نواز شریف کی جیل واپسی: قومی مقاصد قربانی مانگتے ہیں، مریم نواز

اپ ڈیٹ 07 مئ 2019

ای میل

نواز شریف کو طبی بنیادوں پر 6 ہفتوں کی ضمانت دی گئی تھی—فائل/فوٹو:ڈان
نواز شریف کو طبی بنیادوں پر 6 ہفتوں کی ضمانت دی گئی تھی—فائل/فوٹو:ڈان

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے اپنے والد کے جیل جانے کو قومی مقصد سے تعبیر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خود اپنے والد کو وہاں چھوڑ کر آئیں گی کیونکہ قومی مقاصد قربانی مانگتے ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ 'ٹویٹر' پر اپنے بیان میں مریم نواز نے کہا کہ ‘جتنا کٹھن فیصلہ ایک باپ کا بیٹی کا ہاتھ تھامے جیل جانے کا تھا، اتنا ہی کٹھن ایک بیٹی کا اپنے محبوب والد کو جیل چھوڑ کر آنا ہے، مگر میں جاؤں گی کیونکہ مقصد قومی ہے اور باپ بیٹی کے رشتوں سے کہیں بڑا ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘قومی مقاصد قربانی مانگتے ہیں اور کل انشااللہ میں کارکنوں کے ساتھ ہوں گی’۔

مریم نواز نے اپنے دوسری ٹویٹ میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ‘جی، میں میاں صاحب کے ساتھ جاؤں گی اور کارکنوں سے بھی بات کروں گی’۔

خیال رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں اسلام آباد کی احتساب عدالت کی جانب سے دی گئی سزا پر جیل میں تھے تاہم سپریم کورٹ نے 27 مارچ کو ان کی درخواست پر 6 ہفتوں کے لیے انہیں طبی بنیادوں پر ضمانت دی تھی۔

مزید پڑھیں: نواز شریف کی درخواست ضمانت منظور،کوٹ لکھپت جیل سے رہا

نواز شریف کی ضمانت کے 6 ہفتے مکمل ہو چکے ہیں اور وہ اب لاہور کی کوٹ لکھپت جیل جائیں گے۔

سابق وزیراعظم نے ضمانت میں توسیع اور بیرون ملک علاج کی اجازت کے لیے سپریم کورٹ میں نظر ثانی درخواست جمع کرائی تھی جس کو چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے مسترد کردیا تھا۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) نے نواز شریف کو قافلے کی شکل میں کوٹ لکھپت جیل پہنچانے کے انتظامات کر لیے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگ زیب نے کہا کہ ‘مریم نواز، میاں نواز شریف کو جیل تک رخصت کرنے جائیں گی، حمزہ شہباز بھی نواز شریف کے ہمراہ ہوں گے’۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ:نواز شریف کی ضمانت میں توسیع،بیرون ملک علاج کی درخواست مسترد

ان کا کہنا تھا کہ ‘پارٹی کا فیصلہ ہے کہ مریم نواز پارٹی کارکنان میں موجود ہوں گی، رائیونڈ سے کوٹ لکھپت جیل تک مریم نواز والد کے ساتھ آخری لمحے تک ان کے ساتھ ہوں گی’۔

مریم اورنگ زیب نے کہا کہ ‘کارکنان اپنے قائد کے ساتھ اظہارِ یک جہتی کے لیے جلوسوں کی صورت میں موجود ہوں گے، مریم نواز کل نواز شریف کے ساتھ گاڑی میں موجود ہوں گی، مریم نواز کارکنان کے ہمراہ نواز شریف کو الوداع کریں گی’۔

یاد رہے کہ 24 دسمبر 2018 کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے نیب کی جانب سے سپریم کورٹ کی ہدایت پر دائر العزیزیہ اسٹیل ملز اور فیلگ شپ ریفرنسز پر فیصلہ سنایا تھا۔

عدالت نے نواز شریف کو فلیگ شپ ریفرنس میں بری جبکہ العزیزیہ ریفرنس میں 7 سال قید کی سزا کے ساتھ ساتھ ایک ارب روپے اور ڈھائی کروڑ ڈالر علیحدہ علیحدہ جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔

علاوہ ازیں نواز شریف کو عدالت نے 10 سال کے لیے کوئی بھی عوامی عہدہ رکھنے سے بھی نااہل قرار دے دیا تھا،مذکورہ فیصلے کے بعد نواز شریف کو گرفتار کرکے پہلے اڈیالہ جیل اور پھر ان ہی کی درخواست پر انہیں کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔