سندھ: پڈعیدن پریس کلب پر حملہ، صحافی جاں بحق

ای میل

پولیس حکام کے مطابق مقتول مقامی پریس کلب کے عہدیدار بھی تھے — فوٹو بشکریہ ٹوئٹر
پولیس حکام کے مطابق مقتول مقامی پریس کلب کے عہدیدار بھی تھے — فوٹو بشکریہ ٹوئٹر

**دادو: سندھ کے علاقے نوشہروفیروز میں پڈعیدن پریس کلب پر ہونے والے حملے میں ایک صحافی جاں بحق ہوگیا۔

سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) نوشہروفیروز طارق ولایت نے ڈان کو صحافی علی شیر راجپر کی ہلاکت کی تصدیق کی، ان کا تعلق سندھی روزنامے عوامی آواز سے تھا۔

اس کے علاوہ مقتول مقامی پریس کلب کے عہدیدار بھی تھے۔

مزید پڑھیں: یوم آزادی صحافت اور بے سہارا صحافی

پولیس افسر نے بتایا کہ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے مقامی ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ فوری طور پر صحافی کے قتل کے محرکات کے حوالے سے معلومات نہیں مل سکیں۔

ایس ایس پی کا کہنا تھا کہ حملہ آور واقعے کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا جسے بعد ازاں پولیس نے گرفتار کرلیا۔

پولیس کے مطابق ملزم حبیب کا بیان سی آر پی سی کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کرالیا گیا ہے، جس میں ملزم نے پولیس کو بتایا کہ علی شیر نے انہیں خاندان کے ایک معاملے میں پریشان کیا تھا جس پر وہ معافی کے لائق نہیں تھے۔

ملزم کو بینظیر آباد پولیس نے گرفتار کیا اور اس سے اسلحہ بھی برآمد کرلیا۔

واضح رہے کہ صحافیوں کے تحفظ اور ان پر ہونے والے تشدد و غیر قانونی کیسز کی نگرانی کرنے والے ادارے ’پاکستان پریس فاؤنڈیشن‘ (پی پی ایف) کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان بھر میں 2002 سے لے کر اپریل 2019 تک صحافیوں کے قتل، تشدد اغوا اور اسی طرح کے دیگر 699 واقعات ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 18 برس میں 72 صحافیوں کو قتل کیا گیا جن میں سے 48 صحافی خالصتاً خبر دینے، معلومات دوسروں تک پہنچانے اور مسائل کی کوریج کے دوران قتل کیے گئے، جب کہ دیگر 24 صحافیوں کو بھی مختلف وجوہات کی بنیاد پر قتل کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: ’5 برسوں میں 26 صحافی قتل، کسی ایک قاتل کو بھی سزا نہیں ہوئی‘

صحافیوں کی ٹارگٹ کلنگ کے حوالے سے سب سے بدترین سال 2014 رہا، جس دوران ملک بھر میں 7 صحافیوں کو قتل کیا گیا، دوسرے نمبر پر 2012 رہا، جس دوران 6 صحافیوں کو نشانہ بنایا گیا، اسی طرح 2010 میں صحافیوں کے قتل کے 7 واقعات پیش آئے۔

پی پی ایف نے اسی عرصے کے دوران پاکستانی میڈیا پر سینسرشپ کے 130 واقعات کی بھی نشاندہی کی۔

اسی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2002 سے لے کر اب تک مختلف واقعات کے دوران ملک بھر میں 171 صحافیوں کو شدید تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا جب کہ اسی عرصے کے دوران 77 صحافیوں پر معمولی تشدد کے واقعات بھی رپورٹ کیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ 18 سال میں 32 بار میڈیا ہاؤسز پر حملے کیے گئے جب کہ صحافیوں کے گھروں پر حملوں کے 11 واقعات بھی رونما ہوئے۔

پاکستان میں 2002 سے 2019 تک صحافیوں کو ہراساں کرنے کے 5 واقعات رپورٹ ہوئے جب کہ صحافیوں پر ہتک عزت کے دعوے دائر کرنے کے 6 کیسز بھی رپورٹ کیے گئے اور اسی دوران 26 صحافیوں کو اغوا بھی کیا گیا۔