ڈالر ایک ہفتے میں 9 روپے مہنگا ہوکر 154 کا ہوگیا

اپ ڈیٹ 21 مئ 2019

ای میل

مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق ڈالر کی خریداری کے دورن تمام بینک اپنی مرضی سے روپے کی قدر لگا رہے ہیں— فائل فوٹو: ٹوئٹر
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق ڈالر کی خریداری کے دورن تمام بینک اپنی مرضی سے روپے کی قدر لگا رہے ہیں— فائل فوٹو: ٹوئٹر

حکومت پاکستان اور انٹرنیشنل مانیٹر فنڈ (آئی ایم ایف) سے معاہدے کے بعد ڈالر کی قیمت میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 9 روپے 60 پیسے کا اضافہ ہوا ہے جس کا براہ راست اثر ملکی قرضے پر پڑ رہا ہے۔

آج کاروباری روز کے دوران ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں ایک مرتبہ پھر تنزلی دیکھنے میں آئی۔

اوپن مارکیٹ میں ڈالر تقریباً 3 روپے اضافے کے بعد تاریخ کی نئ بلند ترین سطح 154 روپے پر پہنچ گیا تھا تاہم دن کے اختتام پر یہ قدر واپس 153.50 روپے ہوگئی۔

مزید پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان

اسی طرح انٹربینک میں اس کی قدر بڑھ کر 151.50 روپے تک پہنچ گئی۔

مارکیٹ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ جب تک انٹربینک میں ڈالر کی قیمت میں استحکام نہیں آئے گا تب تک مارکیٹ میں اس حوالے سے بے یقینی کی صورتحال برقرار رہے گی۔

تاجر برادری کا کہنا ہے کہ کمرشل بینکوں کی جانب سے روپے کی قدر علیحدہ علیحدہ لگائی جارہی ہے جبکہ ڈالر کی خریداری کے دوران بینکس اس کی قدر میں اضافہ کر رہے ہیں جس کی وجہ سے درآمدات کے معاہدے خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: نئے کرنسی نوٹ کی فراہمی کیلئے اسٹیٹ بینک کی ایس ایم ایس سروس بحال

پاکستان میں گزشتہ 4 روز کے دوران ڈالر کی قدر میں 9 روپے 60 پیسے کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جبکہ اندازہ لگایا جارہا ہے کہ اس کی وجہ سے پاکستان کے قرضے میں ایک ہزار ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز کاروباری دن کے اختتام تک انٹربینک میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر 152 روپے ہوگئی تھی۔

اسی طرح اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا، جس کا آغاز 151 روپے کے ساتھ ہوا تھا تاہم اس کا اختتام 152.50 پر ہوا تھا۔