وائٹ ہاؤس ’ذہنی معذور‘ ہے، نئی پابندیاں مسترد کرتےہیں، ایرانی صدر

اپ ڈیٹ 25 جون 2019

ای میل

ایرانی صدر نے اعلان کردہ نئی پابندیوں کو امریکی مایوسی سے تشبہی دی—فائل فوٹو: رائٹرز
ایرانی صدر نے اعلان کردہ نئی پابندیوں کو امریکی مایوسی سے تشبہی دی—فائل فوٹو: رائٹرز

ایران کے صدر حسن روحانی نے امریکا کی جانب سے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای پرنئی پابندیوں کو مسترد کردیا۔

غیرملکی خبررساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق حسن روحانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ (وائٹ ہاؤس) کو ایک مرتبہ پھر ذہنی طور پر بیمار قرار دے دیا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر نے ایران پر مزید پابندیوں کے حکم نامے پر دستخط کردیئے

ایرانی صدر نے سرکاری ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای پر پابندیاں ناکامی سے دو چار ہوں گی کیونکہ ان کے بیرون ملک کوئی اثاثے نہیں ہیں۔

انہوں نے اعلان کردہ نئی پابندیوں کو امریکی مایوسی سے تشبیہ دی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’وائٹ ہاؤس کے اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ذہنی طور پر معذوری کا شکار ہے، تاہم تہران کے بردارشت کو اس کا خوف تصور نہ کیا جائے‘۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور فوجی کمانڈروں پر مالی پابندیوں سے متعلق حکم نامے پر دستخط کیے تھے۔

مزیدپڑھیں: ایران: پاسداران انقلاب کا امریکی جاسوس ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے سپریم لیڈر جارحیت کے ذمہ دار ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ امریکا، ایران کے ساتھ تنازع نہیں چاہتا لیکن جوہری ہتھیاروں کی تیاری اور دہشت گرد گروہوں کی حمایت سے روکنے کے لیے دباؤ ڈالتا رہے گا۔

خیال رہے کہ چند روز قبل ایران کی پاسداران انقلاب نے جنوبی ساحلی پٹی پر امریکی جاسوس ڈرون مار گرایا تھا۔

پاسداران انقلاب کے اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ کوہ مبارک نامی حصے میں ایرانی فضائیہ نے امریکی ساختہ گلوبل ہاک ڈرون کو ملک کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر نشانہ بنایا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ایران نے امریکی سائبر حملوں کا دعویٰ مسترد کردیا

دوسری جانب امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے تصدیق کی تھی کہ ایرانی فورسز نے نگرانی پر مامور امریکی نیوی کے ڈرون آر کیو-4 گلوبل ہاک مار گرایا ہے، تاہم ان کا اصرار تھا کہ ڈرون کو بین الاقوامی فضائی حدود میں بلاوجہ نشانہ بنایا گیا۔

واضح رہے کہ امریکا نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر تنازع میں شدت کے بعد تہران کو دباؤ میں لانے کے لیے خلیج فارس میں بی 52 بمبار سمیت متعدد طیارے اور جنگی بحری بیڑا اتارنے کے بعد اسالٹ شپ اور پیٹرائٹ میزائل دفاعی نظام تعینات کیے تھے۔

گزشتہ ایک ماہ کے اندر امریکا، مشرق وسطیٰ میں مرحلہ وار ڈھائی ہزار فوجیوں کی تعیناتی کا اعلان کرچکا ہے۔