احساس پروگرام پاکستان کو فلاحی ریاست بنائے گا، وزیراعظم

09 اپريل 2019

ای میل

اس پروگرام میں آئین میں ترمیم کی تجویز بھی دی گئی ہے—تصویر بشکریہ انسٹاگرام عمران خان
اس پروگرام میں آئین میں ترمیم کی تجویز بھی دی گئی ہے—تصویر بشکریہ انسٹاگرام عمران خان

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے حکومتی پروگرام پر اپنا پالیسی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پروگرام پاکستان کو فلاحی ریاست میں تبدیل کردے گا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ اس پروگرام کی بنیاد اداروں کو تقویت دینے، شفافیت اور گڈگورننس پر رکھی گئی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ احساس کا مقصد اشرافیہ کے قبضے کو توڑ کر ایک فلاحی ریاست کی بنیاد رکھنا اور اکیسویں صدی کی چیزوں مثلاً اعداد و شمار اور ٹینکالوجی استعمال کر کے صحت سے متعلق حفاظتی جال بنانا، مالی شمولیت اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی کو فروغ دینا، خواتین کی معاشی خود مختاری کو مدد فراہم کرنا، غربت کے خاتمے کے لیے انسانی سرمایےکے کردار پر توجہ دینا، معاشی نمو اور پائیدار ترقی اور ثانوی تعلیم اور صحت تک رسائی میں آنے والی مالی رکاوٹوں کو دور کرنا شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم کی ملک کو فلاحی ریاست بنانے کیلئے بل تیار کرنے کی ہدایت

انہوں نے مزید بتایا کہا یہ پروگرام، انتہائی غریب، یتیموں بیواؤں، بے گھر، معذور، وہ افراد جو طبی سہولیات سے محروم ہیں، بے روزگار، غریب کسان، مشدور، بیمار یا غذائیت کی کمی کا شکار، غریب گھرانوں سے تعلق رکھنے والے طالبعلم اور غریب خواتین و بزرگ افراد کے لیے ہے۔

وزیراعظم نے بتایا کہ اس پروگرام کا مقصد ان علاقوں کو ترقی دینا بھی ہے جہاں غربت کی شرح انتہائی زیادہ ہے، احساس کی غربت مٹاؤ پالیسی کی بنیاد 4 ستونوں پر ہے جس میں 115 پالیسی افعال شامل ہیں اور یپروگرام کے حوالے سے مشاورتی عمل میں توسیع کے باعث اس میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔

ان 4 ستون میں اشرافیہ کے قبضے کو دیکھنا اور مساوات پیدا کرنے کے لیے حکومتی نظام کو فعال کرنا، آبادی کے پسماندہ طبقات کے لیے حفاظتی جال بنانا، ملازمتیں اور روزگار اور انسانی وسائل کی ترقی شامل ہے۔

مزید پڑھیں: 'پاکستان کو مدینہ جیسی فلاحی ریاست بناؤں گا'

اس پروگرام میں آئین میں ترمیم کی تجویز بھی دی گئی ہے تا کہ حکومت قانونی طور پر تمام شہریوں کو خوراک، جائے پناہ اور بنیادی سماجی خدمات فراہم کرنے کی پابند ہو۔

وزیراعظم نے اپنےپالیسی بیان میں مزید بتایا کہ سماجی حفاظت کے سلسلے میں سال 20-19 کے بجٹ میں 80 ارب روپے مختص کیے جائیں گے اور 20-2021 کے بجٹ میں کل اضافہ ایک کھرب 20 ارب روپے کا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ سماجی حفاظت (سوشل پروٹیکشن) سے فائدہ اٹھانے والوں کی معاونت کے لیے ایک کھڑکی (ون ونڈو) سماجی حفاظتی اقدام منعقد کیا جائے گاتا کہ ڈپلیکیشن اور استحصال کو کم کیا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں: حقوقِ معذورین: اسلام، مغرب اور پاکستان

انہوں نے بتایا کہ اس پروگرام کے تحت کئی شہروں میں یتیموں کے لیے 10 ہزار پناگاہیں اور سود سے پاک قرضوں کے ذریعے غریبوں(اور بے زمین کسانوں) کے لیے رہائشی اسکیم متعارف کروائی جائیں گی۔

وزیر اعظم نے بتایا کہ روزانہ اجرت پر کام کرنے والوں، سڑکوں پر رہنے والے بچوں، موسمیاتی مہاجرین، ،مخنث افراد، چائلڈ اور بے گار مزدوری کے متاثرین اور یتیموں کے لیے کامیاب پروگرام کو آگے بڑھانے کی غرض سے غیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ اشتراک بھی کیا جائے گا۔

وزیراعظم کے مطابق کچی آبادی اور جھگیوں میں رہنے والے افراد کی رجسٹریشن کی جائے گی تا کہ ان علاقوں کی بتدریج کمرشلائزیشن میں ان کی شفاف شمولیت کو آسان بنایا جائے۔

مزید پڑھیں: ایمنسٹی انٹرنیشنل کی غربت مٹاؤ پروگرام ’احساس‘ پر حکومت کی تعریف

ان کا کہنا تھا کہ پارلیمینٹریرنز کے ترقیاتی فنڈز کے استعمال کے حوالے سے رہنمائی فراہم کرنے کے لیے نئی پالیسی متعارف کروائی جائے گی تا کہ شفافیت، آزادانہ نگرانی، احتساب اور ریاستی اور حکومتی اداروں میں ،مفادات کے ٹکراؤ کی صورت میں رہنمائی فراہم کی جاسکے۔