'اگر آئین کی کسی شق کو روند دیا جائے تو کیا غداری کا کیس نہیں بنے گا؟'

29 اپريل 2019

ای میل

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پراسیکیوٹر جنرل کو عدالت نے کہا ہے تو انہیں پیش ہونا چاہیے — فائل فوٹو/ ٹوئٹر
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پراسیکیوٹر جنرل کو عدالت نے کہا ہے تو انہیں پیش ہونا چاہیے — فائل فوٹو/ ٹوئٹر

لاہور ہائیکورٹ نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ خادم حسین رضوی اور دیگر رہنماؤں کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے 2 مئی کو ٹی ایل پی کے سربراہ کے خلاف قابل گرفتاری ثبوت کا ریکارڈ طلب کر لیا۔

لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس محمد قاسم خان کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ خادم حسین رضوی اور رہنما افضل قادری کی ضمانتوں کی درخواست پر سماعت کی۔

دوران سماعت خادم حسین رضوی کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ پولیس نے ان کے موکل کو غیر قانونی طور پر مقدمہ درج کر کے گرفتار کیا اور ساتھ ہی عدالت سے درخواست کی کہ خادم حسین رضوی پر عوام کو اکسانے کا بے بنیاد الزام ہے۔

جسٹس قاسم خان نے ریمارکس دیئے کہ گذشتہ سماعت پر پراسیکیوٹر جنرل کو پیش ہونے کا حکم دیا تھا، جس پر ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل خرم خان کا کہنا تھا کہ پراسیکیوٹر جنرل اسلام آباد میں ہیں۔

مزید پڑھیں: 'خادم حسین رضوی کا ضمانت نامہ دینے کا وقت گزر گیا'

انہوں نے مزید کہا کہ پراسیکیوٹر جنرل نے کیس مجھے منتقل کر دیا ہے، جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پراسیکیوٹر جنرل کو عدالت نے کہا ہے تو انہیں پیش ہونا چاہیے۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مولانا خادم حسین رضوی نے پاک فوج اور عدلیہ کے خلاف بیان بازی کی اور ان پر آسیہ مسیح کی رہائی کے خلاف اشتعال انگیز تقریر کرنے کا الزام ہے۔

جسٹس قاسم خان نے استفسار کیا کہ کہیں آئین میں لکھا ہے کہ کسی ادارے کے خلاف بات نہیں کی جا سکتی؟ اگر آئین کی کسی شق کو روند دیا جائے تو کیا وہ غداری کا کیس نہیں بنے گا؟

اس پر خادم حسین رضوی کے وکیل کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے اسی حکمراں جماعت نے بھی دھرنے دیئے تھے وہ سب میڈیا پر بھی چلا، جس پر جسٹس قاسم خان نے ریمارکس دیئے کہ ہم نے میڈیا کی رپورٹس دیکھ کر نوٹس نہیں لینا، ہم نے تو وہی دیکھ کر فیصلہ کرنا ہے جو ہمارے پاس فائل میں ہے۔

خادم حسین رضوی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 23 نومبر 2018 کو مقدمہ درج کیا اور 2 جنوری کو نظر بندی کے حکم کے تحت گرفتار کیا گیا، جس پر جسٹس قاسم خان نے ریمارکس دیئے کہ بادی النظر میں مقدمہ درج ہونے کے بعد آپ نے نظر بندی حکم نامے کے ذریعے گرفتاری ڈالی ہے.

جسٹس قاسم خان نے پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ ضمنی میں دیکھ کر بتائیں کس تاریخ کو لکھا گیا ہے کہ ثبوت قابل گرفتاری گزر چکا ہے، اس کیس کا تفتیشی افسر کہاں ہے؟

یہ بھی پڑھیں: ’خادم حسین ضمانت دیں، رہائی کے بعد امن و امان میں خلل نہیں ڈالیں گے‘

جسٹس قاسم خان نے مقدمے کے ریکارڈ سمیت پیش ہونے پر اے ایس آئی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ کیا ایسے کیس میں اے ایس آئی تفتیش کر سکتا ہے؟

اس پر سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ یہ تفتیشی افسر نہیں یہ ریکارڈ لے کر حاضر ہوا ہے، جس پر جسٹس قاسم خان نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تو یہ کیوں آگے بڑھ رہا ہے؟ کیا یہاں مٹھائی بٹ رہی ہے؟

خادم حسین رضوی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملک میں انتشار پھیلانے اور لوگوں کو اکسانے کا الزام بے بنیاد ہے اور پولیس تفتیش مکمل کر چکی ہے اور انہیں بلاوجہ جیل میں قید کر رکھا گیا ہے جبکہ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔

انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ خادم رضوی 6 ماہ سے قید ہیں، ان کے موکل کی ضمانت کی درخواستیں کو منظور کر کے رہا کرنے کا حکم دیا جائے۔

واضح رہے کہ خادم حسین رضوی کی درخواست میں پنجاب حکومت اور دیگر کو فریق بنایا گیا۔

مزید پڑھیں: خادم حسین رضوی کے جوڈیشل ریمانڈ میں مزید توسیع

عدالت نے ہر تاریخ سماعت پر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) انویسٹی گیشن اور تفتیشی افسر کو حاضر رہنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی عدالت نے 2 مئی کو خادم حسین رضوی کے خلاف قابل گرفتاری ثبوت کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا۔

11 اپریل 2019 کو لاہور ہائیکورٹ میں تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ خادم حسین رضوی کی درخواست ضمانت سے متعلق سماعت پر وکیل نے کہا تھا کہ ہم ضمانت نامہ دینے کو تیار ہیں، تاہم عدالت نے ریمارکس دیے تھے کہ اب وہ وقت گزر گیا، قانون کے مطابق کیس کا فیصلہ ہوگا۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال توہین مذہب کے مقدمے میں مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو رہا کیے جانے کے سپریم کورٹ کے فیصلے خلاف تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے پُر تشدد مظاہروں کے دوران املاک کو نقصان اور توڑ پھوڑ کی گئی تھی۔

جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے تحریک لبیک پاکستان کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا گیا تھا، اس دوران خادم حسین رضوی کو 23 نومبر 2018 کو 30 روزہ حفاظتی تحویل میں لیا گیا تھا اور بعد ازاں انسداد دہشت گردی عدالت نے رواں سال جنوری میں انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔