مالی سال 19-2018: ٹیکس مراعات 9 کھرب 72 ارب کی خطرناک سطح سے متجاوز

اپ ڈیٹ 11 جون 2019

ای میل

پاکستان تحریک انصاف نے اقتدار سنبھالتے ہی 2 مالیاتی بل پیش کر کے کچھ ٹیکس مراعات واپس دے دی تھیں — فائل فوٹو/اے ایف پی
پاکستان تحریک انصاف نے اقتدار سنبھالتے ہی 2 مالیاتی بل پیش کر کے کچھ ٹیکس مراعات واپس دے دی تھیں — فائل فوٹو/اے ایف پی

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے آئندہ چند روز میں اختتام پذیر ہونے والے مالی سال میں ٹیکس مراعات میں 80 فیصد اضافے کے بعد اسے 9 کھرب 72 ارب 40 کروڑ روپے کی سطح پر پہنچا دیا جو اس سے قبل کے مالی سال میں 5 کھرب 40 ارب 98 کروڑ روپے تھیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ اعداد و شمار حکومت کے جاری کردہ اقتصادی جائزہ رپورٹ برائے 19-2018 میں فراہم کیے گئے، پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اپریل 2018 میں اپنے پیش کردہ آخری بجٹ میں تمام شعبوں سمیت اہم شخصیات سے بھی ٹیکس استثنیٰ واپس لے لیا تھا۔

تاہم بجٹ کے اعلان کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اقتدار سنبھالتے ہی 2 مالیاتی بل پیش کر کے کچھ ٹیکس مراعات واپس دے دی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: ریونیو میں اضافے کیلئے سبسڈائز اشیا پر بھی ٹیکس عائد کرنے کا منصوبہ

عالمی مالیاتی فنڈ کے گذشتہ بیل آؤٹ پیکج کا حصہ ہونے کی وجہ سے مجموعی طور پر ٹیکس مراعات مستحکم طریقے سے کم ہوئیں لیکن آئی ایم ایف پروگرام کے مکمل ہوتے ہی یہ رجحان دوبارہ لوٹ آیا اور حکومت نے کچھ صنعتوں اور شخصیات کو متعدد مراعات فراہم کیں۔

پاکستان مسلم لیگ کے دورِ حکومت میں 2016-2013 کے درمیان قانونی ریگولیٹری احکامات (ایس آر اوز) ختم کرنے کے 3 ادوار کے باجود ٹیکس مراعات میں اضافہ ہوا اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ان اعداد و شمار کو 4 کھرب 77 ارب 10 کروڑ روپے تک پہنچادیا تھا تاہم ایس آر اوز کی ذریعے دی گئی، ایک کھرب 5 ارب روپے کی ٹیکس مراعات کو 15-2014 میں واپس لے لیا گیا تھا۔

مالی سال 16-2015 کے اختتام تک ٹیکسز میں چھوٹ کی لاگت کم ہو کر 3 کھرب 94 ارب 59 کروڑ روپے رہ گئی تھی جو مالی سال 2017 میں ایک مرتبہ پھر 4 کھرب 15 ارب 75 کروڑ روپے کی سطح تک بلند ہوئی۔

مزید پڑھیں: بینک ٹرانزیکشنز پر ٹیکس کی حد میں ردو بدل نہیں کیا گیا، وفاقی وزیر

ٹیکس استثنیٰ یا ٹیکس مراعات ریاست کی جانب سے مختلف کیٹيگریز کے تحت صنعتوں اور گروہوں کو آمدن کے لیے محصولات میں دی جانے والی چھوٹ ہے۔

اس ضمن میں انکم ٹیکس میں دی گئی چھوٹ 19-2018 کے دوران ایک کھرب 41 ارب 64 کروڑ 50 لاکھ روپے تک بلند ہوئی جو اس سے قبل 61 ارب 77 ارب روپے تھی یعنی اس میں سال بہ سال کے اعتبار سے 129.3 فیصد اضافہ ہوا۔

اسی لیے آزادانہ توانائی بنانے والوں نے استثنیٰ کاروباری آمدنی کی وجہ سے ریونیو میں 18 ارب 3 کروڑ روپے نقصان کا تخمینہ لگایا جبکہ غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کی دیا گئی ٹیکس کریڈٹ تقریباً 14 ارب روپے رہا۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کا آمدنی میں اضافے کیلئے ٹیکس کی شرح بڑھانے پر غور

علاوہ ازیں 5 ارب 48 کروڑ روپے کا ٹیکس کریڈٹ نئے صنعتی ادارے قائم کرنے پر دیا گیا اس کے ساتھ جولائی 2011 سے قبل لگائے گئے صنعتی اداروں کو بھی 6 ارب 45 کروڑ روپے کا ٹیکس کریڈٹ فراہم کیا گیا۔

سیلز ٹیکس کی چھوٹ میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا اور یہ مالی سال 19-2018 میں 5 کھرب 97 ارب روپے 70 کروڑ روپے تک جاپہنچا جو ایک سال قبل 2 کھرب 81 ارب 5 کروڑ تھا۔