’حکومت جاتی ہے تو جائے،بجٹ منظور نہیں ہونے دیں گے‘، بلاول، مریم ملاقات میں اتفاق

اپ ڈیٹ 16 جون 2019

ای میل

مریم نواز نے بلاول بھٹو اور ان کے وفد کا استقبال کیا — فوٹو: ڈان نیوز
مریم نواز نے بلاول بھٹو اور ان کے وفد کا استقبال کیا — فوٹو: ڈان نیوز
مریم نواز نے بلاول بھٹو اور ان کے وفد کا استقبال کیا — فوٹو: ڈان نیوز
مریم نواز نے بلاول بھٹو اور ان کے وفد کا استقبال کیا — فوٹو: ڈان نیوز

لاہور: چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ ہم نے حکومت کو بہت مواقع دیے کہ وہ عوام دوست بجٹ پیش کرے، مریم نواز سے ملاقات کے دوران یہ طے پایا ہے کہ ’اب حکومت جاتی ہے تو جائے، عوام دشمن بجٹ منظور نہیں ہونے دیں گے‘۔

جاتی امرا میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ عوام اور جمہوریت کی خاطر آواز اٹھائیں گے، مہنگائی کے خلاف سڑکوں پر نکلیں گے اور 21 جون کو نواب شاہ جلسے سے مہم شروع کروں گا۔

انہوں نے بتایا کہ مولانافضل الرحمٰن سے اسلام آباد میں ملاقات طے ہے، جس میں بجٹ روکنے اور آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلانےسے متعلق گفتگو ہوگی۔

بلاول بھٹو نے مریم نواز سے ملاقات کے بارے میں میڈیا کو بتایا کہ ہمارے درمیان یہ طے پایا ہے کہ بجٹ منظور نہیں ہونے دیا جائے گا، ملاقات میں مہنگائی اور عوام دشمن بجٹ پر بات ہوئی۔

ملاقات میں اے پی سی میں دونوں جماعتوں کے ایک بیانیہ پر بھی غور متوقع ہے — فوٹو: ڈان نیوز
ملاقات میں اے پی سی میں دونوں جماعتوں کے ایک بیانیہ پر بھی غور متوقع ہے — فوٹو: ڈان نیوز

انہوں نے کہا کہ مریم نواز کو پنجاب کے عوام کے دکھوں کا احساس ہے، ہم امید کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ چلیں گی۔

بلاول، مریم ملاقات کا اعلامیہ

پاکستان مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر مریم نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو کی ملاقات کے حوالے سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق دونوں رہنماؤں نے موجودہ ملکی صورتحال پر غور کیا۔

ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ملک کا ہر شعبہ ہائے زندگی زوال کا شکار ہے، پاکستان کو عالمی اداروں کے پاس گروی رکھ دینے اور قومی ادارے غیروں کے سپرد کرنے کے باوجود صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے۔

ملاقات میں تبادلہ خیال کیا گیا کہ روپے کی مسلسل گرتی ہوئی قدر ،افراطِ زر کی بڑھتی ہوئی شرح،10 ماہ میں ریکارڈ قرضوں کے باوجود زرمبادلہ کے کمزور ہوتے ذخائر، اسٹاک ایکسچینج کی بحرانی صورت حال ، قومی شرح نمو ( جی ڈی پی ) کانصف رہ جانا، بیرونی اور اندرونی سرمایہ کاری کا رُک جانا، ترقیاتی منصوبوں پر کام کا خاتمہ، سی پیک کی سُست رفتاری ، حکومتی دعووں اور قومی سطح پر چھائی مایوسی و بے یقینی نے پاکستان کو بحران میں مبتلا کردیا ہے اور بہتری کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ 10 ماہ میں دو منی بجٹ دینے کے بعد حکومت کے پہلے قومی بجٹ نے نہ صرف معیشت کے سنبھلنے کے تمام امکانات ختم کردیے بلکہ عام آدمی پر ٹیکسوں اور مہنگائی کا ناقابل برداشت بوجھ لاد دیا ہے.

ملاقات کے دوران چئیرمین نیب کی یک طرفہ انتقامی کارروائیوں اور حکومتی ملی بھگت کے ساتھ اپوزیشن کے ساتھ ٹارگٹڈ سلوک پر بھی غور کیا گیا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ نیب کے جعلی، بے بنیاد اور من گھڑت مقدمات کے حوالے سے عدالتوں کے طرز عمل پر بھی غور کیا گیا۔

ملاقات میں مولانا فضل الرحمٰن کی مجوزہ آل پارٹیز کانفرنس اور دونوں جماعتوں کے مشترکہ لائحہ عمل پر بھی بات ہوئی۔

بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز نے اتفاق کیا کہ موجودہ غیر نمائندہ حکومت عوام کے حقیقی مینڈیٹ کی ترجمانی نہیں کرتی۔

ملاقات میں بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان 2006 میں طے پانے والے میثاق جمہوریت کا ذکر بھی آیا، دونوں رہنماؤں نے اسے ایک اہم دستاویز قرار دیتے ہوئے نئے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت محسوس کی۔

انہوں نے عوام کی مشکلات اور نااہل حکومت کی عوام دشمن سرگرمیوں کے حوالے سے احتجاجی تحریک کی پارلیمان کے اندر اور باہر مشترکہ حکمتی عملی پر بھی بات چیت کی۔

ملاقات میں بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزیوں، میڈیا کی آزادی سلب کرنے، صحافیوں پر حملوں، اپوزیشن کی آواز دبانے کے لیے سخت گیر ہتھکنڈوں اور سنسر شپ کی مذمت کی گئی ۔

اس امر پر اتفاق پایا گیا کہ موجودہ نااہل اور غیر نمائندہ حکومت کا جاری رہنا عوام اور ملک کو تباہی و بربادی اور ایسے المیے سے دو چار کر سکتا ہے جس کی تلافی ممکن نہیں ہوگی۔

بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز شریف نے اتفاق کیا کہ آج کی ملاقات کے دوران سامنے آنے والی تجاویز کو دونوں جماعتوں کے رہنماﺅں سے مشاورت کے بعد حتمی شکل دی جائے گی۔

دونوں رہنماﺅں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ اپوزیشن کے ایک مشترکہ لائحہ عمل کے لیے تمام اپوزیشن جماعتوں کے قائدین سے بات کی جائے گی اور اُن جماعتوں کو مکمل اعتماد میں لیا جائے گا۔

مشترکہ حکمت عملی کا دائرہ اُن سیاسی جماعتوں تک بھی پھیلایا جائے گا جنہوں نے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے قیام میں اُسے ووٹ دیا تھا یا اُس کی اتحادی جماعت میں شامل ہے لیکن وہ بھی حکومتی پالیسوں سے اتفاق نہیں کررہے۔

دونوں رہنماﺅں کی جانب سے جج صاحبان کے خلاف حکومت کی جانب سے ریفرنس دائر کرنے کی شدید مذمت کی گئی اور یفرنس واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان کے خلاف ریفرنس بدنیتی پر مبنی اور عدلیہ کی آزادی پر حملہ ہے۔

دونوں جماعتوں نے عدلیہ کی آزادی اور خود مختاری کے لیے بھر پور جدوجہد جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

مریم نواز اور بلاول بھٹو نے اسپیکر قومی اسمبلی سے گرفتار ارکانِ قومی اسمبلی کے پروڈکشن آڈر جاری کرنے کا مطالبہ کیا اور اسپیکر سے جانبدارانہ رویہ ترک کرنے کی درخواست کی گئی۔

قبل ازیں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز کی دعوت پر ان سے ملاقات کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری رائے ونڈ میں جاتی امرا پہنچے تھے۔

پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو کے ساتھ پارٹی کے دیگر رہنما مصطفیٰ نواز کھوکھر، قمر زمان کائرہ، چوہدری منظور اور حسن مرتضیٰ بھی موجود تھے۔

مریم نواز نے بلاول بھٹو اور ان کے وفد کا استقبال کیا، مسلم لیگ کے وفد میں رانا ثنااللہ خان، مریم اورنگزیب، پرویز رشید، سردار ایاز صادق اور محمد زبیر شامل تھے۔

اس سے قبل میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے پی پی پی کے رہنما چوہدری منظور نے کہا کہ اپوزیشن رہنماؤں کی ملاقاتوں سے حکومت حواس باختہ ہوچکی ہے اور اپوزیشن کی ممکنہ احتجاجی تحریک کی وجہ سے حکومت گرفتاریاں کررہی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ملاقاتیں اپوزیشن کی سیاسی روایات کا ایک حصہ ہیں، پی پی سمجھتی ہے اپوزیشن جماعتوں کو مشترکہ کردار ادا کرنا چاہیے۔

مزید پڑھیں: جتنا دباؤ ڈالنا ہے ڈال لو، پیپلز پارٹی ڈرنے والی نہیں، بلاول بھٹو

گذشتہ روز پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو 16 جون کو ملاقات کی دعوت دی تھی۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے بتایا تھا کہ بلال بھٹو زرداری نے دعوت کو قبول کیا ہے اور وہ اتوار کی سہ پہر میں رائے ونڈ جائیں گے۔

ساتھ ہی اس بات کی تصدیق کی گئی تھی کہ اس ملاقات میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے کچھ دیگر اہم رہنما بھی شریک ہوں گے۔

بعد ازاں مریم نواز نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اور بلاول کی ملاقات نواز شریف اور شہباز شریف کی اجازت سے ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ پارٹی کے تمام فیصلے نواز شریف اور شہباز شریف سمیت پارٹی کے لوگوں سے مشاورت سے کیے جاتے ہیں، جبکہ پارٹی کے اصول اور قواعد و ضوابط کی پاسداری مجھ پر بھی لازم ہے۔

بعد ازاں لاہور میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مریم نواز سے ملاقات سے متعلق سوال پر چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ مریم نواز نے ظہرانے کی دعوت دی ہے، جسے میں قبول کروں گا، پاکستان کے اتنے مسائل ہیں کہ سب نے مل کر اس کا حل نکالنا ہے، سب نے مل کر معاشی، انسانی و جمہوری حقوق کو تحفظ پہنچانا ہے، ہم سب نے مل کر پی ٹی آئی، آئی ایم ایف کے بجٹ کو روکنا ہے اور ملک کو معاشی خود کشی سے بچانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان دعا کریں اگلی حکومت پیپلزپارٹی کی بنے، بلاول بھٹو

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کا مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کے ساتھ نظریاتی معاملات ہیں لیکن ملکی مفاد میں مل کر کام کرنے کو تیار ہیں مگر یہ کٹھ پتلی حکومت اصل میں سنجیدہ نہیں، لہٰذا پھر ان سے بات کروں گا جو عوام کے حقوق کے تحفظ میں سنجیدہ ہیں۔