’دلہنوں کی چین اسمگلنگ’، ایف آئی اے کا سندھ میں کارروائی کا آغاز

اپ ڈیٹ 13 مئ 2019

ای میل

اسلام آباد اور پنجاب میں کارروائی میں درجنوں چینی باشندے گرفتار کیے گئے — فائل فوٹو/شٹر اسٹاک
اسلام آباد اور پنجاب میں کارروائی میں درجنوں چینی باشندے گرفتار کیے گئے — فائل فوٹو/شٹر اسٹاک

کراچی: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے حال ہی میں سامنے آنے والے ’دلہنوں کی اسمگلنگ‘ کے ریکیٹ کے معاملے میں اپنی تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے صوبہ سندھ میں ’خفیہ اطلاعات کی بنیاد‘ پر کارروائی کا آغاز کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ بات سامنے آئی ہے کہ سندھ میں پہلے ہی اسکمنگ ڈیوائسز کے ذریعے بینکوں اور صارفین کا ڈیٹا چوری کرنے پر کئی چینی شہریوں کو پکڑا گیا تھا۔

اس حوالے سے ایک سینئر عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ ایف آئی اے سندھ کو پہلے ہی اسلام آباد میں اپنے ہیڈکوارٹرز سے موصول ہونے والے اعلامیے میں چوکنا رہنے، اپنی حکمت عملی مرتب کرنے اور ان علاقوں کی نشاندہی کرنے کا کہا گیا، جہاں حالیہ اسکینڈل سے متعلق قابل عمل معلومات موجود ہوں۔

مزید پڑھیں: فیصل آباد: پاکستانی لڑکیوں کی چین اسمگلنگ کا آغاز کس طرح ہوا؟

انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو زیادہ سنجیدہ اس لیے لیا جارہا ہے کیونکہ کراچی سمیت سندھ کے حصوں کی مجرمانہ سرگرمیوں کی ایک تاریخ ہے، جس میں مبینہ طور پر چینی شہری ملوث تھے۔

ایف آئی اے کے سندھ زون کے ڈائریکٹر سلطان خواجہ کا کہنا تھا کہ ’ہم یقینی طور پر محتاط ہیں اور اس سلسلے میں اپنی توجہ تمام ملحقہ علاقوں پر رکھے ہوئے ہیں‘۔

ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’پنجاب میں یہ ریکیٹ سامنے آیا تھا، جہاں کچھ کیسز میں متاثرین نے انتظامیہ تک رسائی حاصل کی جس سے تحقیقات مزید آگے بڑھیں اور گینگ کو حراست میں لے لیا گیا جبکہ یہاں ہمیں کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی لیکن ہم نے اپنے کام کا آغاز کردیا ہے اور خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر اقدام اٹھا رہے ہیں‘۔

واضح رہے کہ پنجاب میں ایف آئی اے نے اب تک 39 افراد کو گرفتار کیا ہے، جس میں زیادہ تر چینی باشندے ہیں جبکہ پاکستانی لڑکیوں کو چین اسمگل کرکے مبینہ طور پر جسم فروشی کروانے اور ان کے اعضا فروخت کرنے کے لیے جعلی شادیوں سے متعلق کیس میں 6 لڑکیوں کو بھی بازیاب کروایا گیا۔

یہ گرفتاریاں اسلام آباد، راولپنڈی اور فیصل آباد میں کی گئیں، جہاں ایف آئی اے نے چینی گینگ کے مقامی سہولت کاروں کو بھی گرفتار کیا، یہ گرفتاریاں ہیومن رائٹس واچ کے اس بیان کے بعد سامنے آئی تھیں جس میں کہا گیا تھا کہ خواتین اور لڑکیوں کی چین اسمگلنگ کی حالیہ رپورٹس پر پاکستان کو پریشان ہونا چاہیے۔

ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا تھا کہ یہ الزامات پریشان کن طور پر کم از کم دیگر 5 ایشیائی ممالک سے ’دلہنوں‘ کی چین اسمگلنگ کے طریقہ کار کے مطابقت رکھتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی لڑکیوں کی اسمگلنگ: چینی باشندوں سمیت مزید 14 افراد گرفتار

دوسری جانب اسلام آباد میں موجود چینی سفارتخانے نے بھی غیر قانونی، سرحد پار شادیوں کی خدمات، جو اکثر انسانی اسمگلنگ کے لیے ڈھال ہوتی ہے، پر بھی تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

گزشتہ ماہ ایک بیان میں چین نے غیر قانونی شادیوں کی منصوبہ بندی کرنے کی رپورٹس پر مذمت کی تھی۔

اس بیان میں کہا گیا تھا کہ ’چین پاکستانی حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ان غیر قانونی شادیوں کے مراکز تک رسائی کے لیے ساتھ کام کر رہا ہے‘۔

چینی حکام کے ساتھ تعاون اور مختلف گرفتاریوں کے بعد ایف آئی اے کو یقین ہے کہ اب بھی گینگ کے رکن فعال ہوسکتے ہیں اور وہ ’کیس کو بند‘ کرنے کا نہیں کہہ سکتی۔