بی جے پی کا ’برقع‘ کے ذریعے انتخابات میں دھاندلی کا الزام

اپ ڈیٹ 18 اپريل 2019

ای میل

بھارت میں ووٹرز کا شناختی کارڈ اور فہرست میں نام دیکھنے کے بعد انہیں ووٹ کاسٹ کی اجازت دی جاتی ہے—فوٹو: انڈیا ٹوڈے
بھارت میں ووٹرز کا شناختی کارڈ اور فہرست میں نام دیکھنے کے بعد انہیں ووٹ کاسٹ کی اجازت دی جاتی ہے—فوٹو: انڈیا ٹوڈے

بھارت کے ایوان زیریں یعنی لوک سبھا کے انتخابات کا دوسرا مرحلہ 18 اپریل کو ہوا، جہاں 12 ریاستوں اور وفاقی حکومت کے ماتحت علاقوں میں ووٹ ڈالے گئے۔

دوسرے مرحلے میں مجموعی طور پر 14 کروڑ سے زائد افراد نے اپنا حق رائی دہی استعمال کیا اور ملک بھر سے 95 ارکان کا چناؤ کیا گیا۔

اس سے قبل 11 اپریل کو پہلے مرحلے میں 20 ریاستوں اور وفاقی حکومت کے ماتحت علاقوں میں ووٹنگ ہوئی تھی۔

لوک سبھا انتخابات کا تیسرا مرحلہ 23 اپریل کو ہوگا، مجموعی طور پر انتخابات کے 7 مرحلے ہوں گے اور آخری مرحلہ آئندہ ماہ 19 مئی کو ہوگا۔

لوک سبھا کے انتخابات شروع ہوتے ہی سیاسی جماعتوں کی جانب سے ایک دوسرے پر دھاندلی کے الزامات لگائے گئے اور اور ایک دوسرے پر ووٹ خریدنے کے الزامات بھی عائد کیے گئے۔

تاہم انتخابات کے پہلے مرحلے سے لے کر دوسرے مرحلے تک اقلیتی ووٹرز کے خلاف حکمران جماعت بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت دیگر جماعتیں دھاندلی کا رونا روتی آ رہی ہیں۔

برقع میں ملبوس خواتین کو درست انداز سے چیک نہیں کیا جا رہا، کنور سنگھ تنور—فائل فوٹو: فیس بک
برقع میں ملبوس خواتین کو درست انداز سے چیک نہیں کیا جا رہا، کنور سنگھ تنور—فائل فوٹو: فیس بک

دوسرے مرحلے کے لیے ڈالی جانے والی ووٹنگ کے دوران ریاست اترپردیش سے لوک سبھا کے حلقے امروہا سے انتخاب لڑنے والے بی جے پی رہنما کنور سنگھ تنور نے الزام عائد کیا ہے کہ’برقع‘ میں ملبوس خواتین دھاندلی کرتے ہوئے ایک سے زائد بار ووٹ کاسٹ کر رہی ہیں۔

کنور سنگھ تنور نے الزام عائد کیا کہ امروہا کی کئی پولنگ اسٹیشنز پر برقع میں ملبوس خواتین ایک سے زائد بار ووٹ کاسٹ کر رہی ہیں اور انہیں ایسا کرنے سے روکنے والا کوئی نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے حلقے کی متعدد پولنگ اسٹیشنز کا دورہ کیا اور ان کے لوگوں نے بھی پولنگ اسٹیشنز پر ووٹ کاسٹنگ کے عمل کی نگرانی کی۔

کنور سنگھ تنور نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ایک مرد کو بھی برقع میں ملبوس ہوکر ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے دیکھا۔

انہوں نے مسلمانوں کا نام لیے بغیر ’برقع‘ میں ملبوس خواتین پر الزام عائد کیا اور کہا کہ الیکشن کمیشن کا عملہ ایسی خواتین کی درست چیکنگ نہیں کر رہا۔

بعض پولنگ اسٹیشنز پر ایک سے زائد پولیس اہلکار تعینات ہوتے ہیں—فوٹو: اے ایف پی
بعض پولنگ اسٹیشنز پر ایک سے زائد پولیس اہلکار تعینات ہوتے ہیں—فوٹو: اے ایف پی

کنور سنگھ تنور کی جانب سے برقع میں ملبوس افراد کی جانب سے پر ووٹنگ میں دھاندلی کے الزامات لگانے پر جب صحافیوں نے ان سے سوال کیا کہ ووٹ کاسٹ کرنے والے ہر شخص کی انگلی پر سیاہی کا نشان لگایا جاتا ہے اور یہ کیسے ممکن ہے کہ سیاہی کے نشان کے ساتھ کوئی بھی شخص دوسری بار ووٹ کاسٹ کرے؟

کنور سنگھ تنور نے صحافیوں کے سوال کا واضح جواب دینے کے بجائے کہا کہ دراصل برقع میں ملبوس خواتین کو الیکشن کمیشن کا عملہ چیک ہی نہیں کر رہا۔

جب صحافی نے ان سے ایک اور پوچھا کہ کیا وہ مسلمانوں پر دھاندلی کا الزام لگا رہے ہیں تب ان کا کہنا تھا کہ وہ ایسا نہیں کہ رہے کہ مسلمان فرضی ووٹ ڈال رہے ہیں۔

خیال رہے کہ بھارت میں انتخابات کے دوران پولنگ سے قبل ہی الیکشن کمیشن کا عملہ ہر ووٹرز کا شناختی کارڈ دیکھنے کے بعد ان کا نام فہرست میں دیکھتا ہے۔

ہندو مذہب کے پیروکار کچھ قبیلوں کی خواتین بھی سخت پردہ کرتی ہیں، تاہم وہ برقع نہیں پہنتیں—فوٹو: اے ایف پی
ہندو مذہب کے پیروکار کچھ قبیلوں کی خواتین بھی سخت پردہ کرتی ہیں، تاہم وہ برقع نہیں پہنتیں—فوٹو: اے ایف پی

ووٹرز کا نام فہرست میں شامل ہونے کے بعد ہی انہیں ووٹ کاسٹ کرنے کی اجازت دی جاتی ہے اور ووٹرز کے انگلیوں پر سیاہی کا نشان لگایا جاتا ہے۔

بھارت میں ووٹنگ کے دوران الیکٹرانک مشینیں استعمال کی جاتی ہیں اور کوئی بھی ووٹرز اپنا نام اور شناختی کارڈ آویزاں ہونے کے بعد ہی ووٹ کاسٹ کر سکتا ہے۔

تاہم بی جے پی رہنماؤں کی جانب سے انتخابات کے پہلے اور اب دوسرے مرحلے میں ’برقع‘ میں ملبوس خواتین کی جانب سے ایک سے زائد بار ووٹ کاسٹ کیے جانے کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔

بی جے پی کی جانب سے یہ الزامات صرف ریاست اتر پردیش میں لگائے جا رہے ہیں، جہاں مسلمان ووٹرز زیادہ ہیں اور زیادہ تر مسلمان خواتین ہی برقع میں ہوتی ہیں۔