'سینئر ججز کے خلاف ریفرنسز کے پسِ پردہ وزارت قانون و انصاف نہیں'

اپ ڈیٹ 01 جون 2019

ای میل

پیمرا نے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی پر تبصرہ اور مباحثہ کرنے سے منع کردیا — فائل فوٹو بشکریہ سپریم کورٹ ویب سائٹ
پیمرا نے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی پر تبصرہ اور مباحثہ کرنے سے منع کردیا — فائل فوٹو بشکریہ سپریم کورٹ ویب سائٹ

اسلام آباد: اعلیٰ عدلیہ کے سینئر ججز کے خلاف ریفرنس دائر کیے جانے کے حوالے سے وزارت قانون نے بالآخر وضاحت کردی کہ یہ ریفرنسز وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کے اثاثہ ریکوری (وصولی) یونٹ (اے آر یو) کی شکایت پر دائر کیے گئے ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزارت قانون کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’وزارت کے پاس اپنا ایسا کوئی طریقہ کار موجود نہیں جس سے کسی بھی جج کے اثاثوں کی چھان بین کی جائے اس لیے وزارت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور اے آر یو کی جانب سے ملنے والی شکایات پر ملک کے بہترین مفاد میں کارروائی کی گئی‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وزارت، قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے اور اس پر عمل جاری رکھیں گے۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس شہزاد اکبر نے قومی احتساب بیورو (نیب) اور وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کے عہدیداروں پر مشتمل اے آر یو یونٹ تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا جس کا کام پاکستانی شہریوں کی بیرونِ ملک موجود جائیدادوں کی تحقیقات کرنا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ججز کے خلاف حکومتی ریفرنس پر جسٹس فائز عیسیٰ کا صدر مملکت کو خط

انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ پاکستانی شہریوں کی متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور برطانیہ میں موجود 10 ہزار جائیدادوں کی فہرست موصول ہوچکی ہے۔

ترجمان وزارت قانون نے اس بات کی تردید کی کہ عدالت عظمیٰ کے اعلیٰ جج کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کے پس پردہ وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف بیرسٹر محمد فروغ نسیم کا دماغ ہے۔

بدنیتی پر مبنی خبروں کے تاثر کے بارے میں بیان دیتے ہوئے ترجمان نے اس بات کی تردید کی کہ وزارت قانون نے صدر عارف علوی کی ہدایات پر ریفرنس میں درج تحریر تبدیل کردی تھی کیوں کہ اس سے قبل استعمال ہونے والی زبان خاصی سخت تھی۔

مزید پڑھیں: سینئر ججز کے خلاف حکومتی ریفرنس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل احتجاجاً مستعفی

دوسری جانب سپریم کورٹ کے 7 جولائی 2018 کو دیے گئے فیصلے کے تناظر میں پیمرا نے میڈیا کو ہدایات جاری کیں کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی پر میڈیا میں مباحثہ، کالم اور اداریہ شائع نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اس پر کوئی عوامی تبصرہ کیا جائے گا، صرف کارروائی کی خبر دی جائے گی۔

علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے 12 ستمبر 2018 کو از خود نوٹس لیتے ہوئے ضمنی عدالتی معاملات پر بھی بات چیت نہ کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔

پیمرا کے مطابق فیصلے میں اس بات کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا کہ تمام لائسنس یافتہ الیکٹرونک میڈیا (پروگرام اینڈ ایڈورٹائزمنٹ کے ضابطہ اخلاق 2015) کی پیروی کریں بصورت دیگر ادارہ بغیر کوئی رعایت دیے قانون کے مطابق کارروائی کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: سینئر ججز کے خلاف ریفرنسز کی سماعت 14 جون کو مقرر

فیصلے میں واضح کیا گیا تھا کہ کوئی بھی ضمنی عدالتی معاملہ نشر کیا جاسکتا ہے لیکن صرف اس صورت میں کہ اس کا مقصد عوام کا اطلاع پہنچانا ہو اور اس سے معاملے کے مستقبل کے بارے میں رائے دینا تجویز دینا یا تبصرہ کرنا مقصود نہ ہو۔

پیمرا نے خبردار کیا کہ ان ہدایات پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو اس کے خلاف پیمرا آرڈیننس 2002 کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔