’بحرین حزب اللہ‘ تنظیم بنانے کی سازش میں 138 افراد کو سزائے قید

اپ ڈیٹ 16 اپريل 2019

ای میل

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے عدالتی فیصلے کو ’انصاف کے ساتھ مزاق‘ قرار دیا—فوٹو: اے ایف پی
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے عدالتی فیصلے کو ’انصاف کے ساتھ مزاق‘ قرار دیا—فوٹو: اے ایف پی

خلیجی ملک بحرین کی عدالت نے ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب کی طرز پر ’بحرین حزب اللہ‘ تنظیم تشکیل دینے کی سازش میں 138 افراد کی شہریت منسوخ کرتے ہوئے انہیں قید کی سزائیں سنادیں۔

خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق پبلک پراسیکیوٹر نے 138 افراد کے خلاف مقدمے اور سنائی جانے والی سزا کی تصدیق کی۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی وفد کا دورہ بحرین سیکیورٹی خدشات پر منسوخ

دوسری جانب بحرین کی اپوزیشن جماعتوں نے فیصلے کے خلاف احتجاج کیا جبکہ انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے عدالتی فیصلے کو ’انصاف کے ساتھ مذاق‘ قرار دیا۔

پراسیکیوٹر احمد الحمدی نے بتایا کہ ’مجرمان عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کرسکتے ہیں تاہم مجرموں کو کم از کم 3 برس سے لے لیکر عمر قید کی سزائیں ہوئی‘۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ 138 افراد پر الزام تھا کہ وہ لبنان میں سرگرم شعیہ ملیشیا طرز کی ’بحرین حزب اللہ‘ تنظیم تشکیل دینے کی کوشش کررہے تھے۔

ان کا دعویٰ تھا کہ ’بعض مجرموں میں نے لبنان، ایران اور عراق میں عسکری تربیت بھی حاصل کی‘۔

مزیدپڑھیں: بحرین میں پولیس کی فائرنگ سے 5 مظاہرین ہلاک

پراسیکیوٹر نے بتایا کہ ’138 مجرموں میں سے صرف ایک کی شہریت منسوخ نہیں کی گئی تاہم دیگر 30 افراد کو مقدمے سے بری کردیا گیا‘۔

دوسری جانب ایمنسٹی انٹرنیشنل نے سزاؤں کو عالمی عدالتی معیارات کے منافی قرار دیا۔

پراسیکیوٹر احمد الحمدی نے بتایا کہ ’69 مجروں کو عمرقید، 39 کو 10 برس، 23 کو 7 برس جبکہ دیگر کو 3 اور 5 برس قید کی سزا سنائی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ 96 مجرموں کو 2 لاکھ 65 ہزار ڈالر جرمانے کی سزا بھی سنائی۔

یہ بھی پڑھیں: بحرین میں اپوزیشن جماعتوں پر پابندی کے باوجود انتخابات کا انعقاد

بحرین انسٹیٹیوٹ فار رائٹس اینڈ ڈیموکریسی (برڈ) نے عدالتی فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’2012 میں بھی بحرین کی حکومت نے بڑے پیمانے پر لوگوں کی شہریت منسوخ کی تھی‘۔

برڈ کے مطابق بحرین نے رواں برس 180 لوگوں کی شہریت منسوخ کی، اس طرح مجموعی طورپر 990 افراد حکومت کی عتاب کا شکار ہو چکے ہیں۔