سمندر کی سطح میں اضافے سے کروڑوں افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ

اپ ڈیٹ 22 مئ 2019

ای میل

فرانس، جرمنی ، اسپین اور برطانیہ کے رقبے کے برابر زمین کا نقصان ہوگا، 18 کروڑ افراد متاثر  ہوں گے
— فائل فوٹو/ رائٹرز
فرانس، جرمنی ، اسپین اور برطانیہ کے رقبے کے برابر زمین کا نقصان ہوگا، 18 کروڑ افراد متاثر ہوں گے — فائل فوٹو/ رائٹرز

واشنگٹن : موسمیاتی تبدیلی سے متعلق حال ہی میں جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق اس صدی کے اختتام تک سمندر کی سطح میں 2 میٹر یا ساڑھے 6 فٹ تک اضافہ ہوسکتا ہے جس کے نتیجےمیں کروڑوں افراد متاثر ہوں گے۔

حال ہی میں جاری کی گئی یہ رپورٹ اقوام متحدہ کی جانب سے سطح سمندر میں اضافے سے متعلق جاری کیے گئے اندازے سے دگنی ہے۔

خیال رہے کہ گرین لینڈ اور انٹارکٹیکا میں موجود برف کے ٹکڑے دنیا میں سمندر کی سطح کو کئی درجن میٹر تک بڑھاسکتے ہیں، اس کے ساتھ ہی سمندر گرم ہونے سے پانی کے پھیلاؤ کی وجہ سے سطح سمندر میں اضافہ ہورہا ہے۔

تاہم کرہ ارض پر درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے گلیشیئرز کے پگھلنے کی شرح کی پیش گوئی کرنا انتہائی مشکل ہے۔

مزید پڑھیں: موسمیاتی تبدیلیاں: اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل پیسیفک جزائر کا دورہ کریں گے

اقوام متحدہ کے انٹرگورمنٹل پینل آن کلائمیٹ چینج ( آئی پی سی سی) نے 2013 ففتھ ایسسمنٹ رپورٹ میں کہا تھا کہ گرین ہاؤس گیسز کے اخراج کی مقدار آر سی پی 8.5 میں ، 2100 تک ایک میٹر کا اضافہ ہوجائے گا۔

اس وقت سے لے کر اب تک اس پیش گوئی کو قدامت پرست مانا جاتا ہے کیونکہ کرہ ارض کے درجہ حرارت میں اضافہ کرنے والی گرین ہاؤس گیس میں سالانہ بنیادوں میں اضافہ ہورہا ہے۔

اس کے ساتھ ہی سیٹیلائٹس میں انٹارکٹیکا اور گرین لینڈ میں موجود برف پوش علاقوں کے پگھلنے کی شرح میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔

رواں ہفتے دنیا کے نامور سائنسدانوں کے گروپ نے اپنے تجربات اور مشاہدات کی بنیاد پر صورتحال پر ماہرانہ فیصلہ جاری کیا۔

انہوں نے کہا کہ گیسز کے موجودہ خراج کی بنیاد پر 2100 تک سطح سمندر میں 2 میٹر کا اضافہ مناسب ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ سمندر کی سطح میں اضافے کی وجہ سے فرانس، جرمنی ، اسپین اور برطانیہ کے رقبے کے برابر زمین کا نقصان ہوگا جس کے نتیجے میں 18 کروڑ افراد بے گھر ہوجائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ' سطح سمندر میں اس شدت کے اضافے کی وجہ سے انسانیت پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے'۔

یہ بھی پڑھیں: حیاتیاتی ایندھن ماحولیاتی تبدیلی پر سب سے زیادہ اثر انداز ہورہا ہے، اقوام متحدہ

2015 میں پیرس میں موسمیاتی تبدیلی سے متعلق منظور کیے گئے معاہدے میں عالمی درجہ حرارت کو 2 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم ( 3.6 فارن ہائیٹ) تک محدود کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

گزشتہ برس اکتوبر میں آئی پی سی سی نے ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں کوئلے، آئل اور گیس کے استعمال میں فوری کمی کا مطالبہ کیا گیا تھا تاکہ فضا میں گرین ہاؤس گیسز کی تیزی سے بڑھتی شرح کو کم کیا جاسکے۔

تاہم رپورٹ میں سطح سمندر میں اضافے سے متعلق اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے تھے۔

پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز جرنل میں شائع کی گئی نئی تحقیق کے مصنفین نے کہا کہ آئی پی سی سی کی جانب سے سطح سمندر میں اضافے کی پیش گئی کی توجہ ان امکانات پر مرکوز تھی کہ مستقبل میں کیا ہوسکتا ہے۔


یہ خبر 22 مئی 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی