شکار پور: 40 سالہ شخص کی 10 سالہ بچی سے شادی کی کوشش ناکام

ای میل

پولیس کے مطابق ملزمان کو جلد عدالت میں پیش کردیا جائے گا — فوٹو بشکریہ ٹوئٹر
پولیس کے مطابق ملزمان کو جلد عدالت میں پیش کردیا جائے گا — فوٹو بشکریہ ٹوئٹر

صوبہ سندھ کے علاقے شکارپور میں پولیس نے 40 سالہ شخص کی 10 سالہ بچی کے ساتھ زبردستی شادی کی کوشش ناکام بناتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کرلیا۔

یہ واقعہ شکار پور کی تحصیل خانپور کے نواحی گاؤں مھرو ماڑی میں پیش آیا، جس میں رخصتی سے قبل پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے دلہا اور دلہن کو گرفتار کرلیا۔

پولیس کی جانب سے گرفتار کیے گئے 40 سالہ شخص کی شناخت محمد سومر جبکہ 10 سالہ بچی کی شناخت ملوکان شیخ کے نام سے ہوئی ہے، ملزم پر 10 سالہ بچی سے زبردستی شادی کرنے کا الزام ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں کم عمری کی شادیاں، وجوہات اور اُن کے نقصانات

پولیس کے مطابق 40 سالہ شخص کا 10 سالہ بچی کے ساتھ زبردستی نکاح پڑھایا گیا تھا جس کی اطلاع ملنے پر رخصتی سے قبل کارروائی کرتے ہوئے دلہے اور دلہن کو گرفتار کرلیا۔

گرفتاری کے بعد دلہے کو نیو فوجداری تھانہ منتقل کیا گیا ہے جبکہ 10 سالہ بچی کو وومین کمپلین سیل شکارپور منتقل کردیا گیا۔

دلہا محمد سومر نے پولیس کو بتایا کہ اس نے بچی کی دادی کو ڈھائی لاکھ روپے ادا کیے ہیں، جو بچی کی خریداری کے لیے دیئے گئے اور آج ہمارا صرف نکاح ہوا تھا جبکہ رخصتی سے قبل پولیس نے کارروائی کرکے گرفتار کرلیا۔

یہ بھی پڑھیں: سینیٹ کمیٹی: شادی کی کم سے کم عمر 18 سال مقرر کرنے کا بل منظور

دوسری جانب پولیس کا کہنا تھا کہ اطلاع ملی تھی کے گاؤں مھرو ماڑی میں 10 سالہ بچی کا زبردستی نکاح پڑھوایا گیا ہے اور رخصتی کی تیاری کی جارہی ہے جس پر کارروائی کرتے ہوئے دلہا اور دلہن کو گرفتار کرلیا گیا۔

پولیس نے بتایا کہ دلہن کے والد اور نکاح خواہ پولیس کارروائی کے موقع پر فرار ہوگئے تھے، جنہیں بعد ازاں گرفتار کرلیا گیا۔

پولیس یہ بھی تفتیش کررہی ہے کہ کہیں والد نے بچی کو جوئے میں تو نہیں ہارا۔

ان کا کہنا تھا کہ بچی، دلہا اور دیگر ملزمان کو جلد عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: تھرپارکر: کم عمر لڑکیوں سے شادی کے جرم میں دولھا سمیت 8 افراد گرفتار

بعد ازاں پولیس نے واقعے کی ایف آئی آر درج کرلی، ایس ایچ او ناپر کوٹ امتیاز کھاوڑ کے مطابق دلہا اور دلہن کے والد کو گرفتار کرلیا ہے جن پر بچی کی زبردستی شادی اور اسے ڈھائی لاکھ روپے میں فروخت کرنے کا الزام ہے۔

علاوہ ازیں یہ بھی بتایا گیا کہ ایس ایس پی شکار پور ساجد امیر صدزوئی کی نگرانی میں ایک ٹیم تشکیل دی گئی ہے جو واقعے کی انکوائری کرے گی، تاحال بچی اور اس کی دادی پولیس کی تحویل میں ہیں۔