افغان امن عمل: طالبان اور حکومتی وفود ماسکو میں ملاقات کریں گے

اپ ڈیٹ 28 مئ 2019

ای میل

ملاقات کا اہتمام افغانستان اور روس کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کے 100 سال مکمل ہونے پر کیا گیا — 
فوٹو: اے اہف پی
ملاقات کا اہتمام افغانستان اور روس کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کے 100 سال مکمل ہونے پر کیا گیا — فوٹو: اے اہف پی

کابل: افغان حکام کا کہنا ہے کہ افغان سیاستدان رواں ہفتے ماسکو میں منعقد ہونے والے 2 روزہ اجلاس میں طالبان سے ملاقات کریں گے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ میں غیر ملکی خبر رساں اداروں کے حوالے سے بتایا گیا کہ ماسکو میں 28 اور 29 مئی کو ہونے والا اجلاس افغانستان اور روس کے درمیان سفارتی تعلقات کے 100 سال مکمل ہونے پر منعقد کیا گیا ہے۔

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ اہم سیاسی رہنما ملا عبدالغنی برادر کی قیادت میں 14 رکنی وفد ماسکو کا دورہ کرے گا۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ طالبان کے چیف برائے مذاکرات اور سابق نائب وزیر برائے خارجی امور شیر محدم عباس ستانکزئی بھی اجلاس میں شرکت کریں گے۔

مزید پڑھیں: روس کی افغان سیاست دانوں کو طالبان سے مذاکرات کی دعوت، حکومت نظرانداز

افغان سیاستدانوں میں سے سابق صدر حامد کرزئی اپنے ترجمان یوسف صحا کے ہمراہ شرکت کریں گے، جہاں طالبان اور افغان وفود کے درمیان غیر رسمی بات چیت کے امکانات بھی نہیں لیکن کسی چیز کی کوئی ضمانت نہیں۔

افغانستان امن کونسل، جس کا مقصد کابل اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات میں مدد کرنا ہے، کونسل کے ترجمان نے بتایا کہ امن کونسل کے سربراہ کریم خلیلی بھی اجلاس میں شریک ہوں گے۔

افغان سیاستدان اور طالبان رہنما روس میں دوسری مرتبہ ملاقات کریں گے اس سے قبل فروری میں ایک غیر معمولی اجلاس میں دونوں فریقین کو بات چیت کرتے دیکھا گیا تھا۔

تاہم افغانستان کے صدر اشرف غنی کی انتظامیہ کے نمائندے غیر رسمی ملاقات میں شریک نہیں تھے جس سے ان خدشات میں بھی اضافہ ہوا کہ حالیہ امن عمل میں بھی شرکت کریں گے یا نہیں۔

ماسکو میں حالیہ ملاقات ایک ایسے وقت ہورہی ہے جب چند ہفتے قبل امریکا اور طالبان کے درمیان دوحہ میں مذاکرات کا چھٹا مرحلہ اختتام پذیر ہوا تھا جس میں فریقین کے درمیان کسی معاملے پر کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: طالبان اور امریکا کے مابین مذاکرات کے نئے دور کا آغاز

طالبان کہہ چکے ہیں کہ مذاکرات افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے بنیادی سوال پر رکے ہوئے ہیں۔

تاہم امریکا نے اس وقت تک انخلا پر متفق ہونے سے، جب تک طالبان کی جانب سے جنگ بندی، سیکیورٹی کی ضمانت سمیت کابل حکومت اور دیگر افغان نمائندگان سے 'انٹرا افغان' مذاکرات پر اتفاق نہیں کیا جاتا۔

طالبان کا سیاسی ونگ قطر میں موجود ہے اور انہوں نے حالیہ چند ہفتوں میں یورپی یونین کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان رولانڈ کوبیا اور جرمنی کے خصوصی مندوب مارکس پوٹزیل سے ملاقات کی۔

امن عمل میں ماسکو اثر و رسوخ حاصل کرتا ہوا دکھائی دے رہا ہے جبکہ گذشتہ ماہ امریکا نے اعلان کیا تھا کہ واشنگٹن نے افغانستان سے امن معاہدے پر کیے جانے والے مذاکرات سے متعلق چین اور روس سے اتفاق رائے حاصل کرلیا۔


یہ خبر 28 مئی 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی