کوئٹہ دھماکا: ہلاکتوں کے خلاف ہزارہ برادری کا دھرنا تیسرے روز بھی جاری

اپ ڈیٹ 14 اپريل 2019

ای میل

مظاہرین نے مطالبات کی منظوری تک دھرنا ختم نہ کرنے کا مطالبہ کردیا— فوٹو: رائٹرز
مظاہرین نے مطالبات کی منظوری تک دھرنا ختم نہ کرنے کا مطالبہ کردیا— فوٹو: رائٹرز

کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی میں دھماکے اور اس میں 20 افراد کی ہلاکت کے خلاف ہزارہ برادری کا دھرنا تیسرے روز میں داخل ہو گیا۔

بلوچستان اور کوئٹہ میں شدید بارشوں کے باوجود ہزارہ برادری کے افراد دھرنا ختم کرنے پر راضی نہیں اور متاثرہ خاندانوں کا مطالبہ ہے کہ وفاقی حکومت، نیشنل ایکشن پلان پر موثر طریقے سے عملدرآمد اور شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کرائے۔

مزید پڑھیں: کوئٹہ: سبزی منڈی میں خودکش حملہ، 20 افراد جاں بحق

ڈی آئی جی کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ نے بتایا کہ ہزار گنجی سبزی منڈی میں خودکش حملہ کرنے والوں کے جسمانی اعضا ڈی این اے کے لیے بجھوا دیے گئے ہیں اور حملہ آور کی شناخت کے لیے نادرا سے بھی مدد لی جائے گی جبکہ جائے وقوع کی جیوفینسنگ بھی کی جارہی ہے۔

مظاہرین اور مجلس وحدت مسلمین کے رہنماؤں نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کو مرکزی ہائی وے سے ملانے والے مغربی بائی پاس کو ٹائر جلا کر اور رکاوٹیں لگا کر بند کیا اور علاقے میں کیمپس قائم کر لیے۔

ہزار گنجی میں جمعہ کو ہونے والے خود کش دھماکے میں ہزارہ برادری کے 7 افراد سمیت کم از کم 20 افراد ہلاک اور 48 زخمی ہوئے تھے اور تحریک طالبان پاکستان کے قاری حسین گروپ نے حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔

مظاہرین نے احتجاج کرتے ہوئے ٹائر جلائے اور سڑکوں کو بلاک کردیا— فوٹو: اے پی
مظاہرین نے احتجاج کرتے ہوئے ٹائر جلائے اور سڑکوں کو بلاک کردیا— فوٹو: اے پی

البتہ امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق عالمی شدت پسند تنظیم داعش نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے اہل تشیع آبادی اور پاک فوج کو نشانہ بنایا، دہشت گرد تنظیم نے مذکورہ خود کش بمبار کی تصویر بھی نام کے ساتھ جاری کی تھی۔

ہلاکتوں کے خلاف احتجاج کے دوران میری ٹائم کے امور کے وفاقی وزیر سید علی حیدر زیدی صوبائی دارالحکومت آئے اور متاثرہ خاندانوں سے ملاقاتیں کیں۔

یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ: سبزی منڈی میں بم دھماکے کی ذمہ داری داعش نے قبول کرلی

ہزار گنجی میں متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت خود کش دھماکے کی سنجیدگی سے تحقیقات کر رہی ہے اور حکومت کسی بھی مذہب، فرقے، ذات یا صوبے کی تفریق کے بغیر عوام کے تحفظ کی ذمہ داری لیتی ہے۔

انہوں نے مظاہرہ کرنے والوں کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرتے ہوئے دہشت گرد تنظیموں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی کرے گی۔

ہزارہ برادری کے دھرنے کا ایک منظر— فوٹو: اے ایف پی
ہزارہ برادری کے دھرنے کا ایک منظر— فوٹو: اے ایف پی

وفاقی وزیر ہزارہ ٹاؤن بھی گئے اور وزیراعظم عمران خان کی جانب سے متاثرہ خاندانوں سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے ہزارہ برادری کو نشانہ بنانے کی مذمت کی۔

البتہ وفاقی وزیر کی یقین دہانیوں کے باوجود مظاہرین نے دھرنا ختم کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ یہ اس وقت تک ختم نہیں ہو گا جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں کیے جائیں گے۔

مزید پڑھیں: بلوچستان: ڈیرہ مراد جمالی میں بم دھماکا، ایک شخص جاں بحق

مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ خودکش دھماکے میں ملوث افراد کو گرفتار کیا جائے اور ان کی برادری کے تحفظ اور نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لیے اقدامت کیے جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت ہزارہ برادری کے تحفظ میں ناکام ہو گئی ہے۔

ہفتے کو لوگوں کی بڑی تعداد نے مرکزی شاہراہ پر مارچ کر کے کوئٹہ پریس کلب کے باہر بھی احتجاج کیا۔