ہندوؤں کی یادگاریں پیروں تلے! لیکن کیوں؟

اپ ڈیٹ 06 مئ 2019

ای میل

پاکستان کے مسلمانوں میں ایک عمومی تاثر یہ ہے کہ قبروں پر پیر رکھنے سے مردے کی بے حرمتی ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے جس طرح کے بے ہنگم اور بے ترتیب قبرستان پاکستان بھر میں اور خصوصاً کراچی میں موجود ہیں، یہ بات ممکن ہی نہیں کہ آپ کسی کی تدفین کے لیے شرکت کرنے جائیں اور کسی قبر پر پیر نہ رکھیں۔

اگر آپ یورپ کے قبرستان دیکھیں تو وہاں قبریں جس ترتیب سے بنائی گئی ہیں، سوال ہی نہیں ہوتا کہ کسی بھی قبر پر پیر پڑ جائے، بلکہ مردوں کی تدفین کا اتنا حسین انتظام دیکھ کر وہیں مر جانے کو جی چاہتا ہے۔

لیکن ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک پاکستانی مسلمان کی قبر ایسی جگہ پر ان کی وصیت کے مطابق بنائی گئی ہے جہاں پر لوگ پیر رکھ کر اندر داخل ہوتے ہیں۔ فی الحال اس کی تفصیل میں نہیں جاتے۔ اس وقت ہمارا موضوع ہندو برادری ہے۔

پاکستان میں ایسے بے شمار ہندو ہیں جنہوں نے کسی مندر، دھرم شالہ یا اسپتال کے داخلی دروازے پر اپنے نام تحریر کروائے ہیں، تاکہ جو لوگ ان مقدس مقامات میں داخل ہوں، ان کے ناموں پر قدم رکھتے ہوئے اندر جائیں۔ ان کا یہ عقیدہ تھا کہ اس سے ان کی آتما کو شانتی ملے گی۔ سچ پوچھیے تو ہمارے لیے یہ ایک حیرت انگیز بات تھی۔

گزشتہ دنوں ہمارے دوست اختر سومرو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھانے کے لیے اسلام آباد گئے ہوئے تھے۔ وہاں سے انہوں نے ہمیں اطلاع دی کہ اسلام آباد کے نواحی علاقے سیدپور میں واقع ایک مندر میں بھی اسی طرح کے نام لکھے ہوئے ہیں۔ اس مندر کا نام رام کنڈ مندر ہے۔

مزید پڑھیے: کراچی کی سکھ برادری کہاں ہے؟

انٹرنیٹ پر موجود معلومات کے مطابق اس مندر کی تعمیر مغل شہنشاہ اکبر کے دور میں ہوئی اور اس کی تعمیر کی ذمہ داری راجہ مان سنگھ کو سونپی گئی تھی۔ 2006ء میں کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے اس مندر کی تزئین و آرائش کے کام کا آغاز کیا۔ مندر کے صحن اور برآمدے میں خوبصورت کاشی کا کام دیکھنے لائق ہے۔

ہمارے دوست آدرش ایاز لغاری کے مطابق مندر 3 عمارتوں پر مشتمل ہے۔ بائیں جانب کی عمارت کا طرزِ تعمیر بالکل مندر جیسا لگتا ہے، لیکن درمیان میں موجود ہال شاید دھرم شالا کے طور پر استعمال کیا جاتا ہوگا۔ دائیں جانب والی عمارت کے بارے میں مقامی لوگوں کا خیال ہے کہ یہ گردوارے کی عمارت ہے، لیکن اس کے طرزِ تعمیر سے گردواروں جیسا تاثر نظر نہیں آتا اور اندرونی تعمیر بھی مندروں جیسی ہی ہے۔ یہاں فرش اور دیواروں پر نصب کی گئی تختیاں بھی دیو ناگری رسم الخط میں ہیں۔

پنجاب میں عموماً گردواروں اور ان کے فرش پر لگائی جانے والی تختیوں پر تحریر کے لیے گر مکھی یا اردو زبان کا استعمال کیا جاتا تھا۔ اسی طرح اس مندر کے لیے چندہ دینے والوں کے نام بھی ان تختیوں پر درج ہیں اور یہ بظاہر ہندو نام ہیں۔ اس لیے یہ نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے کہ یہ عمارت گردوارہ نہیں بلکہ مندر کا ہی حصہ تھی۔

خیر آئیے اب ذرا ماضی کی طرف چلتے ہیں۔ یہ 1998ء کی بات ہے۔ ہم جب حیدرآباد پہنچے تو ہمارے ایک ہم خیال دوست ہمیں وہاں کے پریس کلب لے گئے، جہاں کھانے پینے کی بھی آزادی تھی۔ یہاں جو لوگ آتے ہیں ان میں کوئی لسانی، مذہبی، علاقائی اور نسلی تعصب نہیں ہوتا۔ شدید گرمیوں کے دن تھے۔ ویسے تو کلب کی سرگرمیاں شام کے وقت شروع ہوتی تھیں لیکن صحافی حضرات دن میں ہی کھانے پینے لگ جاتے تھے، خاص طور پر ان دنوں جب شہر میں کھانے اور پینے کے ہوٹل بند ہوں۔

ایک دن ایک دوست نے کہا کہ یار کلب کا مینیو تقریباً ہر روز ایک جیسا ہوتا ہے، اب ذرا منہ کا ذائقہ تبدیل ہونا چاہیے۔ ہم نے کہا وہ سب تو ٹھیک ہے لیکن کیسے؟ اور اس کے لیے جائیں گے کہاں؟ وہ بولے مندر جانا پڑے گا۔ ہم نے پوچھا مندر کیوں؟ وہ بولے مندر میں کھانا ضرور ملے گا۔

ہمارے آبائی شہر میرپور خاص میں ریلوے پلیٹ فارم کا ٹکٹ تقریباً 50 پیسے کا ہوا کرتا تھا، تو رمضان کے مہینے میں وہاں روزہ خور حضرات یہ ٹکٹ صرف اس لیے خریدا کرتے تھے تاکہ ریلوے اسٹیشن پر پیٹ پوجا کرسکیں۔ اسٹیشن چوک پر نفیس سوئیٹ مارٹ کے ساتھ ایک پتلی سی گلی ہے، جس کے ایک کونے پر نسوار کی دکان تھی۔ جب گلی میں داخل ہوتے تو گلی کے عین وسط میں ایک بنیے کا ہوٹل تھا۔ ہوٹل میں عام دنوں میں بھی ہندوؤں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہی ہوتی تھی اور زیادہ تر مسلمان وہاں جایا کرتے تھے، لیکن رمضان میں تو خیر وہاں ہوتے ہی مسلمان تھے۔

مسلمانوں میں ہوٹل کی مقبولیت کی ایک خاص وجہ بکرے کے گوشت کا سالن ہوتا تھا۔ شہر کے اکثر مسلمانوں کا خیال تھا کہ دیگر مسلمانوں کے ہوٹلوں پر بکرے کے گوشت کے نام پر بچھیا کا گوشت فروخت کیا جاتا تھا، جبکہ ہندو ایسا کر ہی نہیں سکتا، کیونکہ اگر وہ گائے کا گوشت فروخت کرے گا تو اس کا دھرم بھرشٹ ہوجائے گا۔ نہ جانے اب وہ ہوٹل ہے یا نہیں۔

خیر ہم بات کر رہے تھے حیدرآباد کے مندر میں جاکر کھانا کھانے کی۔ ہم نے اپنے دوست سے دریافت کیا کہ آخر وہ مندر ہے کہاں تو انہوں نے جواب دیا کہ تلک چاڑی پر۔ اگلے دن کا وقت طے ہوگیا۔ ہم دونوں اگلے دن دوپہر کو پریس کلب سے تلک چاڑی مندر پہنچے۔ میرے ساتھی اکثر وہاں جاتے ہوں گے اس لیے وہ تیز تیز مندر کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے مندر میں داخل ہوگئے۔ میں ان کے پیچھے تھا۔ جیسے ہی اندر داخل ہونے لگا تو دیکھا کہ سیڑھیوں کے ماربل پر نام کنندہ ہے۔ ان میں سے ایک پر سندھی میں لکھا تھا ’داسی کندی بائی نے اپنے سرگواسی پتی دیوان اوڈھومل موج سنک کی پوتر یاد میں۔‘ ایسے ہی کچھ اور نام بھی لکھے ہوئے تھے۔ میں ان سے بچ کر چلنے کی کوشش کر رہا تھا کہ ایک صاحب جو میرے پیچھے آرہے تھے اور خاصی جلدی میں تھے مجھ سے سندھی میں بولے، ’ادا مسلمان آھیں چھا‘ (بھائی کیا مسلمان ہو؟) میں نے ہچکچاتے ہوئے جواب دیا ہاں۔ بولے چلو چلو کچھ نہیں ہوتا۔ خیر نہ چاہتے ہوئے بھی ہم ناموں پر پیر رکھتے ہوئے اندر چلے گئے۔

اس کے بعد ایک شخص نے ہمارے آگے اسٹیل کی ایک تھالی رکھی۔ اس میں تھوڑے چاول، دال کا ایک پیالہ، اچار، ایک کرارا پاپڑ اور کچی لسی کا ایک گلاس رکھ دیا۔ ایک تھالی سے بھلا کہاں ہمارا گزارا ممکن تھا، تو 2 تھالیاں کھائیں اور واپس پریس کلب پہنچ گئے۔ لیکن کافی دنوں تک یہ سوال ہمارے ذہن میں کھٹکتا رہا کہ آخر ہندو اپنے ناموں کو نیچے زمین پر کیوں لکھواتے ہیں، مگر پھر محو ہوگیا۔

ابھی چند پہلے تک گرو گرپت مندر تلک چاڑی کے بارے میں تصاویر حاصل کرنا اور اس کی تاریخ کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ایک بڑا مشکل کام تھا۔ لیکن اس سلسلے میں ہمارے صحافی دوستوں اشوک شرما، ولی محمد انقلابی اور فوٹو جرنلسٹ انجم پرویز نے بڑی کرم فرمائی کی اور نہ صرف تصاویر لے کر بھیجیں بلکہ اس کی تاریخ کے بارے میں بھی چند معلومات فراہم کیں۔

اس مندر کا نام گرو گرپت مندر ہے۔ یہ مندر شہر کے معروف کاروباری علاقے تلک چاڑی میں واقع ہے۔ مندر کی تعمیر کا آغاز تقسیم ہند سے قبل 1932ء میں شروع ہوا۔ اس کی تعمیر کو 6 سال کا عرصہ لگا اور یوں 1938ء میں اس کی تعمیر مکمل ہوئی۔ 1944ء میں پھر مندر کی تزئین و آرائش کا کام پایہ تکمیل کو پہنچا۔

مندر میں لکڑی کا خوبصورت کام کیا گیا ہے، جہاں ہندو دیوی دیوتاؤں کے علاوہ بابا گرو نانک اور دیگر سکھ اکابرین کی تصاویر بھی آویزاں کی گئی ہیں۔ مندر میں سنگِ مرمر پر بنی ہوئی ایک سلیب بھی موجود ہے جس کے بارے میں مقامی ہندوؤں کا عقیدہ ہے کہ یہ سلیب تقریباً 100 سال پرانی ہے اور مندر کی تعمیر کے وقت کھدائی کے دوران بر آمد ہوئی تھی۔

ہم نے شکار پور کے سماجی کارکن اور مخیر شخص رائے بہادر ادھو داس پر ایک بلاگ لکھا تھا۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ ادھو داس نے بھی اپنا نام اسپتال میں داخل ہونے والی سیڑھیوں پر لکھوایا تھا اور لوگ ان کے نام پر پیر رکھتے ہوئے اسپتال میں داخل ہوتے ہیں۔

یہ بات ہماری سمجھ سے بالاتر تھی کہ آخر کار ہندو برادری کے افراد مندروں، دھرم شالاؤں اور اپنی جانب سے تعمیر کی ہوئی عمارتوں کے داخلی دروازوں کے فرش پر اپنے نام کیوں لکھواتے ہیں؟ کیا انہیں اس بات کا اندازہ نہیں ہوتا کہ ان کے ناموں پر پیر رکھ کر لوگ عبادت گاہ، اسپتال، دھرم شالا یا مندر میں داخل ہوں گے؟

مزید پڑھیے: 1857 کی بغاوت میں ہندو مسلم اتحاد کا افسانہ

اس حوالے سے جب ہم نے میرپورخاص کے معروف قانون دان جناب روچی نرام ایڈووکیٹ سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ ’ہندو دھرم میں ایسا کوئی عقیدہ نہیں ہے کہ ان کے ناموں پر پیر رکھنے سے بعد از مرگ ان کی آتما کو شانتی ملے گی۔ یہ لوگوں کا انکساری اور اپنی ذات کو کم تر ثابت کرنے کا ایک طریقہ ہے‘۔

کراچی کے دریا لال مندر کے پجاری وجے کمار کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ’لوگ اس طرح اپنے پیاروں کی آتما کو شانتی دینے کے لیے ان کے نام قدموں پر لکھواتے ہیں تاکہ جب لوگ ان ناموں پر پیر رکھ کر اندر جائیں تو ان کی آتما کو شانتی ملے‘۔

ہندوؤں کے مذہبی مقدس مقامات پر یہ نام اور ان کی تصاویر ہم نے حیدرآباد، کراچی اور اسلام آباد میں موجود اپنے دوستوں کے ذریعے حاصل کیں۔ میں اس کے لیے اپنے دوستوں اشوک شرما، ولی محمد انقلابی، انجم پرویز اور اوم پرکاش کا بے حد مشکور ہوں۔ ہمارے ایک دوست نے کہا کہ قدموں تلے نام لکھوانے کا مسئلہ صرف ہندوؤں کا نہیں بلکہ مسلمانوں میں بھی اس طرح کی روایت ہے۔ ہم نے کہا یہ سب ٹھیک ہے لیکن اس حوالے سے لکھنے کے لیے پھر کبھی سوچیں گے۔