ججز کے خلاف حکومتی ریفرنس پر جسٹس فائز عیسیٰ کا صدر مملکت کو خط

اپ ڈیٹ 30 مئ 2019

ای میل

سینئر جج کا کہنا تھا کہ اگر ریفرنس دائر کیا جاچکا ہے تو اس کی نقل فراہم کردی جائے —تصویر بشکریہ عدالت عظمیٰ ویب سائٹ
سینئر جج کا کہنا تھا کہ اگر ریفرنس دائر کیا جاچکا ہے تو اس کی نقل فراہم کردی جائے —تصویر بشکریہ عدالت عظمیٰ ویب سائٹ

اسلام آباد: اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی اطلاعات کے تناظر میں سپریم کورٹ کے موجودہ جج نے صدر مملکت عارف علوی سے رابطہ کر کے شکوہ کیا ہے کہ ذرائع ابلاغ میں آنے والی مختلف خبریں ان کی کردار کشی کا باعث بن رہی ہیں جس سے منصفانہ ٹرائل میں ان کے قانونی حق کو خطرات کا سامنا ہے۔

باخبر ذرائع نے ڈان کو جسٹس فائز عیسیٰ کی جانب سے صدر مملکت کو ارسال کردہ خط کے بارے بتایا، جس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لکھا کہ بتایا جائے کہ کیا یہ بات درست ہے کہ ان کے خلاف آئین کی دفعہ 209 کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا گیا ہے۔

انہوں نے لکھا کہ ’مجھے یقین ہے کہ آپ (صدر) اس بات سے اتفاق کریں گے کہ اگر ریفرنس دائر کردیا گیا ہے تو اس صورت میں مجھے اپنا جواب جمع کروانے کے لیے کہا جائے گا، صرف اس کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل کی اجازت سے حکومت ریفرنس اور میرے جمع کروائے گئے جواب کو منظرِ عام پر لاسکتی ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں: سینئر ججز کے خلاف حکومتی ریفرنس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل احتجاجاً مستعفی

قانونی ماہرین کے مطابق جسٹس قاضی فائر عیسیٰ کے خلاف حالیہ مہم نومبر 2017 میں تحریک لبیک پاکستان کے فیض آباد دھرنے کے خلاف 6 فروری کو دیے گئے فیصلے میں سخت الفاظ استعمال کرنے بعد شروع ہوئی۔

جس میں انہوں نے وزارت دفاع، پاک فوج، پاک بحریہ اور پاک فضائیہ کے سربراہان کو اپنے ماتحت، ان اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی تھی، جو اپنے حلف کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جو چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے پر فائز ہونے والے متوقع ججز میں شامل ہیں، نے صدر مملکت سے یہ درخواست بھی کی کہ اگر ان کے خلاف ریفرنس دائر کیا جاچکا ہے، تو اس کی نقل فراہم کردی جائے۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی تقرری کے خلاف درخواست خارج

ان کا کہنا تھا کہ ’مخصوص افواہوں کے باعث متوقع قانونی عمل اور منصفانہ ٹرائل میں ان کا قانونی حق متاثر اور عدلیہ کے ادارے کا تشخص مجروح ہورہا ہے‘۔

مذکورہ خط کی نقول وزیراعظم عمران خان اور سپریم کورٹ کے رجسٹرار، جو چیف جسٹس آف پاکستان کے سیکریٹری بھی ہیں، کو بھی ارسال کی گئیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت نے آئین کی دفعہ 209 کے تحت سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ کے موجودہ ایک، ایک جج اور عدالت عظمیٰ کے ایک ریٹائرڈ جج کے خلاف غیر ملکی اثاثے ظاہر نہ کرنے کے الزام میں متعدد ریفرنسز سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر کیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان بار کونسل نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو ہٹانے کا مطالبہ مسترد کردیا

اس پر ردِ عمل دیتے ہوئے پاکستان بار کونسل (پی بی سی) کے نائب چیئرمین سید امجد شاہ کا کہنا تھا کہ حکومت کو ایسے نااہل ججز جو اپنے حلف، عہدے اور ججز کے ضابطہ اخلاق کی صریح خلاف ورزی کے مرتب ہوئے ہوں، کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا مکمل اختیار ہے لیکن جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز ایڈیشنل اٹارنی جنرل زاہد فخرالدین ابراہیم نے حکومت کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل کو بعض سینئر ججز کے خلاف ریفرنس بھیجنے پر استعفیٰ دے دیا تھا۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل زاہد ابراہیم نے اپنا استعفیٰ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو بھجوادیا تھا۔

ڈان نیوز کو حاصل ہونے والے استعفے کی کاپی کے مطابق زاہد ابراہیم کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں یہ ججز کا احتساب نہیں بلکہ عدلیہ پر حملہ ہے۔

انہوں نے اپنے استعفے میں بتایا کہ اس عمل سے عدلیہ کی آزادی کو بے تحاشہ نقصان پہنچے گا جبکہ عدلیہ بنیادی انسانی حقوق اور جمہوریت کی اساس ہے۔

انہوں نے اپنے استعفے میں مزید کہا کہ گزشتہ روز انہیں میڈیا رپورٹس سے معلوم ہوا کہ وفاق نے آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے سینئر ججز کے خلاف بے ضابطگیوں سے متعلق سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا ہے، جس کی تصدیق مجھے ایک سرکاری عہدیدار نے بھی کی۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے اس اقدام کے بعد میں اپنے دفتر میں کام جاری نہیں رکھ سکوں گا اور اس لیے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے عہدے سے مستعفی ہورہا ہوں، میرے استعفے کو فوری طور پر منظور کیا جائے۔