رمضان المبارک سے قبل ہی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ

ای میل

17 شہروں میں جائزے کے بعد قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا—فائل فوٹو: اے پی پی
17 شہروں میں جائزے کے بعد قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا—فائل فوٹو: اے پی پی

اسلام آباد/ کراچی: حکومت کی جانب سے مارکیٹ میں اپنی رٹ پر عملدرآمدات کے عزم کے باوجود رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہی ملک بھر میں ضروری غذائی اشیا کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوگیا۔

ملک میں ہول سیل اشیا کی سب سے بڑی مارکیٹ جوڑیا بازار میں قیمت میں اضافے کے بعد چینی کی ریٹیل قیمت 70 روپے کلو تک پہنچ گئی ہے جو کچھ روز قبل تک 65 روپے فی کلو تھی۔

موسم گرما میں شیرے (سویٹنر) کی ڈیمانڈ میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے کیونکہ یہ عام طور پر ڈرنکس، سیرپ، جوسز اور کنفیکشنریز کی تیاری میں زیادہ استعمال ہوتا ہے۔

اگر چینی کی قیمت پر نظر ڈالیں تو رواں سال کے آغاز میں اس کی قیمت 55 روپے کلو تھے جو فروی میں بڑھ کر 58 سے 60 روپے فی کلو ہوئی جبکہ مارچ میں ریٹیل مارکیٹ میں چینی 63 روپے فی کلی دستیاب تھی۔

مزید پڑھیں: مہنگائی 5 سال کی بلند ترین شرح 9.4 فیصد تک پہنچ گئی

ساتھ ہی جولائی 2018 سے فروری 2019 کے درمیان ملک میں چینی کی پیداوار میں 8 فیصد تک کمی ہوئی اور یہ 3.728 ملین ٹن رہی جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 4 ملین ٹن تھی۔

کراچی میں دکاندار 68 سے 70 روپے فی کلو چینی فروخت کر رہے ہیں جبکہ ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جنہوں نے پہلے ہی کم ہول سیل قیمت میں اسٹاک جمع کیا ہوا تھا اور وہ اب مارکیٹ میں قیمت کے مسلسل اضافے کو دیکھتے ہوئے اچھا منافع بنا رہے ہیں۔

اس حوالے سے کراچی ہول سیلر گروسرز ایسوسی ایشن (کے ڈبلیو جی اے) کے سربراہ انیس مجید کا کہنا تھا کہ 2 ماہ قبل ہول سیل قیمت 53 سے 55 روپے فی کلو تھی جو اب 63 سے 64 روپے کلو کے درمیان ہے۔

انہوں نے کہا کہ کارخانوں کی جانب سے قیمتوں میں اضافہ کیا گیا، شوگر ملز والے کاشتکاروں سے 182 روپے کے سرکاری نرخ کے بجائے 200 روپے کا 40 کلو گنا حاصل کر رہے ہیں جبکہ اس سیزن میں ملک میں گنے کی پیداوار بھی کم ریکارڈ کی گئی ہے۔

انیس مجید نے کہا کہ گزشتہ برس گنے کی پیداوار زیادہ ہوئی تھی لیکن کاشتکاروں کو ملز مالکان کی جانب سے 182 روپے کے سرکاری نرخ سے کم قیمت ملی تھی۔

رواں مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران چینی کی برآمدات میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی جو گزشتہ سال کی 10 لاکھ ٹن کے مقابلے میں صرف 3 لاکھ 77 ہزار 6 سو 77 ٹن رہی جبکہ آمدن بھی 36 کروڑ 20 لاکھ کے مقابلے میں صرف 11 کروڑ 50 لاکھ ڈالر رہی۔

قیمتوں میں اضافے کا رجحان

دوسری جانب حساس قیمتوں کے انڈیکس (ایس پی آئی) کے ذریعے دیکھی گئی ہفت وار مہنگائی میں 25 اپریل کو ختم ہونے والے ہفتے گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 0.37 فیصد اضافہ ہوا۔

قیمتوں میں یہ اضافہ سالانہ بنیادوں پر 13 فیصد کے قریب ہے جس میں آئندہ ہفتوں میں مزید اضافے کا امکان ہے۔

قیمتوں کے تعین کی کمیٹیوں اور اسپیشل پرائس مجسٹریٹ کی موجودگی کے باوجود بنیادی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

ایس پی آئی مانیٹرز نے 17 شہروں میں 53 مارکیٹس میں 53 اشیا کی بنیاد پر سروے کیا، اس دوران 20 اشیا کی قیمتوں میں اضافہ اور 10 کی قیمتوں میں کم ہوئی جبکہ 23 کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

یہ بھی پڑھیں: مہنگائی کا اثر صرف امیروں پر پڑا، غریب طبقہ اس سے محفوظ رہا، اسد عمر

ان قیمتوں کے مختلف آمدنی والے گروپس پر پڑنے والے اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا، سب سے کم آمدنی والی گروپ (8 ہزار روپے ماہانہ کمانے والوں) کے لیے گزشتہ ہفتے ایس پی آئی میں 0.4 فیصد اضافہ ہوا جبکہ (35 ہزار یا اس سے زائد) کمانے والے گروپ کے لیے مہنگائی میں 0.35 فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا۔

جن اشیا خورونوش کی قیمتوں میں گزشتہ ہفتے اضافہ دیکھنے میں آیا ان میں ٹماٹر کی قیمت میں 9.32 فیصد، اس کے بعد پیاز کی قیمت میں 8.35 فیصد، آلو 4.71 فیصد، انڈے 4.52 فیصد، کیلے 3.42 فیصد، دال مونگ 1.98 فیصد، چینی 1.86 فیصد، دال ماش 1.42 فیصد، لہسن 0.73 فیصد، دال چنا 0.67 فیصد، تیار چائے 0.59 فیصد، مٹن 0.51 فیصد، دہی 0.28 فیصد، سادہ ڈبل روٹی 0.14 فیصد، ہڈی والا گوشت 0.03 فیصد، چاول اری 0.03 فیصد، پکی ہوئی دال 0.02 فیصد اور گڑ 0.02 فیصد مہنگا ہوا۔

اس کے علاوہ ہفتے کے دوران جو غیر غذائی اشیا مہنگی ہوئیں ان میں سیگریٹ میں 0.02 فیصد اور شرٹ 0.47 فیصد اضافہ شامل ہے۔

سروے کے دوران جن اشیا کی قیمتیں کم ہوئیں، ان میں مرغی کی قیمت 1.11 فیصد، گندم 0.77 فیصد، گندم کا آٹا 0.51 فیصد، سرخ مرچ پاؤڈر 0.25 فیصد، کھانے پکانے کا تیل 0.23 فیصد، ویجیٹیبل گھی 0.23 فیصد اور دھلی دال 0.05 فیصد کم ہوئی جبکہ غیر غذائی اشیا میں ایل پی جی سیلینڈر میں 1.06 فیصد اور فائرووڈ ہول میں 0.45 فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔