سندھ میں ایڈز کا مرض بے قابو، ٹھٹھہ میں بھی 5 کیسز سامنے آگئے

14 مئ 2019

ای میل

یک ہزار 984 افراد میں سے مزید 52 افراد میں ایڈز کی تشخیص ہوگئی—فائل فوٹو: رائٹرز
یک ہزار 984 افراد میں سے مزید 52 افراد میں ایڈز کی تشخیص ہوگئی—فائل فوٹو: رائٹرز

ٹھٹھہ: خون کی غیر محفوط منتقلی سے سندھ میں ایچ آئی وی/ایڈز کے پھیلاؤ کی خطرناک رپورٹس سامنے آنے کے بعد ٹھٹھہ میں میں بھی ایڈز کے 5 کیسز سامنے آ گئے۔

ٹھٹھہ میں ایچ آئی وی /ایڈز کنٹرول پروگرام کی فوکل پرسن ڈاکٹر ام فروا نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک 2 خواتین اور 3 مردوں میں ایڈز کی تشخیص ہوئی ہے جنہیں مزید تصدیق کے لیے کراچی کے ہسپتال تجویز کیا گیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ کراچی میں ہونے والے ٹیسٹس میں ایک کا نتیجہ منفی آیا جبکہ ایک شخص جو کراچی میں سول ہسپتال گیا وہ بغیر کسی علاج کے فوراً اپنے گاؤں واپس آگیا جبکہ 2 افراد نامعلوم وجوہات کی بنا پر کراچی گئے ہی نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لاڑکانہ کے 14 بچوں میں ایچ آئی وی پازیٹو (ایڈز) ہونے کا انکشاف

انہوں نے مزید بتایا کہ جب مریض سے عجلت میں واپسی کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے جواب دیا کہ علاج کا طریقہ کار جان کر خوفزدہ ہوگیا تھا اسلیے اس نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ اپنا علاج وہاں نہیں کروائے گا۔

ڈاکٹر فروا کا مزید کہنا تھا کہ ضلع کے مضافات میں رہنے والے زیادہ تر افراد غربت کی سطح سے نیچے زندگی بسر کرتے ہیں اسلیے اس مریض سمیت دیگر افراد بھی کراچی جانے کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے۔

انہوں نے متعلقہ اداروں سے درخواست کی کہ ایچ آئی وی کے مریضوں کو کراچی بھیجنے کے بجائے ان کے گھروں سے قریب علاج کی سہولت فراہم کی جائے۔

مزید پڑھیں: حیدرآباد میں ایچ آئی وی کے 140 مثبت کیسز حکومتی توجہ حاصل کرنے میں ناکام

دوسری جانب ٹھٹھہ کے ڈسٹرک ہیلتھ افسر ڈاکٹر حنیف میمن نے ضلع میں ایچ آئی وی کیسز سامنے آنے کی رپورٹس مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ضلع میں صرف ایک کیس سامنے آیا تھااور وہ مریض کراچی میں زیرِ علاج ہے۔

رتو ڈیرو میں مزید 52 افراد ایچ آئی وی پازیٹو

لاڑکانہ: رتو ڈیرو تعلقہ ہسپتال میں خون کے ٹیسٹ کے لیے لگائے گئے کیمپ میں ایک ہزار 984 افراد میں سے مزید 52 افراد میں ایڈز کی تشخیص ہوگئی جس میں سے 44 بچے شامل ہیں۔

سندھ ایڈز کنٹرول کے پروجیکٹ مینیجر ڈاکٹر سکندر میمن نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ خون کے ٹیسٹ کا یہ کام 15 دن تک جاری رہا جس کے نتیجے میں سامنے آنے والے کیسز میں 8 خواتین اور 44 بچے جن میں 24 لڑکے اور 20 لڑکیاں شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: رتوڈیرو کے 13بچوں کے ایچ آئی وی ٹیسٹ مثبت آنے کا انکشاف

اس ضمن میں سندھ کی وزیر صحت عذرا پیچوہو نے کمشنر کے دفتر میں ایک اجلاس کی سربرراہی کی جس میں رتو ڈیرو میں جاری صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

خیال رہے کہ یہ علاقہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو اور ان کی پھوپھی فریال تالپور کے حلقے میں شمار ہوتا ہے۔

دوسری جانب اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) سرتاج جاگیرانی نے بتایا کہ جس ڈاکٹر پر یہ مہلک وائرس پھیلانے کا الزام عائد تھا اس کے بھی ایچ آئی وی پازیٹو ہونے کی تصدیق ہوگئی۔


یہ خبر 14 مئی 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔