کونسا بچہ کب پیدا ہوا؟ کیا یہ سلسلہ ان کی صلاحیتوں پر اثر کرتا ہے؟

22 مئ 2019

ای میل

لوگوں کے خیالات کے مطابق بچوں کی شخصی خصوصیات کا تعلق بھائی بہن میں اس کی پیدائش کے نمبر پر بھی ہوتا ہے—شٹر اسٹاک
لوگوں کے خیالات کے مطابق بچوں کی شخصی خصوصیات کا تعلق بھائی بہن میں اس کی پیدائش کے نمبر پر بھی ہوتا ہے—شٹر اسٹاک

ہمیں اکثر اوقات یہ سننے کو ملتا ہے کہ گھر میں اگر 3 بچے ہوں تو سب سے بڑا بچہ زیادہ قابل اور ذمہ دار ہوتا ہے، درمیان والا صلح جو جبکہ سب سے چھوٹا بچہ شرارتی اور رسک لینے والا ہوتا ہے۔

لوگوں کے خیالات کے مطابق بچوں کی شخصی خصوصیات کا تعلق بھائی بہن میں اس کی پیدائش کے نمبر پر بھی ہوتا ہے، اور ہم میں سے اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ یہ منطق سائنس اور تحقیق سے ثابت شدہ ہے۔ تاہم ایک نئی تحقیق اس منطق کو درست قرار نہیں دیتی اور اس کے مطابق کوئی انسان چاہے والدین کی پہلی اولاد ہو، دوسری یا پھر تیسری، اس کا کسی قسم کا اثر انسان کی شخصیت پر نہیں پڑتا۔

مزید پڑھیے: والدین کی جانب سے بچوں میں فرق کرنا کتنا خطرناک ہوسکتا ہے؟

دراصل لوگوں میں اس خیال کو ماننے کی ایک وجہ ذاتی منطقی فہم بھی کارفرما ہوتی ہے۔ مثلاً جب والدین کے ہاں پہلا بچہ پیدا ہوتا ہے تو وہ اس پر زیادہ سے زیادہ توجہ دیتے ہیں جبکہ چھوٹے بچوں کو توجہ حاصل کرنے کی سخت سے سخت کوششیں کرنی پڑتی ہیں۔ مگر ایسا کوئی وزن دار ڈیٹا موجود نہیں جو یہ ثابت کرتا ہو کہ یہ خصوصیات آپ کی شخصیت کے اندر ہمیشہ قائم رہیں گی۔

محققین کی ایک ٹیم نے جرمن تحقیق، سروے اور تاریخ سے رسک لینے والے کھوج کاروں کے تحقیقی جائزے کے ذریعے یہ پایا کہ آخری نمبر پر پیدا ہونے کی وجہ سے آپ ایسی شخصیت کے مالک نہیں بنتے جس میں رسک لینے کا رجحان زیادہ ہو، بلکہ یہ تو قدرتی عمل ہے۔

تحقیق میں شامل ایک محقق کے مطابق، ’یہ تحقیقی مضمون بہت ہی واضح ہے اور یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ رسک لینے کے رجحان یا اس کی عادت کا تعلق اس سے نہیں کہ اس کی پیدائش والدین کے ہاں پہلے ہوئی یا آخر میں۔‘

یہ اس نوعیت کی پہلی تحقیق نہیں ہے، بلکہ 2015ء میں بھی ایک تحقیق کی گئی تھی جس میں 3 لاکھ 70 ہزار ہائی اسکول طلبہ کو شامل کیا گیا تھا اور اس تحقیق نے بھی یہی ثابت کیا تھا کہ بھائی بہن میں آپ کی عمر اور آپ کی شخصیت کے درمیان کوئی تعلق نہیں۔

مزید پڑھیے: بہن بھائیوں کے ایک ہی کمرے میں رہنے کے 6 فوائد

تاہم، ایک تحقیق ایسی بھی ہے جس کے مطابق بھائی بہن میں سب سے بڑے بھائی یا بڑی بہن دیگر چھوٹے بھائی بہن کے مقابلے میں عقل و دانش کے حساب سے زیادہ آگے ہوتے ہیں۔ مگر اثرات کچھ اس قدر زبردست نہیں کہ جتنا آپ کو محسوس ہو۔

ڈائٹر واک نامی بین الاقوامی ماہر نفسیات نے تمام دستیاب ڈیٹا کا جائرہ لیتے ہوئے ایک ویب سائٹ کو بتایا کہ ڈیٹا کا جائزہ لینے پر یہ پایا گیا کہ بھائی بہن میں سب سے بڑے بچے کا آئی کیو 1 اعشاریہ 5 کے ساتھ دوسرے نمبر پر پیدا ہونے والے بچے سے زیادہ ہوتا ہے جبکہ تیسرے نمبر پر پیدا ہونے والے بچے سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔

بہرحال ہمیں اس بات کو بھی دھیان میں رکھنا ہوگا کہ وہ اس نتیجے پر کئی کئی اوسط نکالتے ہوئے پہنچے ہیں، جو ضروری نہیں کہ درست ہوں۔