جعلی اکاؤنٹس کیس: نیب کی آصف زرداری کی ضمانت مسترد کرنے کی درخواست

اپ ڈیٹ 12 اپريل 2019

ای میل

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ضمانت میں 29 اپریل تک توسیع کی تھی — فوٹو: ڈان نیوز/فائل
اسلام آباد ہائیکورٹ نے ضمانت میں 29 اپریل تک توسیع کی تھی — فوٹو: ڈان نیوز/فائل

قومی احتساب بیورو (نیب) نے آصف زرداری کی عبوری ضمانت مسترد کرنے کی درخواست دائر کردی اور ان کے خلاف جاری تحقیقات کی تفصیلات سے متعلق جواب جمع کروا دیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے 2 روز قبل جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کی عبوری ضمانت میں 29 اپریل تک توسیع کی تھی۔

نیب نے سابق صدر کی ضمانت سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کروائے گئے جواب میں کہا کہ اگر سابق صدر کو گرفتار نہیں کیا گیا تو وہ ’ریکارڈ میں رد و بدل‘ کرسکتے ہیں۔

قومی احتساب بیورو نے آصف زرداری پر تحقیقاتی ٹیم کے ساتھ تعاون نہ کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔

مزید پڑھیں: جعلی اکاؤنٹس کیس: آصف زرداری، فریال تالپور کی ضمانت میں 29 اپریل تک توسیع

جواب میں کہا گیا کہ درخواست گزار نے عدالت کو گمراہ کیا،آصف زداری ہائی کورٹ سے کسی ریلیف کے مستحق نہیں۔

نیب کے مطابق سابق صدر نے پارک لین کمپنی کے لیے دیگر کمپبنوں سے دھوکہ دہی سے ڈیڑھ ارب روپے کے قرضے لیے۔

جواب میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ آصف زرداری نے سابق وزیراعظم اور پی پی رہنما سید یوسف رضا گیلانی کے ساتھ مل کر متحدہ عرب امارات اور لیبیا کی حکومتوں کی جانب سے تحفے میں دی گئی3 بلٹ پروف گاڑیاں، 2 بی ایم ڈبلیو اور ایک ٹویوٹا لیکسز غیرقانونی طریقے سے حاصل کی تھیں۔

نیب نے مزید کہا کہ آصف زرداری نے مذکورہ گاڑیوں پر 3 کروڑ 71 لاکھ 60 ہزار روپے ڈیوٹی کی مد میں جعلی اکاؤنٹس سے چیک کے ذریعے ادا کیے تھے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ’نیب نے قانون کے مطابق دستاویزی ثبوت بھی جمع کیے ہیں‘۔

نیب کے مطابق درخواست گزار تعاون نہیں کررہے اور ان کے اثرورسوخ کی وجہ سے ثبوتوں میں رد وبدل کے خدشے کو رد نہیں کیا جاسکتا۔

کیس کا پس منظر

2015 کے جعلی اکاؤنٹس اور فرضی لین دین کے مقدمے کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری، ان کی بہن فریال تالپور اور ان کے کاروباری شراکت داروں سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔

یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ، سندھ بینک اور سمٹ بینک میں موجود ان 29 بے نامی اکاؤنٹس میں موجود رقم کی لاگت ابتدائی طور پر 35ارب روہے بتائی گئی تھی۔

اس سلسلے میں ایف آئی اے نے معروف بینکر حسین لوائی کو گرفتار کیا تھا، جس کے بعد ماہ اگست میں جعلی اکاؤنٹس کیس میں ہی اومنی گروپ کے چیئرمین انور مجید اور ان کے بیٹے عبدالغنی مجید کو بھی گرفتار کر لیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: جعلی اکاؤنٹس کیس: نیب کی دوسری پیش رفت رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع

7 ستمبر 2018 کو سپریم کورٹ نے سابق صدر مملکت اور ان کی بہن کی جانب سے مبینہ طور پر جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کیے جانے کے مقدمے کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی تھی۔

اس جے آئی ٹی نے سابق صدر آصف علی زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور سے پوچھ گچھ کی تھی جبکہ چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو سے بھی معلومات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

آصف علی زرداری نے جے آئی ٹی کو بتایا تھا کہ 2008 سے وہ کسی کاروباری سرگرمی میں ملوث نہیں رہے اور صدر مملکت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے خود کو تمام کاروبار اور تجارتی سرگرمیوں سے الگ کرلیا تھا۔

بعد ازاں اس کیس کی جے آئی ٹی نے عدالت عظمیٰ کو رپورٹ پیش کی تھی، جس میں 172 افراد کا نام سامنے آیا تھا، جس پر وفاقی حکومت نے ان تمام افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کردیے تھے۔

تاہم 172 افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کرنے پر سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے برہمی کا اظہار کیا تھا اور معاملے پر نظرثانی کی ہدایت کی تھی، جس کے بعد عدالت نے اپنے ایک فیصلے میں بلاول بھٹو اور مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: منی لانڈرنگ کیس: احتساب عدالت نے آصف زرداری اور فریال تالپور کو طلب کرلیا

بعدازاں نیب نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں کراچی پورٹ ٹرسٹ کے سیکریٹری آفتاب میمن، شبیر بمباٹ، حسن میمن اور جبار میمن کو گرفتار کر کے 14 روزہ ریمانڈ بھی حاصل کیا تھا، ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد ان ملزمان کو جیل بھیج دیا گیا۔

اس سلسلے میں 20 مارچ کو آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری نے پارک لین اسٹیٹ کرپشن کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں نیب کے سامنے پیش ہوکر اپنے بیانات قلم بند کرائے تھے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے یہ کیس نیب کے سپرد کرتے ہوئے 2 ماہ میں تحقیقات کا حکم دیا تھا اور نیب نے اس کے لیے مشترکہ انویسٹی گیشن ٹیم قائم کی تھی، جس کے سامنے آصف زرداری پیش ہوئے تھے۔

15 مارچ کو کراچی کی بینکنگ عدالت نے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ سے متعلق کیس کی کراچی سے اسلام آباد منتقلی کی نیب کی درخواست منظور کی تھی اور ساتھ ہی آصف علی زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور و دیگر ملزمان کی ضمانتیں واپس لیتے ہوئے زر ضمانت خارج کرنے کا حکم دے دیا تھا۔

مزید پڑھیں: آصف زرداری اور بلاول بھٹو نے نیب کے سامنے بیانات قلمبند کرادیے

جس کے بعد اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے اس کیس میں نامزد آٹھوں ملزمان کو طلب کرتے ہوئے سماعت 8 اپریل تک ملتوی کی تھی اور 9 اپریل کو احتساب عدالت نے باقاعدہ طور پر جعلی بینک اکاؤنٹس اور میگا منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کا آغاز کیا۔

احتساب عدالت کے رجسڑار نے بینکنگ کورٹ سے منتقل کئے جانے والے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے بعد اسے احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک کی عدالت میں منتقل کیا تھا۔