بھارت کے 40 فیصد قانون سازوں پر ریپ، قتل سمیت کئی مقدمات ہیں، رپورٹ

اپ ڈیٹ 26 مئ 2019

ای میل

بی جے پی کی کامیاب امیدوار پراگیا ٹھاکر پر 2008 میں بم دھماکوں کی منصوبہ بندی کا الزام ہے — فوٹو:اے ایف پی
بی جے پی کی کامیاب امیدوار پراگیا ٹھاکر پر 2008 میں بم دھماکوں کی منصوبہ بندی کا الزام ہے — فوٹو:اے ایف پی

ایسوسی ایشن آف ڈیموکریٹک ریفارمز (اے ڈی آر) کا کہنا ہے کہ بھارت کی نئی پارلیمنٹ کے 40 فیصد سے زائد قانون ساز ریپ اور قتل سمیت کئی مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔

اے ڈی آر کی رپورٹ کے مطابق کانگریس کے ایک قانون ساز قتل، ڈکیتی سمیت 204 مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ انتخابی نشستوں پر کامیاب ہونے والے 543 اراکین میں سے کم از کم 233 افراد پر مجرمانہ اقدامات کے مقدمات فرج ہیں۔

مزید پڑھیں: اقلیتوں کا بھروسہ جیت کر 'فرضی خوف' کا خاتمہ چاہتا ہوں، مودی

رپورٹ کے مطابق جیتنے والے 539 افراد کے ریکارڈز کی تحقیق سے معلوم ہوا کہ مجرمانہ کیسز کا سامنا کرنے والے افراد کی تعداد 2004 سے اب تک سب سے زیادہ رہی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی کامیاب ہونے والی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے 303 قانون سازوں میں سے 116 مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ ایک پر دہشت گردی کے مقدمات بھی درج ہیں۔

کانگریس کے 52 اراکین پارلیمنٹ میں سے 29 پر مقدمات درج ہیں جبکہ کیرالا ریاست سے جیتنے والے قانون ساز دین کوریاکوس پر تنہا 204 مقدمات درج ہیں۔

اے ڈی آر کا کہنا تھا کہ مقدمات کا سامنا کرنے والے قانون سازوں کی تعداد گزشتہ ایک دہائی میں دگنی ہوئی ہے جن میں سے 11 پر قتل، 30 پر گلے کاٹنا اور 3 پر ریپ کا الزام ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی انتخابات میں 22 مسلمان امیدوار کامیاب

بھارتی قانون کے مطابق 2 سال یا اس سے زائد کی سزا پانے والے مجرمان پر انتخابات میں حصہ لینے کی پابندی ہے، تاہم چند جرائم میں اس سے استثنیٰ بھی حاصل ہے۔

امیدوار جو پہلی مرتبہ انتخابات میں حصہ لے رہے ہوں انہیں اجازت دے دی جاتی ہے۔

گزشتہ حکومت کے 185 قانون سازوں میں سے، جنہیں مختلف مقدمات کا سامنا تھا، کسی کو بھی سزا نہیں سنائی گئی جبکہ کئی واپس پارلیمنٹ میں آگئے ہیں۔