متحدہ عرب امارات کے ساحل پر 4 جہاز ’تخریب کاری کا نشانہ‘ بنائے گئے، حکام

اپ ڈیٹ 13 مئ 2019

ای میل

بندرگاہ پر دھماکوں کی اطلاع غیر مصدقہ ثابت ہوئی — فوٹو: رائٹرز
بندرگاہ پر دھماکوں کی اطلاع غیر مصدقہ ثابت ہوئی — فوٹو: رائٹرز

دبئی: متحدہ عرب امارات نے کہا ہے کہ مشرقی ساحل پر اس کے 4 کمرشل جہازوں کو ’تخریب کاری کا نشانہ' بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔

یہ رپورٹ ایرانی اور لیبیا کے میڈیا میں اماراتی بندرگاہوں پر دھماکے کی غلط خبروں کے چند گھنٹوں بعد سامنے آئی۔

اس حوالے سے اماراتی عہدیدار نے تخریب کاری کی نوعیت اور اس میں مبینہ طور پر کون ذمہ دار ہوسکتا ہے، کے حوالے سے کچھ بھی بتانے سے انکار کیا۔

تاہم اس واقعے کی رپورٹس امریکا کی جانب سے اس بیان کے چند گھنٹوں بعد سامنے آئی تھیں، جس میں اس نے جہازوں کو خبردار کیا تھا کہ ایران اور اس کے اتحادی خطے میں سمندری ٹریفک کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کی طرف سے غیر واضح خطرات: امریکی 'بی 52' بمبار قطر پہنچ گئے

علاوہ ازیں امریکا، ایران کی جانب سے مبینہ خطرے کے تدارک کے لیے خلیج فارس میں ایک ایئر کرافٹ کریر اور بی-52 بمبار تعینات کررہا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران اور دیگر عالمی اداروں کے ساتھ 2015 میں کیے گئے جوہری معاہدے سے دستبرداری کے بعد ایران پر پابندی کے دوبارہ نفاذ سے ایرانی معیشت بحران کا شکار ہوگئی ہے جس سے دونوں ممالک میں کشیدگی میں اضافہ ہوا۔

گزشتہ ہفتے ایران نے خبردار کیا تھا کہ اگر عالمی طاقتیں معاہدے کی شرائط پر بات چیت کرنے میں ناکام رہیں تو وہ 60 روز میں بلند ترین سطح پر یورینیئم کی افزائش شروع کردے گا۔

دوسری جانب اماراتی وزارت خارجہ سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق وہ مقامی اور بین الاقومی تعاون سے اس واقعے کی تحقیقات کررہے ہیں۔

مزید پڑھیں: ایران کے ساتھ تنازع: امریکا نے خلیج فارس میں پیٹرائٹ میزائل دفاعی نظام بھیج دیا

بیان میں مزید بتایا گیا کہ جہازوں پر کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی ان میں سے کسی قسم کا خطرناک مواد یا ایندھن خارج ہوا۔

امریکی بحریہ کے پانچویں فلیٹ، جو خطے کی نگرانی کرتا ہے، نے اس واقعے پر فوری طور تبصرہ نہیں کیا اور اماراتی حکام نے بھی جاری تحقیقات کے حوالے سے مزید تفصیلات دینے سے انکار کیا۔

قبل ازیں لبنان کے ایران نواز سیٹیلائنٹ چیننل المایدین نے ’خلیجی ذرائع‘ کے حوالے سے غلط طور پر بتایا تھا کہ فجیرہ بندرگاہ پر سلسلسہ وار دھماکے ہوئے ہیں۔

جس کے بعد ایران کے سرکاری اور نیم سرکاری میڈیا نے المایدن کی یہ رپورٹ خود بھی نشر کی اور بعدازاں اس رپورٹ میں واقعے کے دوران مبینہ طور پر نشانہ بننے والے جہازوں کے نام بھی شامل کرلیے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا نے ایران پر مزید معاشی پابندیاں عائد کردیں

تاہم خبررساں ادارے کے اماراتی حکام اور مقامی عینی شاہدین سے گفتگو کرنے کے بعد بندرگاہ پر دھماکوں کی اطلاع غیر مصدقہ ثابت ہوئی۔

خیال رہے کہ فجیرہ کی بندرگاہ آبنائے ہرمز سے 85 کلومیٹر کے فاصلے پر قائم ہے جہاں سے دنیا میں تیل کی مجموعی تجارت کا ایک تہائی حصہ گزرتا ہے۔


یہ خبر 13 مئی 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔