مالی سال 20-2019: بلوچستان کیلئے 419 ارب روپے سے زائد کا بجٹ پیش

اپ ڈیٹ 19 جون 2019

ای میل

بجٹ سیشن کے دوران اپوزیشن اراکین کی جانب سے احتجاج کیا گیا — فوٹو: ڈان نیوز
بجٹ سیشن کے دوران اپوزیشن اراکین کی جانب سے احتجاج کیا گیا — فوٹو: ڈان نیوز

بلوچستان کے وزیر خزانہ ظہور بلیدی نے آئندہ مالی سال کے لیے صوبے کا 419 ارب روپے سے زائد کا بجٹ پیش کر دیا۔

اسپیکر عبدالقدوس بزنجو کی زیر صدارت بلوچستان اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبائی وزیر خزانہ ظہور بلیدی نے کابینہ سے منظور شدہ بجٹ پیش کیا۔

صوبہ بلوچستان کے بجٹ کا تخمینہ 419 ارب سے زائد ہے جبکہ بجٹ خسارہ 47 ارب روپے طے کیا گیا ہے۔

مالی سال 20-2019 میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے 108 ارب روپے اور غیر ترقیاتی منصوبوں کے لیے 291 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

صوبائی بجٹ کے مطابق وفاق سے 339 ارب روپے محصولات کی مد میں وصول ہوں گے جبکہ کیپٹل محصولات کے ذریعے 10 ارب 8 کروڑ روپے حاصل کیے جائیں گے۔

ظہور بلیدی نے کہا کہ رواں مالی سال کے لیے کرنٹ ریونیو اخراجات کا تخمینہ 257 ارب 43 کروڑ 50 لاکھ روپے، کرنٹ کیپٹل اخراجات کا تخمینہ 36 ارب 14 کروڑ 40 لاکھ روپے، وفاق کے تعاون سے مکمل کیے جانے والے منصوبوں کے لیے 18 ارب 21 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

بجٹ میں غیر ملکی معاونت کا تخمینہ 7 ارب 56 کروڑ 11 لاکھ طے کیا گیا ہے۔

مالی سال 20-2019 کے بجٹ میں تعلیم کے لیے 55 ارب 72 کروڑ روپے اور ہائر ایجوکیشن کے لیے 14 ارب 95 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

بجٹ میں صحت کے شعبے میں 34 ارب 18 کروڑ روپے، پانی کے منصوبوں کے لیے 28 ارب روپے، امن و امان کے لیے 44 ارب 70 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

صوبائی بجٹ میں 150 نئے وفاقی منصوبے اور غیر ملکی تعاون سے 100 منصوبے بھی شامل ہیں۔

بلوچستان اسمبلی میں بجٹ سیشن کے دوران بلوچستان نیشنل پارٹی، جمعیت علمائے اسلام (ف)، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے اراکین کی جانب سے احتجاج کیا گیا۔

اس دوران سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی نے بھی اپوزیشن کی حمایت کی اور بجٹ کی مخالفت کی۔

اسمبلی اجلاس کے دوران اپوزیشن اراکین نے بجٹ کی کاپیاں اور دستاویز پھاڑ دیں، تاہم وزیر خزانہ بلوچستان ظہور بلیدی نے اسمبلی میں ہنگامہ آرائی کے باوجود بجٹ تقریر جاری رکھی۔

بعد ازاں بلوچستان اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نواب اسلم رئیسانی نے کہا کہ یہ عوام مخالف بجٹ ہے۔

صوبائی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ملک سکندر ایڈووکیٹ نے کہا کہ اجلاس دو گھنٹے سے زائد تاخیر کے بعد شروع ہوا کیونکہ اپوزیشن اراکین بجٹ کی کاپیاں بروقت نہ ملنے پر احتجاج کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اس بجٹ کے بعد صوبے میں ترقی کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔

بی این پی (مینگل) کے رکن صوبائی اسمبلی ثنااللہ بلوچ نے کہا کہ حکمران اس بجٹ میں عوام کے بنیادی مسائل کو شامل کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں۔