بلاول بھٹو کی نیب دفتر میں پیشی، پارٹی کارکنان کی ہنگامہ آرائی

اپ ڈیٹ 29 مئ 2019

ای میل

نیب کے کالے قانون کو واٹر کینن سے نہیں دھویا جاسکتا، آصفہ بھٹو زرداری — فوٹو: ڈان نیوز
نیب کے کالے قانون کو واٹر کینن سے نہیں دھویا جاسکتا، آصفہ بھٹو زرداری — فوٹو: ڈان نیوز

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی نیب اسلام آباد کے دفتر پر پیشی کے موقع پر ڈی چوک پر پارٹی کارکنان اور پولیس کے درمیان تصادم ہوگیا، پولیس کی جانب سے واٹر کینن کا استعمال اور متعدد کارکنان کو گرفتار بھی کرلیا گیا۔

بلاول بھٹو زرداری پاک لین کمپنی کیس میں اپنا بیان قومی احتساب بیورو (نیب) کے ہیڈکوارٹرز پہنچے تو ان سے اظہارِ یکجہتی کے لیے پارٹی کارکنان جناح ایونیو میں جمع ہوئے۔

کارکنان نے ریڈزون میں جانے کی کوشش کی تو وہاں تعینات پولیس کی بھاری نفری نے انہیں آگے جانے سے روک دیا جس پر پولیس اور پیپلز پارٹی کے کارکنان کے درمیان تصادم شروع ہوگیا۔

پارٹی کارکنان کی جانب سے پولیس مزاحمت کے بعد ہنگامہ آرائی شروع کردی گئی جس پر پولیس نے واٹر کینن کا استعمال کرتے ہوئے انہیں منتشر کرنے کی کوشش کی۔

مزید پڑھیں: آصف زرداری، بلاول بھٹو کی نیب راولپنڈی میں ایک مرتبہ پھر طلبی

کارکنان کے ہمراہ پیپلز پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ بھی وہاں پہنچے تھے تاہم انہیں پولیس نے ڈی چوک پر نہ روکتے ہوئے نیب ہیڈ کوارٹر جانے کی اجازت دی۔

آصف زرداری کی صاحبزادی اور پارٹی رہنما آصفہ بھٹو زرداری نے پارٹی کارکنان کو منشتر کرنے کے لیے واٹر کینن کے استعمال پر سوال کیا کہ کیا یہ تبدیلی ہے؟

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے ٹوئٹ میں ان کا کہنا تھا کہ ’نیب کے کالے قانون کو واٹر کینن سے نہیں دھویا جاسکتا‘۔

بلاول بھٹو کو جواب جمع کروانے کیلئے 10 روز کی مہلت

بلاول بھٹو زرداری نیب ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں پیش ہوئے تو ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نیب راولپنڈی عرفان منگی کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (سی آئی ٹی) نے ان سے پوچھ گچھ کی۔

ذرائع کے مطابق نیب نے بلاول بھٹو زرداری سے جے وی اوپل کیس کے بارے میں سوالات کیے جبکہ چیئرمین پی پی پی نے نیب کے الزامات سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کو نیب کی جانب سے سوالنامہ فراہم کیا گیا جبکہ انہیں جوابات دینے کے لیے 10 روز کی مہلت دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آصف زرداری اور بلاول بھٹو نے نیب کے سامنے بیانات قلمبند کرادیے

بلاول بھٹو زرداری کی ہمشیرہ آصفہ بھٹو زرداری سمیت پارٹی ہنما مرتضیٰ وہاب، نیئربخاری بھی نیب ہیڈکوارٹرز پہنچے تھے۔

اس موقع پر پارٹی کے وکلا ونگ کے کارکنان نے نیب آفس میں داخل ہونے کی کوشش کی تو دوران ہنگامہ آرائی ہوئی جس کے بعد 3 کارکنان کو گرفتار کرلیا گیا۔

اس کے علاوہ ایک اخبار کے فوٹوگرافر کو بھی پولیس نے گرفتار کیا، تاہم صحافیوں کے احتجاج کے بعد انہیں چھوڑ دیا گیا۔

سی آئی ٹی اراکین نے بلاول بھٹو زرداری سے تقریباً آدھا گھنٹہ پوچ گچھ کی جس کے بعد چیئرمین پی پی پی نیب دفتر سے روانہ ہوگئے۔

تبدیلی والے ڈرتے ہیں، بلاول بھٹو زرداری

نیب دفتر راونگی سے قبل بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام جاری کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ تبدیلی والے ڈرتے ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار میرے بارے میں کہہ چکے ہیں کہ میں بے گناہ ہوں، لیکن حکومت سے اپوزیشن کی تنقید برداشت نہیں ہورہی اور سیاسی مخالفین کو پریشان کر رہی ہے۔

اپنی والدہ سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے ہمراہ سینٹرل جیل کراچی کے باہر اپنی ماضی کی ایک تصویر شائع کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خوش قسمتی سے یہ میرے لیے نئی بات نہیں ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ پارٹی کی جانب سے باقاعدہ مظاہرے کا اعلان نہیں کیا تھا لیکن اس کے باوجود وہ اظہارِ یکجہتی کے لیے جناح ایونیو پہنچے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے رات کے اندھیرے میں مخالفین کو ہراساں کرنے کے لیے نوٹیفکیشن جاری کیا، جو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی ہے۔