پیر افضل قادری نے تحریک لبیک کو خیرباد کہہ دیا

اپ ڈیٹ 01 مئ 2019

ای میل

پیر افضل قادری اس وقت جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں — فائل فوٹو/ اے ایف پی
پیر افضل قادری اس وقت جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں — فائل فوٹو/ اے ایف پی

تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے بانی پیر افضل قادری نے صحت کی خرابی کے باعث پارٹی سے استعفیٰ دے دیا۔

پیر افضل قادری، ان دنوں مختلف مقدمات میں نامزد ہونے کی وجہ سے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں، انہوں نے سپریم کورٹ کی جانب سے آسیہ بی بی کو رہا کیے جانے کے فیصلے کے خلاف ٹی ایل پی کے احتجاج میں سخت الفاظ کے استعمال پر معذرت بھی کی۔

ٹی ایل پی کی جانب سے 25 نومبر 2018 کو بطور یوم شہدا منانے کے اعلان کے بعد حکومت نے پیر افضل قادری کو نومبر میں ہی دہشت گردی اور بغاوت کے الزامات کے تحت 'حفاظتی تحویل' میں لے لیا تھا۔

مزید پڑھیں: 'اگر آئین کی کسی شق کو روند دیا جائے تو کیا غداری کا کیس نہیں بنے گا؟'

خیال رہے کہ پیر افضل قادری اور ٹی ایل پی کے سربراہ خادم حسین رضوی کی جانب سے دائر ضمانت کی درخواستیں لاہور ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہیں، اس سے قبل ان کی ضمانت کی درخواستیں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے مسترد کردی تھیں۔

پیر افضل قادری مستعفی ہوگئے —فوٹو:اسکرین شاٹ
پیر افضل قادری مستعفی ہوگئے —فوٹو:اسکرین شاٹ

ضمانت سے متعلق درخواستوں کی آخری سماعت کے دوران عدالت عالیہ نے پولیس کو خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری کے خلاف ثبوت پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

خیال رہے کہ ڈان نیوز کو پیر افضل قادری کے استفعے سے متعلق بیان کی ویڈیو موصول ہوئی تھی، اس کے ساتھ منسلک ایک بیان میں بتایا گیا تھا کہ ٹی ایل پی کے بانی نے حکومت، عدلیہ اور آرمی چیف کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے پر معذرت کی ہے۔

اپنے بیان میں پیر افضل قادری کا کہنا تھا کہ 'میں دل، گردے، ہائی بلڈ پریشر اور شوگر جیسے امراض میں مبتلا ہوں اور جس وقت آسیہ بی بی کے کیس کا فیصلہ سنایا گیا تو اس سے میرے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچی اور جس پر میں نے ایک تقریر کی، میں حکومت، عدلیہ اور آرمی چیف کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے پر معذرت کرتا ہوں'۔

علاوہ ازیں پیر افضل قادری نے رواں سال کے آغاز میں بہاولپور یونیورسٹی میں ہونے والے واقعے سے ٹی ایل پی کو قطع تعلق قرار دیا، جس میں ٹی ایل پی کے سینئر رہنما سے مبینہ طور پر تعلق رکھنے والے طالب علم نے اپنے استاد کو قتل کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ’خادم حسین ضمانت دیں، رہائی کے بعد امن و امان میں خلل نہیں ڈالیں گے‘

انہوں نے اپنی پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں پر زور دیا کہ وہ اپنے خیالات قرآن اور سنت کی روشنی میں پھیلائیں اور اس حوالے سے پاکستان کے آئین اور قانون کی پاسداری کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'کسی کو بھی تشدد، سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی جبکہ دہشت گردی، قتل اور عسکری فرقہ پسندی کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے'۔

پیر افضل قادری کا کہنا تھا کہ 'تمام اداروں، قانون اور پاکستان کے آئین کو عزت دینی چاہیے' اور ساتھ ہی کارکنان پر زور دیا کہ وہ ملک کے تحفظ کے لیے پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔

ٹی ایل پی کے بانی نے کارکنوں سے مطالبہ کیا کہ وہ 'امن کے ساتھ رہیں، اچھا برتاؤ کریں اور ایسے کسی بھی معاملے سے خود کو دور رکھیں جو ریاست کے خلاف ہو'۔

مزید پڑھیں: 'خادم حسین رضوی کا ضمانت نامہ دینے کا وقت گزر گیا'

اس کے ساتھ ہی انہوں نے انکشاف کیا کہ پارٹی کو چھوڑنے کا فیصلہ وہ گذشتہ سال ہی کرچکے تھے اور انہوں نے اس حوالے سے اپنے دوستوں کو آگاہ بھی کردیا تھا لیکن وہ اس کا اعلان اب کررہے ہیں کیونکہ ان کی صحت اب مزید پارٹی معاملات کو دیکھنے کی اجازت نہیں دے رہی۔

ٹی ایل پی رہنماؤں کی گرفتاری

11 اپریل 2019 کو لاہور ہائیکورٹ میں تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ خادم حسین رضوی کی درخواست ضمانت سے متعلق سماعت پر وکیل نے کہا تھا کہ ہم ضمانت نامہ دینے کو تیار ہیں، تاہم عدالت نے ریمارکس دیے تھے کہ اب وہ وقت گزر گیا، قانون کے مطابق کیس کا فیصلہ ہوگا۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال توہین مذہب کے مقدمے میں مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو رہا کیے جانے کے سپریم کورٹ کے فیصلے خلاف تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے پُر تشدد مظاہروں کے دوران توڑ پھوڑ اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: خادم حسین رضوی کے جوڈیشل ریمانڈ میں مزید توسیع

جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے تحریک لبیک پاکستان کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا گیا تھا، اس دوران خادم حسین رضوی کو 23 نومبر 2018 کو 30 روزہ حفاظتی تحویل میں لیا گیا تھا اور بعد ازاں انسداد دہشت گردی عدالت نے رواں سال جنوری میں انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔