وزیر اعظم دورہ امریکا کے دوران مہنگے ہوٹلز میں نہ رہنے کے خواہش مند

اپ ڈیٹ 08 جولائ 2019

ای میل

عمران کی خواہش کی امریکا کے خفیہ ادارے سمیت واشنگٹن کی شہری انتظامیہ نے بھی مخالفت کردی۔ — فائل فوٹو/عمران خان انسٹاگرام اکاؤنٹ
عمران کی خواہش کی امریکا کے خفیہ ادارے سمیت واشنگٹن کی شہری انتظامیہ نے بھی مخالفت کردی۔ — فائل فوٹو/عمران خان انسٹاگرام اکاؤنٹ

واشنگٹن: اسلام آباد میں موجود حکام نے امریکا میں پاکستانی سفارتخانے کو آگاہ کیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اپنے 3 روزہ دورہ امریکا کے دوران مہنگے ہوٹلوں کے بجائے پاکستانی سفارتخانے کے عہدیدار کی رہائش گاہ میں قیام کے خواہش مند ہیں۔

عمران خان کے دورے میں پاکستانی سفیر کی رہائش گاہ میں قیام سے دورے کے اخراجات میں کمی آئے گی، تاہم امریکا کے خفیہ ادارے سمیت شہری انتظامیہ نے اس خواہش کی مخالفت کی ہے۔

وزیر اعظم عمران خان کی واشنگٹن آمد پر امریکی خفیہ ادارے ان کی سیکیورٹی کی ذمہ داری سنبھالیں گے جبکہ شہری انتظامیہ اس بات کی یقین دہانی کرائے گی کہ ان کے دورے سے واشنگٹن کا ٹریفک متاثر نہ ہو۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم عمران خان 22 جولائی کو امریکی صدر سے ملاقات کریں گے

خیال رہے کہ امریکی دارالحکومت میں ہر سال کئی ممالک کے صدر اور وزیر اعظم دورہ کرتے ہیں امریکی وفاقی حکومت، شہری انتظامیہ کے ساتھ مل کر اس بات کی یقین دہانی کرواتی ہے کہ ان کے دورے سے شہریوں کی زندگی پر اثر نہ پڑے۔

دوسری جانب امریکا میں پاکستانی سفیر کی رہائش گاہ شہر کے درمیان واشنگٹن کے ڈپلومیٹک انکلیو میں قائم ہے، اس کے اطراف بھارت، ترکی اور جاپان سمیت کئی ممالک کے سفارتخانے ہیں جبکہ برازیل، برطانیہ اور جنوبی افریقہ کا سفارتخانہ بھی اس انکلیو سے زیادہ دور نہیں ہے۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان اپنے دورہ امریکا کے دوران مختلف امریکی عہدیداروں، قانون سازوں، میڈیا اور تھنک ٹینک کے نمائندوں سے ملاقاتیں کریں گے۔

ان ملاقاتوں کے لیے سفارتخانے کی رہائش گاہ میں اتنی جگہ موجود نہیں ہے، لہٰذا ان سب ملاقاتوں کے لیے وزیر اعظم کو اپنے مہمانوں سے پاکستانی سفارتخانے میں ملاقات کرنی ہوگی جو واشنگٹن کی مصروف ترین شاہراہ پر قائم ہے۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اہلخانہ کے چند افراد کی رہائش گاہ بھی سفیر کی رہائش گاہ اور سفارتخانے کے درمیان قائم ہے، تاہم عمران خان کے 3 روزہ دورے کے دوران سڑکوں کی بندش سے دیگر رہائشیوں سمیت متعدد سفیروں کو آنے جانے میں مشکلات کا سامنا رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کی دعوت، آئندہ ماہ عمران خان کا دورہ امریکا متوقع

واضح رہے کہ اس تمام صورتحال کی وجہ سے ریاستوں کے سربراہان ہوٹلوں میں قیام کرتے ہیں کیونکہ وہاں ایسے وی وی آئی پیز کے لیے خصوصی انتظامات موجود ہیں، ان ہوٹلوں میں سب سے مشہور ولارڈ انٹر کونٹیننٹل ہوٹل ہے جو وائٹ ہاؤس سے تھوڑے ہی فاصلے پر قائم ہے جبکہ دیگر میں فور سیزنز ہوٹل، جارج ٹاؤن ہوٹل اور رٹز کارلٹن ہوٹل واشنگٹن ڈی سی شامل ہے۔

تاہم جو افراد اپنے اخراجات میں کمی چاہتے ہیں وہ وارڈ مین پارک میریٹ ہوٹل میں بھی قیام کرتے ہیں جو پاکستانی سفارتخانے سے نہایت نزدیک ہے، ان تمام ہوٹلوں میں وی وی آئی پی سیکشن موجود ہے جس کے لیے علیحدہ لفٹ اور داخلے اور اخراج کے مقامات ہیں۔

اس کے ذریعے امریکی خفیہ ایجنسی کو اپنے مہمان کی حفاظت کرنے میں آسانی ہوتی ہے تاہم اگر عمران خان چاہیں تو وہ ہوٹل کو چھوڑ کر واشنگٹن کے درمیان میں امیر ترین پاکستانی تارکین وطن کے گھروں میں بھی قیام کرسکتے ہیں۔

ان تمام گھروں کی دیواریں اونچی ہیں اور انہیں محفوظ بنانا آسان ہے جبکہ یہاں سے روز صبح واشنگٹن جانا اور پاکستانی سفارتخانے میں ملاقاتیں کرنا بھی آسان ہوگا۔

تاہم امریکی خفیہ ادارے کے لیے ایک اور درد سر یہ ہے کہ پاکستانی سفارتخانے کی دیوار اسرائیلی سفارتخانے سے ملتی ہے جو اعلیٰ سیکیورٹی زون ہے۔


یہ خبر ڈان اخبار میں 8 جولائی 2019 کو شائع ہوئی