بھارت: انتہا پسند ہندوؤں کا مسلمان نوجوان کو زدو کوب کرنے کا ایک اور واقعہ

اپ ڈیٹ 27 مئ 2019

ای میل

واقعہ 25 مئی کی رات کو پیش آیا تاہم اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی — تصویر بشکریہ دی ہندو
واقعہ 25 مئی کی رات کو پیش آیا تاہم اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی — تصویر بشکریہ دی ہندو

نئی دہلی: بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے ہندو مسلم اتحاد کو بھارت کی حقیقی آزادی کا مظہر قرار دینے کے کچھ ہی دیر بعد مسلمان نواجون کو ٹوپی پہننے پر ہندوتوا کے کارکنان کی جانب سے زدو کوب کرنے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔

بھارتی اخبار ’دی ہندو‘ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ محمد برکت نامی مسلمان نوجوان کو اس کی ٹوپی اتارنے اور ’جے شری رام‘ کا نعرہ لگانے کے لیے کہا گیا۔

اس حوالے سے محمد برکت نے بتایا کہ 'ان افراد میں سے ایک نے میرے لیے دھمکی آمیز الفاظ استعمال کیے اور مجھے کہا کہ اس علاقے میں ٹوپی پہننے کی اجازت نہیں، جب میں نے انہیں بتایا کہ میں مسجد سے آرہا ہوں تو انہوں نے مجھے تھپڑ مارے اور بھارت ماتا کی جے اور جے شری رام کے نعرے لگانے کے لیے کہا، جس کا میں نے انکار کیا تو انہوں نے مجھے زبردستی سور کا گوشت کھلانے کی دھمکی دی'۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت: جنونی ہندوؤں کا مسلمان بزرگ پر تشدد، زبردستی سور کا گوشت کھلا دیا

مذکورہ واقعہ 25 مئی کی رات، جاکو پورا گروررام کے علاقے میں پیش آیا تاہم پولیس کی جانب سے اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔

رپورٹ کے مطابق 25 سالہ محمد برکت رات 10 بجے گرورام میں واقع جامع مسجد میں نماز پڑھ کر اپنی دکان کے لیے واپس لوٹ رہا تھا جب تقریباً نصف درجن افراد نے اسے گھیرے میں لے لیا، محمد برکت کے مطابق ان لوگوں نے چھڑی سے انہیں تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔

جس کے بعد جب محمد برکت نے ایک آدمی کو دھکا دیتے ہوئے بھاگنا چاہا تو اس شخص نے مبینہ طور پر اس کی قمیض پھاڑ دی، جس محمد برکت رونے لگا تو وہ افراد واپس چلے گئے جس میں سے 4 بائیک پر سوار تھے جبکہ بقیہ 2 پیدل روانہ ہوئے۔

بعدازاں متاثرہ نوجوان کے کزن نے اسے ہسپتال پہنچایا جہاں ہسپتال انتظامیہ نے واقعے کے حوالے سے پولیس کو اطلاع دی۔

مزید پڑھیں: بھارت: 'گوشت' لے جانے والے مسلمان جوڑے پر ہجوم کا بدترین تشدد

جس پر سٹی پولیس اسٹیشن میں مذہبی نفرت انگیزی کو ہوا دینے، مجرمانہ دھمکیوں اور غیر قانونی مجمع کے الزامات پر مقدمہ درج کرلیا گیا۔

بھارتی اخبار کے مطابق ہریانہ سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ترجمان نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی اس قسم کے غیر قانونی اقدام کو برداشت نہیں کرے گی۔

انہوں نے مزید بتایا کہا انہوں نے پولیس سے گفتگو کر کے انہیں ہدایت کی ہے کہ جو بھی اس واقعے میں ملوث ہیں، ان کے خلاف قانون کے مطابق فوری کارروائی کی جائے۔

واضح رہے کہ بھارتی وزیراعظم نریند مودی نے اپنے نو منتخب اراکین کو ہدایت کی تھی کہ اسی ہم آہنگی کے ساتھ کام کریں، جو 1857 میں تھی، اس کے ساتھ انہوں نے ایسے افراد کے خلاف کوئی انتقامی رویہ اختیار نہ کرنے کی ہدایت کی جنہوں نے بی جے پی کو ووٹ نہیں دیا تھا۔


یہ خبر 27 مئی 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔