امریکی سینیٹ نے سعودی عرب کو اسلحہ فروخت کرنے کی مخالفت کردی

اپ ڈیٹ 21 جون 2019

ای میل

سینیٹرز کا کہنا تھا کانگریس کو دباؤ میں لانے کی کوئی قانونی وجہ نہیں تھی — فائل فوٹو/سی این این
سینیٹرز کا کہنا تھا کانگریس کو دباؤ میں لانے کی کوئی قانونی وجہ نہیں تھی — فائل فوٹو/سی این این

واشنگٹن: ریپبلکن اراکین کی اکثریت پر مشتمل امریکی سینیٹ نے سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کو 8 ارب 10 کروڑ ڈالر کے ہتھیار فروخت کرنے کی مخالفت کردی۔

امریکی صدر کی جانب سے اعلان کردہ ہتھیاروں کی فروخت روکنے کے لیے پیش کی گئیں 3 قراردادوں کی حمایت کے لیے 7 ریپبلکن اراکین نے ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا۔

اس اقدام سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اردن کو جنگی طیاروں کے پرزہ جات، گولہ بارود اور دیگر ہتھیاروں کی فروخت رک جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: کانگریس کے اعتراض کے باوجود ٹرمپ عرب ممالک کو ہتھیار فروخت کرنے کیلئے تیار

مذکورہ ووٹس اس وقت یقینی ہوگئے جب ریپلکن قیادت نے اسلحہ کی فروخت کے لیے حساس رول کال پر رضا مندی کا اظہار کیا۔

خیال رہے کہ ٹرمپ حکومت نے مشرق وسطیٰ کے استحکام کے لیے ایران کو بنیادی خطرہ قرار دیتے ہوئے اسلحہ فروخت کی منظوری کے لیے کانگریس کو بائی پاس کیا تھا۔

اس حوالے سے مائیک پومپیو نے کہا تھا کہ حکومت ایران کی جانب سے یمن میں حوثی باغیوں کی حمایت کرنے کے باعث پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال پر ردِ عمل دے رہی ہے۔

مزید پڑھیں: حکومت سعودی عرب کو ہتھیاروں کے فروخت کے فیصلے پر نظرثانی کرے،برطانوی عدالت

اس ضمن میں ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے کچھ اور دیگر سینیٹرز کا کہنا تھا کانگریس کو دباؤ میں لانے کی کوئی قانونی وجہ نہیں تھی جس کے پاس اسلحہ فروخت کو نامنظور کرنے کا پورا اختیار ہے۔

دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کے وفادار سینیٹر لنڈسے گراہم نے سعودی قیادت اور اسلحے کی فروخت کی کھلم کھلا مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ’امید ہے اس ووٹ سے ’سعودی عرب کو اشارہ مل گیا ہوگا کہ اگر آپ وہی کرتے رہے جو کررہے ہیں تو اسٹریٹیجک رابطوں کی کوئی جگہ نہیں ہوگی‘۔

سینیٹر کا اشارہ گذشتہ برس ترکی میں واقع سعودی قونصلیٹ میں قتل کیے گئے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے معاملے کی جانب تھا۔

یہ بھی پڑھیں: برطانوی اسلحہ کی برآمدات روکنے سے ایران کو فائدہ ہوگا، سعودی عرب

سینیٹر کا مزید کہنا تھا کہ ’آپ جتنا بھی تیل پیدا کرلیں، مجھے اور دیگر افراد کو اس پر قائل نہیں کرسکتے کہ آپ کو قونصلیٹ میں کسی شخص کے ٹکڑے کرنے کی اجازت دے دی جائے‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’نہ ہی ایران سے اتنا خطرہ لاحق ہوا ہے جو میں اس سفاکانہ اور وحشیانہ رویے کو نظرانداز کردوں‘۔


یہ خبر 21 جون 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔