سعودی عرب میں پاکستانی میاں بیوی کے سر قلم

اپ ڈیٹ 11 اپريل 2019

ای میل

سعودی عرب کی سپریم کورٹ نے بھی سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا—فوٹو: ڈان ںیوز
سعودی عرب کی سپریم کورٹ نے بھی سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا—فوٹو: ڈان ںیوز

سعودی عرب میں منشیات کی اسمگلنگ کے جرم میں پاکستانی میاں بیوی کے سر قلم کر دیئے گئے۔

ریاض کے وزرات خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق سعودی عرب کی عدالت میں ہیروئن اسمگلنگ کے مجرم دونوں میاں بیوی کو سزائے موت کی سزا ہوئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: ‘حکومت بیرون ملک سزائے موت کے منتظر پاکستانیوں کو قانونی مدد فراہم کرے‘

جاری کردہ پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ محمد مصطفیٰ اور ان کی اہلیہ فاطمی اعجاز کو ’ہیروئن اسمگلنگ کے دوران حراست میں لیا گیا تھا‘۔

سعودی وزارت نے بتایا کہ ’مذکورہ گرفتاری عدالت میں ظاہر کی گئی جہاں تحقیقات کے نتیجے میں دونوں کو مجرم قرار دیا گیا‘۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ سزائے موت کو سپریم کورٹ میں بھی چینلج کیا گیا تاہم عدالت عظمیٰ نے سزا برقرار رکھی۔

بعدازاں رائل آرڈ کے بعد دونوں میاں بیوی کو جدہ میں سزائے موت دے دی گئی۔

مزیدپڑھیں: سعودی عرب میں دو پاکستانیوں کے سر قلم

جسٹس پروجیکٹ پاکستان (جے پی پی) نے سعودی عدالت کے فیصلے پر احتجاج کیا اور کہا کہ ’گزشتہ پانچ برسوں میں پہلی خاتون پاکستانی کو سزا دی گئی‘۔

جے پی پی کے مطابق اس حقیقت کے برعکس کہ دونوں ممالک قیدیوں کے تبادلے پر مذاکرات کررہے ہیں، میاں بیوی کے سر قلم کردیئے گئے۔

ان کے مطابق اوورسزایمپلائمنٹ والے معمولی اجرت پر روز گار کمانے والوں کو جھانسہ دے کر اسمگلنگ کرواتے ہیں۔

جے پی پی نے الزام عائد کیا کہ وفاقی حکومت اپنے مقدمات میں اپنے شہریوں کو تنہا چھوڑ دیتے ہیں جبکہ وزیراعظم نے بھی

یہ بھی پڑھیں: غلامی آج بھی جاری ہے

ایسے مقدمات میں ملزمان کی قانون مدد فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

جے پی پی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے حکومت پر زوردیا کہ تمام سفارتی تعلقات کو استعمال میں لاتے ہوئے سعودی حکومت کو پاکستانیوں کی سزائے موت روکنے پر آمادہ کرے۔

خیال رہے سعودی عرب میں سزائے موت دیے جانے کی شرح دنیا میں بلند ترین شمار کی جاتی ہے جہاں دہشت گردی، ریپ، مسلح ڈکیتی اور منشیات کی اسمگلنگ پر سزائے موت دی جاتی ہے۔

انسانی حقوق کے ماہرین سعودی عرب میں ملزمان کے ٹرائل کے حوالے سے کئی بار سوال اٹھا چکے ہیں، تاہم سعودی حکومت کا موقف ہے کہ سزائے موت مزید جرائم کو روکنے کے لیے موثر ہے۔

یہ بھی پڑھیں: انشاء اللہ 6 ماہ میں بیرون ملک قید پاکستانی واپس آجائیں گے، چیف جسٹس

سعودی عرب میں 2016 میں مجموعی طور پر 144 افراد کو سزا دی گئی تھی تاہم انسانی حقوق کے گروپ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق 2016 میں سعودی عرب میں 150 سے زائد افراد کو سزائے موت دی گئی۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ 2015 میں سعودی عرب میں 158 افراد کو سزائے موت دی گئی تھی، جو گزشتہ دو دہائیوں میں سب سے زیادہ تھی۔