساتھ ہی وہ انتخابی مہم کے دوران گوگل اشتہارات پر سب سے زیادہ پیسہ خرچ کرنے والے شخص بن گئے۔

انڈین ٹرانسپرنسی کا کہنا تھا کہ مذکورہ رقم 19 فروری 2019 کے بعد خرچ کی گئی جس میں 32 فیصد بھارتیہ جنتا پارٹی نے خرچ کی جبکہ کانگریس نے صرف 0.14 فیصد خرچ کیا۔

مزید پڑھیں: بھارت میں اپریل سے مئی تک عام انتخابات کا اعلان

اعداد و شمار کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی نے ایک کروڑ 21 لاکھ روپے صرف ڈیڑھ ماہ کے عرصے میں گوگل اشتہارات پر خرچ کردیے۔

تیلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) اور اس کے سربراہ چندرا بابو نائیڈو کی پروموشن کے لیے کام کرنے والی پرامانیا اسٹریٹیجی کنسلٹنگ پرائیویٹ لمیٹڈ اب تک 85 لاکھ 25 ہزار روپے خرچ کرچکی ہے۔

اس کے علاوہ ایک اور کمپنی ڈیجیٹل کنسلٹنگ پرائیویٹ لمیٹڈ نے نائیڈو اور اس کی پارٹی کی پروموشن کے لیے 63 لاکھ 43 ہزار بھارتی روپے خرچ کیے۔

آندھرا پردیش کے جگن ریڈی کی سربراہی میں وائی ایس آر کانگریس پارٹی نے ایک کروڑ 4 لاکھ اور کانگریس نے 54 ہزار بھارتی روپے خرچ کیے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی انتخابات: پریانکا گاندھی کا نریندر مودی کے خلاف انتخاب لڑنے کا عندیہ

اسی طرح پمی سائی چرن ریڈی نے وائی ایس آر کے امیدوار کو فروغ دینے کے لیے 26 ہزار 4 سو روپے خرچ کیے گئے۔

ادھر گوگل نے پالیسی کی خلاف ورزی کرنے پر 11 میں سے 4 سیاسی جماعتوں کے ایڈورٹائزرز کو بلاک کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ بھارت میں 11 اپریل سے عام انتخابات کا آغاز ہورہا ہے جو 6 ہفتوں تک جاری رہیں گے جن کا اختتام 19 مئی کو ہوگا جہاں تقریباً 90 کروڑ افراد اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

بھارت کے ایوان زیریں (لوک سبھا) کے 543 اراکین کا چناؤ عام انتخابات سے ہوگا۔

انتخابات میں امیت شاہ کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس میں بڑے مقابلے کی توقع کی جارہی ہے جبکہ ان دونوں جماعتوں کا مختلف ریاستوں میں مقامی سیاسی جماعتوں سے کڑا مقابلہ دیکھنے میں آسکتا ہے۔