پیٹرول کی قیمت 14 روپے بڑھانے کی سفارش

اپ ڈیٹ 30 اپريل 2019

ای میل

اگر قیمتوں میں اضافہ ہوجاتا تو پیٹرول 113 روپے فی لیٹر تک پہنچ جائے گا — فائل فوٹو: اے ایف پی
اگر قیمتوں میں اضافہ ہوجاتا تو پیٹرول 113 روپے فی لیٹر تک پہنچ جائے گا — فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے آئندہ ماہ مئی کے لیے پیٹرول کی قیمت میں 14 روپے 38 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) میں 4 روپے 89 پیسے فی لیٹر اضافے کی سفارش کردی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق فراہمی میں کمی کی افواہوں کے باعث خام تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں اضافے کو دیکھتے ہوئے اوگرا نے تمام پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 15 فیصد تک اضافے کی تجویز دے دی۔

پیٹرول اور ایچ ایس ڈی کے ساتھ ساتھ اوگرا نے مٹی کے تیل کی قیمت میں 7 روپے 45 پیسے اور لائٹ ڈیزل آئل (ایل ڈی او) میں 6 روپے 41 پیسے فی لیٹر اضافے کی تجویز دی۔

مزید پڑھیں: حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں تیسری مرتبہ اضافہ کردیا

واضح رہے کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل عام طور پر بڑی گاڑیوں اور مشینری کے لیے استعمال ہوتا ہے جبکہ لائٹ ڈیزل آئل پرانے انجن کے ماڈلز والی گاڑیوں اور چھوٹی صنعتوں، جو زیادہ تر دیہی علاقوں میں ہوتی ہیں، وہاں استعمال کیا جاتا ہے۔

اوگرا کی جانب سے وزارت توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری ارسال کی گئی ہے لیکن ڈویژن میں موجود ذرائع کا کہنا تھا کہ رمضان سے قبل قیمتوں میں زیادہ اضافے کو روکنے کے لیے حکومت ڈیزل پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کو 17 فیصد سے کم اور دیگر مصنوعات پر پیٹرولیم لیوی (پی ایل) کی ایڈجسمنٹ کرسکتی ہے۔

خیال رہے کہ اوگرا کی جانب سے پیٹرول پر پیٹرولیم لیوی 10 روپے فی لیٹر، ایچ ایس ڈی کے لیے 8 روپے، مٹی کے تیل کے لیے 6 روپے اور لائٹ ڈیزل آئل کے لیے 3 روپے فی لیٹر کی تجویز دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

تاہم اگر اوگرا کی جانب سے بھیجی گئی سمری حکومت کی جانب سے منظور کی جاتی ہے تو مئی کے لیے پیٹرول کی قیمت 98 روپے 88 پیسے سے بڑھ کر 113 روپے 26 پیسے تک پہنچ جائے گی۔

اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 117 روپے 43 پیسے فی لیٹر سے بڑھ کر 122 روپے 32 پیسے تک پہنچ جائے گی جبکہ ایل ڈی او کی قیمت 80 روپے 54 پیسے سے بڑھ کر 86 روپے 94 پیسے فی لیٹر اور مٹی کا تیل 96 روپے 76 پیسے فی لیٹر ہوجائے گا۔

اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے آج (30 اپریل) تک حتمی فیصلہ لیا جائے گا، جس کے بعد نئی قیمتوں کا اطلاق ہوگا۔