کرائسٹ چرچ حملہ: دہشتگرد پر 50 افراد کے قتل کی فرد جرم عائد کی جائے گی

اپ ڈیٹ 26 مارچ 2020

ای میل

دہشت گرد پر اقدام قتل کی 39 فرد جرم بھی عائد کی جائیں گی— فائل فوٹو: اے ایف پی
دہشت گرد پر اقدام قتل کی 39 فرد جرم بھی عائد کی جائیں گی— فائل فوٹو: اے ایف پی

نیوزی لینڈ کی پولیس کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ کرائسٹ چرچ کی 2 مساجد پر حملہ کرنے والے دہشت گرد پر کل (5 اپریل کو ) ہونے والی سماعت میں 50 افراد کے قتل کی فرد جرم عائد کی جائے گی۔

فرانسیسی خبررساں ادارے ’ اےایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق اس سے قبل آسٹریلوی دہشت گرد برینٹن ٹیرنٹ پر قتل کی ایک فرد جرم عائد کی گئی تھی لیکن پولیس کا کہنا تھا کہ اگلی سماعت میں مزید فرد جرم عائد کی جائیں گی۔

پولیس کی جانب سے جاری کیے گئے مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ ’5 اپریل کو کرائسٹ چرچ ہائی کورٹ میں ہونے والی سماعت میں دہشت گرد پر قتل کی 50 اور اقدام قتل کی 39 فرد جرم عائد کی جائیں گی‘۔

28 سالہ برینٹن ٹیرنٹ آک لینڈ جیل سے کرائسٹ چرچ کی عدالت میں بذریعہ ویڈیو لنک پیش ہوگا۔

مزید پڑھیں: نیوزی لینڈ: مشکوک پیکٹ برآمد ہونے پر ڈیونیڈن ایئرپورٹ بند

رواں ہفتے عدالت کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا تھا کہ پیشی مختصر ہوگی،جس میں دفاع کی قانونی نمائندگی سے متعلق معلوم کیا جائے گا اور دیگر کارروائی کی جائے گی۔

برینٹن ٹیرنٹ نے 16 مارچ کو پہلی پیشی کے بعد عدالتی وکیل کی کسی بھی قسم کی معاونت لینے سے انکار کردیا تھا جس نے ان خدشات میں اضافہ کردیا تھا کہ وہ اپنی نمائندگی خود کرنا چاہتے ہیں اور اس اقدام کو ٹرائل کو پروپیگنڈا پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش بھی سمجھا گیا تھا۔

عدالت کے مطابق برینٹن ٹیرنٹ کو جمعہ کی سماعت کے دوران کسی اپیل دائر کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

علاوہ ازیں عدالت نے میڈیا پر دہشت گرد کی تصاویر اور ویڈیو بنانے پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔

پولیس نے کہا کہ برینٹن ٹیرنٹ پر مزید الزامات عائد کیے جانے سے متعلق غور کیا جارہا ہے لیکن یہ نہیں بتایا کہ الزامات کیا ہیں۔

اس حوالے سے یہ بھی اہم ہے کہ عدالت اسے دہشت گرد حملہ قرار دیتی ہے یا نہیں کیونکہ وزیراعظم جیسنڈا آرڈر ن بارہا اسے دہشت گردی قرار دے چکی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ میں قرآن کی تلاوت، وزیرِاعظم کا 'السلامُ علیکم' سے خطاب کا آغاز

تاہم 9/11 کے بعد نیوزی لینڈ میں ٹیرارزم سپریشن ایکٹ متعارف کیا گیا تھا جس کا بہت کم استعمال کیا گیا ہے اور یہ عدالتی کارروائی کو پیچیدہ بناسکتا ہے۔

قتل اور اقدام قتل کے الزامات کی پیروی آسان ہے لیکن پراسیکیوٹرز کی جانب سے حملہ آور کو دہشت گرد قرار دینے کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے کہ دائیں بازو انتہا پسند خطرناک ہیں۔

گزشتہ ماہ انکشاف کیا گیا تھا ٹیرنٹ کو دیگر قیدیوں سے علیحدہ کردیا گیا اور اس کی سی سی ٹی وی کیمرے یا عملے کی جانب سے مسلسل نگرانی کی جارہی ہے۔

اس حوالے سے بھی بتایا گیا کہ دہشت گرد کو ٹی وی، ریڈیو اور اخبارات تک رسائی بھی نہیں ہے۔

نیوزی لینڈ مساجد پر حملہ

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں 15 مارچ کو 2 مساجد النور مسجد اور لین ووڈ میں دہشت گرد نے اس وقت داخل ہوکر فائرنگ کی تھی جب بڑی تعداد میں نمازی، نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے مسجد میں موجود تھے۔

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اس افسوسناک واقعے میں 50 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوئے، انہوں نے حملے کو دہشت گردی قرار دیا تھا۔

فائرنگ کے وقت بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم بھی نماز کی ادائیگی کے لیے مسجد پہنچی تھی تاہم فائرنگ کی آواز سن کر بچ نکلنے میں کامیاب رہی اور واپس ہوٹل پہنچ گئی۔

مذکورہ واقعے کے بعد کرائسٹ چرچ میں بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ کے درمیان ہفتے کو ہونے والا تیسرا ٹیسٹ منسوخ کردیا گیا اور بعد ازاں بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم نے فوری طور پر نیوزی لینڈ کا دورہ ختم کرنے کا اعلان کیا۔

مزید پڑھیں: نیوزی لینڈ: مشکوک پیکٹ برآمد ہونے پر ڈیونیڈن ایئرپورٹ بند

مسجد میں فائرنگ کرنے والے دہشت گرد نے حملے کی لائیو ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر نشر کی، جسے بعد میں نیوزی لینڈ حکام کی درخواست پر دل دہلا دینے والی قرار دیتے ہوئے سوشل میڈیا سے ہٹادیا گیا۔

بعد ازاں نیوزی لینڈ میں مساجد پر حملہ کرنے والے دہشت گرد برینٹن ٹیرنٹ کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

22 مارچ کو نیوزی لینڈ کی تاریخ کی بدترین دہشت گردی کے ایک ہفتے بعد نہ صرف سرکاری طور پر اذان نشر کی گئی بلکہ مسجد النور کے سامنے ہیگلے پارک میں نمازِ جمعہ کے اجتماع میں وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن کے علاوہ ہزاروں غیر مسلم افراد نے بھی شرکت کی تھی۔

علاوہ ازیں 2 اپریل کو نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ نے فوجی طرز کے نیم خودکار (سیمی آٹومیٹک) بندوقوں اور رائفلز پر پابندی کے بل کو منظور کرلیا تھا۔

مجموعی طور پر 120 قانون سازوں نے بل کے حق میں ووٹ دیا جبکہ صرف ایک قانون ساز کی جانب سے بل کی مخالفت سامنے آئی تھی۔