سنگین غداری کیس: پرویز مشرف کی التوا کی درخواست منظور

اپ ڈیٹ 02 مئ 2019

ای میل

عدالت نے پرویز مشرف کی بریت سے متعلق درخواست پر حکومت کو نوٹس جاری کیے — فائل فوٹو: ڈان اخبار
عدالت نے پرویز مشرف کی بریت سے متعلق درخواست پر حکومت کو نوٹس جاری کیے — فائل فوٹو: ڈان اخبار

اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے سنگین غداری کیس میں سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی جانب سے کیس کو ملتوی کرنے کی درخواست منظور کرلی جبکہ ان کی رہائی سے متعلق درخواست پر حکومت اور استغاثہ کو نوٹسز جاری کردیے۔

جسٹس طاہرہ صفدر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی سماعت کی۔

خیال رہے کہ اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو 2 مئی کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا تھا جبکہ ساتھ ہی یہ حکم بھی جاری کیا گیا تھا کہ عدالت نہ پہنچنے کی صورت میں بیان ریکارڈ کرنے سے متعلق مناسب حکم جاری کردیا جائے گا۔

تاہم آج ہونے والی سماعت کے دوران پرویز مشرف کے وکیل پیرسٹر سلمان صفدر کی جانب سے کیس کو ملتوی کرنے سے متعلق درخواست دائر کی گئی جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل شدید علیل ہیں اور انہیں ڈاکٹرز کی جانب سے سفر کرنے کی اجازت نہیں۔

مزید پڑھیں: مشرف کی واپسی ان کے معالجین کی رائے سے مشروط ہے، مہرین آدم

سابق صدر کے وکیل نے درخواست میں کہا کہ ان کے موکل وطن واپسی کے خواہشمند ہیں۔

وکیل نے درخواست کے ساتھ پرویز مشرف کی میڈیکل سرٹیفکیٹس سمیت ہسپتال میں زیرِ علاج تصاویر بھی منسلک کیں تھیں۔

انہوں نے موقف اختیار کیا تھا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف جان لیوا بیماری میں مبتلا ہیں اور سفر کی اجازت نہ ہونے پر پاکستان نہیں آسکے۔

سلمان صفدر نے کہا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کا مقدمہ 2007 میں بنایا گیا، وہ اپنے کیسز کے باوجود 2013 میں ملک واپس آئے اور ان پر 2014 میں فردِ جرم عائد کی گئی۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ ان کے موکل چند ماہ میں پاکستان آرہے لیکن استغاثہ اپنا کیس ثابت نہیں کرسکا۔

یہ بھی پڑھیں: پرویز مشرف پر بنی فلم ’انشاء اللہ ڈیموکریسی‘ کی نمائش

انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر درخواست منظور کی جائے اور کیس کی کارروائی رمضان کے بعد تک موخر کی جائے۔

اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے یہ بھی استدعا کی کہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے پرویز مشرف کو پیش ہونے کا ایک موقع دیا جائے۔

استغاثہ کی جانب سے کیس ملتوی کرنے کی درخواست پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا گیا کہ پرویز مشرف کی عدم موجودگی میں بھی کیس چل سکتا ہے۔

جسٹس طاہرہ صفدر نے ریمارکس دیے کہ التوا کی درخواست کے ساتھ میڈیکل رپورٹ بھی لگائی گئی ہے جس پر وکیل استغاثہ نے کہا کہ اس رپورٹ کے مصدقہ ہونے پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

خصوصی عدالت نے مشرف کی کیس کے التوا کی درخواست منظور کرتے ہوئے اسے 12 جون تک ملتوی کردیا اور استغاثہ کو نوٹس پر جاری کردیا گیا۔

عدالت نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی بریت سے متعلق درخواست پر حکومت اور استغاثہ کو نوٹسز جاری کردیے۔