نایاب نسل کے آخری مادہ کچھوے کی ’پراسرار موت‘

15 اپريل 2019

ای میل

واحد مادہ کچھوا چینی صوبے جیانگسو کے شہر سوژوو کے چڑیا گھر میں  تھا—فائل فوٹو: سکس ٹون
واحد مادہ کچھوا چینی صوبے جیانگسو کے شہر سوژوو کے چڑیا گھر میں تھا—فائل فوٹو: سکس ٹون

دنیا کے متعدد ممالک میں اگرچہ کچھوے پائے جاتے ہیں، تاہم چین اور ویتنام میں ایسے کچھوے بھی پائے جاتے ہیں جن کی نسل معدوم ہونے کے قریب ہے۔

چین اور ویتنام میں یانگتسی نام کے ایسے نایاب کچھوے بھی پائے جاتے ہیں, جن کی مجموعی تعداد صرف 4 ہے، تاہم ان میں سے 2 کچھوؤں کی جنس کا تاحال کسی کو علم نہیں۔

چین اور ویتنام میں پائے جانے والے یانگتسی نسل کے ان 4 کچھووں میں سے صرف ایک مادہ کچھوا تھا جو بالآخر 90 سال کی عمر میں چڑیا گھر میں ہلاک ہوگیا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے نے چینی میڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں بتایا کہ چینی صوبے جیانگسو کے شہر سوژوو کے چڑیا گھر کے عہدیداروں نے اس بات کی تصدیق کی کہ نایاب نسل کا مادہ کچھوا 14 اپریل کو مردہ حالت میں پایا گیا۔

مردہ پائے گئے کچھوے کی 2015 میں لی گئی تصویر—فوٹو: اے ایف پی
مردہ پائے گئے کچھوے کی 2015 میں لی گئی تصویر—فوٹو: اے ایف پی

چڑیا گھر انتظامیہ کے مطابق مادہ کچھوے کی ہلاکت سائنسدانوں کی جانب سے اس کی نسل کی مصنوعی افزائش کے تجربے کے ایک دن بعد ہوئی۔

رپورٹ میں چینی میڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ سائنسدانوں نے مرنے والے مادہ کچھوے کے ذریعے ان کے تخم کی مصنوعی افزائش کی پہلے بھی کوششیں کیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ماہرین نے مادہ کچھوے کی بیضہ دانی سے حاصل کیے گئے نمونوں کو اسی نسل کے نر کچھوے کے نمونوں سے ملاکر مصنوعی افزائش نسل کے تجربات بھی کیے۔

حال ہی میں سائنسدانوں نے مر جانے والے مادہ کچھوے کی بیضہ دانی سے نمونے حاصل کیے تھے، تاہم نمونے حاصل کرنے کے 24 گھنٹے بعد وہ مر ہوگیا۔

ماہرین نے 2016 میں اس مادہ کی بیضہ دانی سے نمونے لیے تھے—فائل فوٹو: اے پی
ماہرین نے 2016 میں اس مادہ کی بیضہ دانی سے نمونے لیے تھے—فائل فوٹو: اے پی

رپورٹ کے مطابق یانگتسی نسل کے کچھوے کی نسل معدوم ہونے کے قریب ہے اور دنیا میں اس قسم کے صرف 4 کچھوے ہی موجود تھے، جن میں سے ایک مادہ مر گئی ہے۔

ابھی یہ واضح نہیں کہ مادہ کچھوے کی ہلاکت کیسے ہوئی، تاہم سائنسدانوں نے کچھوے کو تحقیق کے لیے لیبارٹری بھجوا دیا، جہاں اس کے مرنے کا سبب معلوم کیا جائے گا۔

زندہ بچ جانے والے یانگتسی کچھووں میں سے 2 کچھوے ویتنام میں ہیں، تاہم ان کی نسل کا کسی کو علم نہیں۔

اس نسل کے کچھوے ایشیا میں دریائے نیل جبکہ امریکا میں ایمازون کے بعد دنیا کے تیسرے بڑے دریا ’یانگتسی‘ میں پائے جاتے تھے۔

ان کچھووں کا وزن 100 کلو تک ہوتا ہے—فائل فوٹو: پیپلز چائنا ڈیلی
ان کچھووں کا وزن 100 کلو تک ہوتا ہے—فائل فوٹو: پیپلز چائنا ڈیلی

دریا ’یانگتسی‘ مغربی چین سے مشرقی چین تک پھیلا ہوا ہے جبکہ اسی دریا میں ان کچھووں کی موجودگی کی وجہ سے انہیں یانگتسی کا نام دیا گیا۔

یہ کچھوے جہاں دنیا کے نایاب کچھوے ہیں، وہیں انہیں دنیا کے سب سے بڑے کچھوے بھی کہا جاتا ہے۔

عام طور پر ان کچھووں کا وزن 100 کلو گرام ہوتا ہے اور ان کی جسامت 39 انچ تک ہوتی ہے۔

ان کچھووں کا خول دیگر کچھووں کے مقابلے انتہائی نرم ہوتا ہے۔

کچھوے کے مرنے سے ایک دن قبل ہی اس کے نمونے لیے گئے تھے—فوٹو: اے پی
کچھوے کے مرنے سے ایک دن قبل ہی اس کے نمونے لیے گئے تھے—فوٹو: اے پی