جعلی شادیوں کا معاملہ: چینی باشندوں نے ضمانت کیلئے درخواست دائر کردی

ای میل

ملزمان کے وکیل کے مطابق چینی باشندوں کے خلاف ثبوت موجود نہیں — فائل فوٹو/ اے پی
ملزمان کے وکیل کے مطابق چینی باشندوں کے خلاف ثبوت موجود نہیں — فائل فوٹو/ اے پی

پاکستانی لڑکیوں سے جعلی شادیوں کے الزام میں گرفتار چینی باشندوں نے لاہور کی عدالت میں ضمانت کے لیے درخواستیں دائر کرتے ہوئے ان پر لگے الزامات کو بے بنیاد قرار دے دیا۔

چینی باشندوں اور ان کے مبینہ پاکستانی ایجنٹس نے ضمانت کے لیے لاہور کی مقامی عدالت میں درخواست دائر کی، جسے منظور کرتے ہوئے عدالت نے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کو نوٹس بھیج دیا۔

جن ملزمان کی جانب سے ضمانت کی درخواستیں دائر کی گئیں ان میں لیو تھیانگ، سوانگ گواچا، لیو لی بل، رانگ گو، فنگ شنگ گو، لیو چوانگ، لیو تھیانگ لی، جو جانگ زن، چانگ گانگ اور سنگ ہونگ شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: جعلی شادیوں کا معاملہ: چینی باشندے 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل

اس کے علاوہ چینی باشندوں کے غیر قانونی اقدام میں مدد گار مقامی سہولت کار ملزمان محمد انصر اور شوکت علی نے بھی سلیم احمد خان ایڈووکیٹ کی وساطت سے ضمانت کی درخواستیں دائر کیں۔

چینی باشندوں کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کو جھوٹے مقدمے میں بے بنیاد نامزد کر کے گرفتار کیا گیا اور ساتھ ہی موقف اختیار کیا کہ ایف آئی اے نے خود ہی ایک جھوٹی کہانی تیار کر کے ان کے موکلوں کو گرفتار کرلیا۔

ملزمان کے وکیل نے عدالت کو مزید بتایا کہ درخواست گزار پاکستان میں کاروبار کے لیے آئے تھے مگر ان کو گرفتار کر لیا گیا، انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملزمان کے خلاف کوئی ثبوت موجود نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: چینی شہریوں سے ’شادی‘ کرنے والی 2 بہنوں کو آخری لمحات میں بچا لیا گیا

انہوں نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ ضمانت پر رہائی کی درخواستیں منظور کی جائیں اور رہائی دی جائے، جس پر عدالت نے ایف آئی اے کے انسداد انسانی اسمگلنگ سیل کو نوٹس جاری کر کے کل تمام ریکارڈ طلب کر لیا۔

گذشتہ روز لاہور کی مقامی عدالت نے پاکستانی لڑکیوں سے جعلی شادیاں کر کے ان کا جنسی استحصال کرنیوالے چینی باشندوں کے خلاف کیس کی سماعت کرتے ہوئے ملزمان کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔

واضح رہے کہ پنجاب میں ایف آئی اے نے اب تک 39 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جس میں زیادہ تر چینی باشندے ہیں جبکہ پاکستانی لڑکیوں کو چین اسمگل کرکے مبینہ طور پر جسم فروشی کروانے اور ان کے اعضا فروخت کرنے کے لیے جعلی شادیوں سے متعلق کیس میں 6 لڑکیوں کو بھی بازیاب کروایا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: ’دلہنوں کی چین اسمگلنگ’، ایف آئی اے کا سندھ میں کارروائی کا آغاز

یہ گرفتاریاں اسلام آباد، راولپنڈی اور فیصل آباد میں کی گئیں، جہاں ایف آئی اے نے چینی گینگ کے مقامی سہولت کاروں کو بھی گرفتار کیا، یہ گرفتاریاں ہیومن رائٹس واچ کے اس بیان کے بعد سامنے آئی تھیں جس میں کہا گیا تھا کہ خواتین اور لڑکیوں کی چین اسمگلنگ کی حالیہ رپورٹس پر پاکستان کو پریشان ہونا چاہیے۔