شام: گول کیپر سے باغی بننے والا فٹبالر فوجی کارروائی کے دوران ہلاک

اپ ڈیٹ 09 جون 2019

ای میل

عبدالباسط نے دستاویزی فلم میں کام کیا تھا جسے ایوارڈ دیا گیا — فائل فوٹو: اے پی
عبدالباسط نے دستاویزی فلم میں کام کیا تھا جسے ایوارڈ دیا گیا — فائل فوٹو: اے پی

گول کیپر سے باغی بننے والا فٹبالر جسے ایوارڈ یافتہ ڈاکومینٹری میں کام کرنے کا بھی اعزاز حاصل ہے، شمال مغربی شام میں ہونے والی جھڑپوں کے دوران فورسز کی فائرنگ سے زخمی ہونے کے بعد ہلاک ہوگیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق 27 سالہ باغی عبدالباسط السروت کی تنظیم کا کہنا ہے کہ سابق فٹبالر خطہ ادلب میں ہونی والی جھڑپوں میں ملوث درجنوں جنگجوؤں میں شامل تھے۔

واضح رہے کہ یہ خطہ شام کی سابق القاعدہ کے اتحادیوں کے زیر تسلط ہے جو ایک معاہدے کے تحت محفوظ سمجھا جاتا تھا تاہم گزشتہ ایک ہفتے کے دوران یہاں بمباری دیکھنے میں آئی۔

مزید پڑھیں: لنزی لوہان پر شامی مہاجر بچوں کو اغوا کرنے کا الزام

عبدالباسط شامی شہر ہومز کی فٹبال ٹیم کا حصہ تھے جبکہ وہ 2011 میں شروع ہونے والی خانہ جنگی کے دوران مشہور گلوکار کے طور پر بھی سامنے آئے۔

حکومت کی جانب سے مظاہرین کے خلاف بشار الاسد کی فورسز کے کریک ڈاؤن کے بعد عبدالباسط السروت نے ہتھیار اٹھا لیے تھے۔

شامی ڈائریکٹر طلال ڈیرکی کی جانب سے ’ریٹرن ٹو ہومز‘ کے نام سے ایک دستاویزی فلم بنائی گئی جس میں السروت نے بھی کام کیا تھا، اس دستاویزی فلم کو سنڈینس فلم فیسٹیول 2014 میں بہترین دستاویزی فلم کا ایوارڈ دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: شامی کرد ملیشیا سے متعلق امریکی مشیر کا بیان ’سنگین غلطی‘ ہے، اردوان

باغی تنظیم جیش العزہ کے کمانڈر جمیل ال صالح نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں فٹبالر عبدالباسط السروت کی ہلاکت کا اعلان کیا تھا جسے انہوں نے ’شہید‘ قرار دیا۔

اس کے علاوہ انہوں نے اپنے پیغام میں ایک ویڈیو بھی جاری کی جس میں السروت کو گانا گاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

خیال رہے کہ چند روز قبل برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم سیرین آبزرویٹری نے دعویٰ کیا تھا کہ شام میں القاعدہ سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں اور شامی فورسز کے مابین جھڑپ میں 24 گھنٹوں کے دوران مجموعی طور پر تقریباً 83 افراد ہلاک ہوگئے۔